ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

”تکیہ فقیر“۔۔ڈاکٹراختر شمار

گزشتہ دو روز مردِ درویش کے تکیہ پر گزرے۔ اسلام آباد سے ہمارے دوست اور باکمال شخص کمال شاہ ایبٹ آباد سے لینے آ پہنچے، یوں ان کی مہربانی سے دنیاکے ہنگاموں سے دور، اس تکیے تک رسائی ہو گئی الحمدللہ جس مقام پر آپ کا دل سکون سے بھر جائے آپ جن لمحوں میں دنیا سے کسی حد تک کٹ جائیں اور آپ اپنا سب کچھ فراموش کر دیں، وہ ایسی ہی آغوش محبت قرار دیاجائے گا اور میں تو ”آغوش مادر“ بھی کہا کرتا ہوں، کچھ جگہیں اتنی پراثر شاداب اور پرسکون ہوا کرتی ہیں کہ اس کی ساری کیفیات اور اثرات انسانی قلب کو مسخر کر لیتے ہیں، فیس بک پر ”تکیے“ کے مناظر، ”ویڈیو کلپ“ کی شکل میں شیئر کئے تو بہت اطراف سے مسرت کا اظہار کیا گیا بعض احباب نے ایڈریس بھی پوچھا: پتہ بتانے کی ضرورت اس لئے نہ تھی کہ ”جستجو“ بھی تو ایک ”کرنسی“ ہوا کرتی ہے، ڈھونڈنے والوں کو خدا ملتا ہے۔ ایک دوست نے کہا بھئی غلام عباس کا افسانہ ”گوندنی والا تکیہ“ تو سنا تھا آپ نے ”روحانی تکیہ“ دکھا دیا، میں نے صرف یہی کہا افسانے میں بھی صوفی نگینہ ہی کے تکیے کا ذکر ہے“۔
ایک اور دوست بولا : ماڈل ٹاؤن میں عہد ساز نثرنگار مستنصر حسین تارڑ صبح کی سیر کیا کرتے ہیں وہاں صبح کی سیر کے دوران ان کے کئی قارئین بھی ان کے ”حلقہ ارادت“ میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس میں پیروجواں شامل ہیں یہ سب حضرات تارڑ صاحب کے ساتھ سیر کرتے ہیں گپیں لگاتے ہیں کبھی کبھار اسی ”کوچہ چیلانِ تارڑ“ میں اپنے محبوب ادیب کی سالگرہ بھی منا لیتے ہیں۔ یار لوگ اس گوشہ محبان ادب کو ”تکیہ تارڑ“ بھی کہتے ہیں۔
میں نے کہا تارڑ صاحب بھی دنیا کے ”چاروں کوٹ“ دیکھنے کے بعد آدھے ”صوفی“ ہو گئے ہیں، اب ان کی تحریروں میں عشق مجازی ”عشق حقیقی“ کا روپ دھارنے کی منزلوں میں ہے۔
لیکن مجھے یقین ہے کہ مستنصر حسین تارڑ ”تکیہ درویش“ پر جا کر واپس آنے کی آرزو نہیں کر سکیں گے، بلکہ وہیں ٹیلوں کے اندر غار نما کمروں میں بقیہ زندگی گزار دیں گے۔
ہاں تو میں ”تکیہ فقیر“ کی بات کر رہا تھا اس بار وہاں گزرے لمحات میری زندگی کے حسین ترین لمحات قرار دیئے جا سکتے ہیں وہاں جا کر دل پر ”کِن مِن کِن مِن“ کرم کی بارش ہونے لگتی ہے، کہتے ہیں اللہ رب العزت کے دوستوں کو دیکھ کر اس کی یاد آنے لگتی ہے جو اپنا ایک ایک پل مخلوق خدا کی پذیرائی اور بھلائی میں بسر کرے، بغیر دنیاوی حرص، لالچ کے، اسے آپ کیا نام دیں گے، یہاں اکثر آنے والوں میں بھاجی صادق، امجد شاہ، بلال، وقار شاہ، جمیل شاہ، حسنین شاہ، راجا ریاض اور کئی دوسرے محبت کرنے والے شامل ہیں، مستقل رہنے والے ملنگ درویش بھی یہاں نظر آتے ہیں جو کم بولتے ہیں اور چپ چاپ کسی نہ کسی کام میں مشغول دکھائی دیتے ہیں، کوئی چمن کو آراستہ کر رہا ہے پودوں کو پانی دے رہا ہے، موروں پرندوں کی سیوامیں مصروف ہے کوئی لنگر کے نظام کا حصہ ہے لکڑیاں کاٹنا، مچ کو جلائے رکھنا، کھانا پکانا، تقسیم کرنا، بس ہر ایک کسی نہ کسی خدمت میں منہمک نظر آتا ہے، کبھی یہ ویرانہ تھا اب گل و گلزار ہے اب تو آس پاس کچھ آبادی بھی ہے، پہلے ٹیلے اور کھیت ہوتے تھے اور یہ ساری جگہ بھاجی صادق کی تھی اسی نے مرد درویش کے تکیے کے لئے ”رجسٹرڈ“ وقف کر دی۔
میانوالی سے ملک لیاقت علی، احمد پور شرقیہ سے شاکر، حاجی ارشد اور نذیر عرف بھولا آئے ہوئے تھے ویک اینڈ پر قرب و جوار سے ایک ہجوم امڈ آتا ہے مگر یہ عام درگاہوں کی طرح نہیں ہے کوئی شور شرابا یا سرگرمی نہیں، محبت کا میلہ سا کہا جا سکتا ہے، مانسہرہ سے حاجی ارشد زمان، عارف فوجی ان کے بھائی اور شاہ گل جی سے بھی ملاقات ہو گئی ، ہر انسان مختلف خیالات رکھتا ہے ہر شخص کا اپنا مزاج ہے مگر فقیروں سے محبت سے سبھی کے دل معمور ہیں۔
ایک فقیر نے شاہ لطیف کا قول سنایا:
”جس طرح کنڈھی بھینس کے سینگ ایک دوسرے سے لپٹے ہوتے ہیں اسی طرح ”حقیقی محبوب“ میرے دل سے لپٹا ہوا ہے“۔
ایک اور اچھی بات سننے کو ملی:
”بدطینت انسان، شیر اور سانپ کی نیند اچھی کہ لوگ ان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں لیکن سادھو کو جاگنا چاہیئے“۔
فرمایا گیا : ”جو برائی سے دشمنی کرے اور پاک دامن رہے وہ پکا دین دار ہے“
ہر شب اپنا حساب بے باک کرو کہ خود احتسابی سے بڑھ کر کوئی لگام نہیں“
ہر دن یوں گزارو جیسے زندگی کا آخری دن ہو آنکھ والا وہ ہے جو دیکھے۔
میرے اک سوال کے جواب میں باباجی نے میاں محمد بخشؒ کا شعر سنا دیا
میں سئیاں رل پانی نوں ٹریاں کوئی کوئی مُڑ سی بھر کے
جنہاں نے بھر کے سر تے دھریا، پیر رکھن ڈرڈر کے
یعنی : مل جل کر سہیلیاں پانی بھرنے نکلیں اور کوئی کوئی بھر کے واپس آئے گی جنہوں نے پانی بھر سر پر رکھا وہ ڈر ڈر کے پاؤں اٹھاتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker