جام پور : نامور سرائیکی ادیب، دانشور،محقق اورماہرقانون اسلم رسول پوری یکم فروری منگل کے روز انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 83 برس تھی۔
اسلم رسول پوری 1941 میں جام پور میں پیدا ہوئے ۔ جام پورکے ہائی سکول سے میٹرک کے بعد اُنہوں نے مظفر گڑھ سے جے وی کا امتحان پاس کیا بھکر سے 1962 میں تدریس کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے 1970 کے عشرے میں سرائیکی ادبی تنقید لکھنا شروع کی ۔ ”سرائیکی زبان، اوندا رسم الخط تے آوازاں “ میں پہلی بار انہوں نے سرائیکی صوتیات کا نظام وضع کیا ۔ اور بتایا کہ سرائیکی میں کُل 46 آوازیں ہیں جن کے لیے 56 علامتیں استعمال کی جاتی ہیں۔
دریں اثنا زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اسلم رسول پوری کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔
معروف ماہر تعلیم اور مقتدرہ قومی زبان کے سابق سربراہ ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ انہوں نے رسول پور جیسے دور افتادہ علاقے کو دنیا بھر میں متعارف کرایا ۔ اس عظم کے ساتھ کہ یہاں کوئی ناخواندہ نہیں رہے گا ۔ یہ ایک ریکارڈ تھا کہ انہوں نے رسول پور کے ہر فرد کو خواندہ بنا دیا ۔ نام ور سرائیکی دانشور اور کالم نگار ظہور احمد دھریجہ نے کہا کہ اسلم رسول پوری ایک شخص نہیں ایک عہد کا نام تھا ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔
نام ور شاعر ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر انور جمال نے کہا اسلم رسول پوری نے تخلیقِ شعروادب اور تحقیق و تنقید کے شعبے میں نصف صدی سے زیادہ نہایت وقیع اور قابلِ قدر کام کیا ہے،ان کی وفات سے ایک علمی خلا تو محسوس کیا جائے گا تاہم ان کے چھوڑے ہوئے علمی و ادبی سرمائے سے تازہ واردانِ بساطِ ہوائےِ ادب سیراب ہوتے رہیں گے۔۔
فیس بک کمینٹ

