وہاڑی : پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ یو ٹرن لینا عمران خان کی خصلت ہے، کسی معاملے پر عمران خان کو گرفتار کرنا وزیر داخلہ کا اختیار ہے، مردم شماری پر سندھ کو اعتراض ہے۔
وہاڑی میں پریس کانفرنس کرتے سابق صدر نے کہا کہ ضلع وہاڑی کا پہلا دورہ ہے، ذاتی تعلقات پہلے سے ہیں، سیاسی تعلقات میں اضافہ کر رہے ہیں، ہمیں حالات کا پتا تھا کہ معیشت کیسی ہے، لیکن ملک کو بچانا تھا، عمران خان ملک کے تمام ادارے فروخت کرنا چاہتا تھا، اقتدار میں آکر ملک کو بچا لیا ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں سے بات چیت ہوسکتی ہے، عمران خان غیر سیاسی شخص ہے، اس سے بات نہیں کر سکتے، سیاست میں جفا کشی کرنا پڑتی ہے، عمران خان جفا کشی کا عادی نہیں۔
شریک چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران خان عدالتوں کا سامنا کرتے ہوئے ڈرتا ہے، سیاستدان نہ عدالتوں سےگھبراتا ہے نہ جیلوں سے۔آصف زرداری نے مزید کہا کہ راجن پور کا الیکشن پی ٹی آئی نے مقبولیت کے بجائے مہنگائی کی وجہ سے جیتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جس پوری قوم کو ٹھیک کرنا اور سنبھالنا ہے، ملٹری مائنڈ سیٹ کو سنبھالنا ہے اسی طرح عدلیہ کو بھی سنبھالنا اور بات کرنی ہے۔
عدلیہ پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی ہم سے ہی ہیں، وہ بھی ہم میں سے گئے ہوئے لوگ ہیں، پہلے وکیل تھے اور اب جج بن گئے ہیں۔
حکومت سنبھالنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں پتا نہیں تھا کہ حالات کیا ہیں، ہمیں پتا تھا کہ معاشی خرابی ہو رہی ہے لیکن اس کو نہیں پتا تھا جو چلا گیا، اس کو احساس نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ بڑا آسان تھا کہ ہم دو مہینے انتظار کرتے اور پھر انتخابات کراتے مگر اس نے کچھ کام ایسے کرنے تھے، جس سے ہمیں انہیں روکنا تھا، ورنہ اگر وہ کام کرلیتا تو قوم بیچ دیتا، ہر جگہ بیچنے کے موڈ میں ہے، اس کی عادت ہے کوئی خریدار ہو، یہ تو دھرتی ہے ہم بیچ نہیں سکتے اور نہ کسی کو دے سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو کی جانب سے وزارتیں چھوڑنے کی دھمکی سے متعلق سوال پر سابق صدر نے کہا کہ بلاول جوان آدمی ہے اور ان کو غصہ بڑی جلدی آتا ہے، ہم غصہ پینے کے عادی ہیں، وہ ایسی چیزوں پر یقین نہیں رکھتا بلکہ کہتا ہے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا تو پیسے کہاں ہے، یا تو کرتے نہیں، اب کیا ہے تو آپ کیوں نہیں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران تو خود کہتا ہے میں یوٹرن کرتا ہوں اور یوٹرن کرنا میری خصلت ہے تو ایک سیاسی آدمی زبان دے دیتا ہے تو پھر یوٹرن کیسے ہوگا، یہ کہتا ہے یوٹرن اچھا ہوتا ہے، اگر ہٹلر کرتا تو یہ ہوتا، نپولین کرتا وہ ہوتا، جس نے نپولین اور ہٹلر پر ایک کتاب پڑھی ہوتی ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔
عمران خان کو گرفتار کرنے سے روکنے کے تاثر پر انہوں نے کہا کہ یہ کام وزیر داخلہ کا ہے، اس میں مداخلت کیوں کروں، یہ وزیر داخلہ کا کام ہے، وہ مجھ سے کیوں پوچھیں گے، جو کرنا ہوگا وہ کرلیں گے۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے سابق صدر نے کہا کہ یہ وقت اور حالات پر منحصر کرتا ہے، حالات پر سیاست ہوتی ہے، سیاست ناممکنات پر نہیں بلکہ ممکنات پر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری سوچ کہتی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گی جبکہ مردم شماری پر سندھ کو تحفظات ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا اپنا مؤقف ہے اور ہمارا اپنا لیکن وہ اکثریتی پارٹی ہیں، اس لیے ہم ان کے ساتھ چلتے ہیں، ہم پی ڈی ایم کا نہیں بلکہ حکومت کا حصہ ہیں، اسی لیے فاروق نائیک نے عدالت میں درخواست دی ہمیں بھی سنا جائے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ راجن پور کا الیکشن مقبولیت پر نہیں جیتا گیا بلکہ مہنگائی کی وجہ سے ہوا ہے اور حد تو یہ ہے کہ دال بھی خراب آتی ہے، دال میں ملاوٹ نہیں ہوتی تھی لیکن اب دال میں بھی ملاوٹ ہوتی ہے۔
آصف زرداری نے ملک کے دیوالیہ ہونے سے متعلق سوال پر کہا کہ ہم ایک ملک ہیں، کوئی پبلک لمیٹڈ کمپنی نہیں ہیں، جاپان 10 دفعہ دیوالیہ ہوا لیکن واپس آیا، امریکا دیوالیہ ہوا پھر بحال ہوا، کبھی سنتے ہیں کہ دبئی کی قیمتیں بالکل گر گئیں پھر بحال ہوا تو ملک اس طرح نہیں چلتے کہ پبلک لمیٹڈ کمپنی کی طرح ہمارے حصص کمزور ہوئے تو ملک ختم ہوگیا۔سابق صدر نے کہا کہ پی پی پی آئندہ انتخابات تیر کے نشان سے لڑے گی۔
( بشکریہ : ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

