عطاء الحق قاسمیکالملکھاریمزاح

کالم نگار بنیں! ۔۔ عطاء الحق قاسمی

مجھے بہت سے دس جماعتیں پاس قاری اکثر پوچھتے ہیں کہ وہ کالم لکھنا چاہتے ہیں، کیا کریں، ان کے سوالوں کے جوابات درج ذیل ہیں۔
میں کالم لکھنا چاہتا ہوں، کیا کروں؟
پہلے کالم کے ہجے یاد کریں۔ ک ا کا، ل م لم، کالم۔ اس کے بعد آپ روزانہ صبح نہار منہ 10مرتبہ لفظ ’’کالم‘‘ لکھیں اور گیارہ مہینے تک یہ سلسلہ جاری رکھیں، بارہویں مہینے غیب سے ایک آواز آئے گی جس میں اس حوالے سے کچھ مزید ہدایات ہوں گی۔ اس کے بعد آپ ان ہدایات پر عمل شروع کر دیں۔
میری آمدنی بہت کم ہے، کیلوں کی ریڑھی لگاتا ہوں، اس میں بچتا کیا ہے آدھا ’’سودا‘‘ بچ جاتا ہے، براہِ کرم کسی اخبار میں میرا کالم شروع کرا دیں تاکہ کچھ اضافی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے کر سکوں۔
آپ ایک باعزت پیشے سے منسلک ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ کالم نگاری کیلئے بضد ہیں تو روزانہ چھ درجن کیلے صبح اور چھ درجن کیلے رات کو سونے سے پہلے ایک ماہ تک مسلسل کھائیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگی کے بعد کسی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر بچ گئے تو پھر اتنی ہی تعداد میں کیلے کسی ڈمی اخبار کے ایڈیٹر کے گھر روزانہ بھجوا دیا کریں آپ جو بھی لکھیں گے وہ آپ کی تصویر کے ساتھ بطورِ کالم شائع کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر آپ میں ہمت، طاقت اور چھوٹے موٹے افسروں کو للکارنے کی جرأت ہے تو نہ صرف یہ کہ آپ کی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ آپ ایک نڈر اور بے باک صحافی بھی کہلا سکیں گے۔
میں بہت سے اخباروں کو اپنے ’’کالم‘‘ اشاعت کیلئے بھیج چکا ہوں مگر کوئی بھی شائع نہیں کرتا، کیا کروں؟ بطور نمونہ ایک کالم بھیج رہا ہوں۔
جب آپ کالم لکھنا شروع کریں گے یہ شائع ہونا شروع ہو جائیں گے۔ فی الحال آپ اپنے ’’کالم‘‘ خود پڑھ کر اپنا رانجھا راضی کر لیا کریں۔
میٹرک کے پرچے میں والد کے نام خط لکھنے کا سوال آیا تھا جس میں ان سے پیسے مانگنے کیلئے کہنا تھا۔ میں نے یہ خط بڑی خوشخطی سے لکھا تھا چنانچہ میرا خیال ہے کہ میں کالم بھی لکھ سکتا ہوں۔ آپ رہنمائی کریں کہ میں کس اخبار کو اپنے کالم ارسال کروں۔
فی الحال آپ کے شایانِ شان کوئی اخبار ذہن میں نہیں آ رہا۔ میرا مشورہ ہے کہ دریں اثنا آپ اپنا اخبار نکالیں۔
کیا کالم نگار ہونے کے لئے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے؟
پڑھا لکھا ہونا صرف پروفیسر حضرات کیلئے ضروری ہے تاہم اتنا پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے کہ آپ جو کالم لکھیں وہ خود پڑھ بھی سکیں۔
مجھے ایک اخبار میں کالم لکھتے ہوئے ابھی صرف چھ مہینے ہوئے ہیں مگر تقریبات میں میرا نام پکارتے وقت ’’سینئر کالم نگار‘‘ کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے اس پر میرا ضمیر مجھے بہت ملامت کرتا ہے۔
شرمندہ سینئرز ہوں، آپ کیوں ہوتے ہیں، البتہ جہاں تک ضمیر کی ملامت کا تعلق ہے تو یہ واقعی تشویشناک بات ہے کیونکہ اس سے یہ خدشہ ذہن میں آتا ہے کہ آپ شاید کبھی مستند کالم نگار نہ بن سکیں۔
آپ نے میرے خط سے اندازہ لگایا ہو گا کہ میں کالم لکھ سکتا ہوں اس کے باوجود کوئی اخبار میرا کالم شائع نہیں کرتا، اس کی کیا وجہ ہے۔
وجہ آپ کے اس خط ہی میں موجود ہے جو آپ نے میرے نام لکھا۔ آپ کی تحریر میں مایوسی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے لئے ایک امید موجود ہے۔ آپ فوری طور پر ایک کالم کسی اخبار کو ارسال کریں جس میں لکھیں کہ پاکستان دوچار ہفتوں میں ٹوٹ جائے گا۔ یہاں کروڑوں لوگ رات کو بھوکے سوتے ہیں، لوگوں کے پاس پہننے کے لئے کپڑے نہیں ہیں چنانچہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر ننگے پھرتے نظر آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ امید ہے یہ کالم آپ کی توقع سے بہت پہلے شائع ہو جائے گا۔
میرے پسندیدہ کالم نگاروں میں آپ سرفہرست ہیں جب سے یہ دنیا وجود میں آئی ہے اور اخبارات چھپنا شروع ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر اب تک آپ سے بڑا کالم نگار کسی ماں نے نہیں جنا، آپ بہت عظیم ہیں، آپ کالم لکھتے نہیں آپ پر کالم اترتا ہے، کیا آپ واقعی عام انسانوں جیسے ہیں یا کوئی نورانی ہالہ آپ کے چہرے کے گرد پھیلا نظر آتا ہے۔ عطاء الحق قاسمی کے نام لکھا ہوا خط ڈاکیہ غلطی سے مجھے پہنچا گیا ہے، میں یہ خط قاسمی صاحب کو پہنچا رہی ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ خط پڑھتے ہی آپ کا کالم کسی اخبار میں اشاعت کیلئے بھجوا دیں گے۔
جو کچھ لکھا ہے، بہت اعلیٰ کالم ہے چنانچہ میں نے اپنے اسی کالم میں آپ کا ’’کالم‘‘ شائع کر دیا ہے۔
اخبار میں کالم چھپنے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟
اگر تو یہ واقعی کالم ہے تو آپ کو اس کی معقول ادائیگی بھی ہوگی، بصورتِ دیگر ادائیگی کرنا پڑے گی۔ تاہم علاقے میں آپ کی دھاک بیٹھ جائے گی اور محلے کا دکاندار آپ کو ادھار دینا شروع کر دے گا۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker