ادباسلم ملکلکھاری

سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مصنف ،مستنصر حسین تارڑ 81 برس کے ہو گئے ۔۔ اسلم ملک

میں نے 1977 میں روزنامہ ’’ امروز‘’ سے صحافت کا آغاز کیا تو وہ قریب ہی گوالمنڈی میں اپنے والد چودھری رحمت خاں تارڑ کی قائم کردہ بیجوں اور باغبانی کے آلات کی دکان کسان اینڈ کمپنی پر بیٹھا کرتے تھے۔ کئی بار وہاں حاضری دی اور گوالمنڈی کی ملائی والی چائے کا لطف اٹھایا۔ پاک ٹی ہاؤس میں بھی ملاقات رہی ۔ہمارے مشترک دوست اظہر جاوید بھی ملاقات کے مواقع مہیا کرتے رہتے تھے۔ پھر نہ وہ ٹی ہاؤس رہا نہ اظہر جاوید۔ مستنصر حسین تارڑ بھی پہلے لکشمی مینشن سے گلبرگ گئے اور پھر وہاں سے ڈیفنس چلے گئے ۔ اب کبھی کبھار کسی تقریب میں ملنا ہوتا ہے۔ لیکن محبت کا تعلق ملاقات کا محتاج نہیں۔
مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آبائی تعلق گجرات سے ہے. والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے. مستنصر حسین تارڑ کا بچپن بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔
1957ء میں شوقِ آوارگی انہیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گیا۔ (اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شایع ہوئی) ۔ اس سفر پر ہی ناولٹ “فاختہ” لکھا ۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔
پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بطور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بطور مصنف پہلا ڈراما تھا، جو 74ءمیں نشر ہوا۔ بطور مصنف اور اداکار ٹی وی سے طویل تعلق رہا۔ ٹی وی مارننگ شو کے وہ بانی ہیں۔ چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 2014ء میں ایکسپریس ٹی وی پر “سفر ہے شرط” کے نام سے سفر نامہ پروگرام اور جیو ٹی وی پر شادی کے حوالے سے ایک پروگرام بھی کیا ۔ مستنصر صاحب کے تحریر کردہ یہ ٹی وی ڈرامے قابل ذکر ہیں :شہپر، ہزاروں راستے، پرندے، سورج کے ساتھ ساتھ، ایک حقیقت ایک افسانہ، کیلاش اور فریب
1969 ء میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا: “اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں!” اگلا سفر نامہ “اندلس میں اجنبی” تھا جسے پڑھ کر شفیق الرحمن نے کہا: “تارڑ کے سفرنامے قدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!”
42 برس میں 30 سفرنامے شائع ہوئے۔ 12 سفر نامے صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی “کے ٹو” پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو “تارڑ جھیل” کا نام دیا گیا۔
اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے ، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان ، ہنزہ داستان جیسے سفرنامے پڑھ کر کئی لوگ ان مقامات کو دیکھنے پہنچے۔”غار حرا میں ایک رات” اور “منہ ول کعبہ شریف” حجاز مقدس کے بارے میں ہیں۔نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے ہیں ۔
مستنصر حسین تارڑ کا اولین ناول “پیار کا پہلا شہر” ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ان کا ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ ’’راکھہ‘‘ اور “بہاؤ” نے زیادہ توجہ پائی۔ “بہاؤ” وادی سندھ کے ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے. بقول مصنف یہ ایک متھ (Myth ) ہے۔ عبداللہ حسین لکھتے ہیں “اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریات Anthropology کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی ”
راکھہ کو 1999ء میں بہترین ناول قرار دے کر مستنصر کو وزیر اعظم ادبی ایوارڈ دیا گیا،انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی بھی مل چکا ہے.راکھ کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی. یہ پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی دستاویز ہے۔ “اے غزال شب” سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں.ان کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر، جپسی،قلعہ جنگی ،فاختہ بھی ان کے مقبول ناول ہیں.نیا ناول منطق الطیر جدید، فارسی صوفی شاعر فرید الدین عطار کی6600 اشعار کی مثنوی منطق الطیر سے متاثر ہوکر لکھا گیا ہے. جس میں پرندے باتیں کرتے ہیں. یہ تارڑ صاحب کی پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک ہے.
تارڑ صاحب اخباری کالم بھی لکھتے ہیں۔ شاید آغاز مشرق سے کیا. کالم “ہزار داستان” روز نامہ نئی بات کے بعد روزنامہ” 92 نیوز” میں اور “کارواں سرائے” ہفت روزہ” اخبار جہاں” میں چھپتا ہے. کالموں کے مجموعے بھی شائع ہوچکے ہیں.
اردو میں قرۃ العین حیدر مستنصر حسین تارڑ کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول “آخری شب کے ہمسفر” اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں ۔ “برادرز کرامازوف” کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی تحریر “برساتی” کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی “بجنگ آمد” کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی “میرا داغستان” اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ محمد سلیم الرحمن’ کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ کرلیتے ہیں۔
تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ میرا اپنا کوئی اَنگ بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول “سدھارتھ” کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker