عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

منو بھائی کے بعد ساقی فاروقی اور طاہر سعید ہارون ۔۔ عطاءالحق قاسمی

میں دبئی میں تھا جب منو بھائی کے انتقال کی خبر ملی۔ لاہور واپس آیا ہوں تو ساقی فاروقی اور ڈاکٹر طاہر سعید ہارون کی رحلت کا پتہ چلا۔ طاہر سعید ہارون پاکستان اور بھارت کے سب سے بڑے دوہہ نگار تھے، اسکن اسپیشلسٹ تھے اور اس شعبے کا بہت بڑا نام تھے مگر انہوں نے دوہہ نگاری میں بھی بہت اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ ان کے دوہوں کے 14شعری مجموعے شائع ہوئے۔
منو بھائی کے ساتھ میری محبت کا سلسلہ کئی عشروں تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کی فکر کو کئی نام دیئے گئے ہیں مگر میرے نزدیک انہیں صرف انسان دوست کہنے سے ان کی پوری زندگی اور ان کے نظریات سامنے آ جاتے ہیں۔ ان کی انسان دوستی ان کے معاشرتی رویوں کے علاوہ سب سے زیادہ ان کے ٹی وی ڈراموں کی صورت میں سامنے آئی۔ ان کا طویل ڈرامہ ’’گم شدہ‘‘ اس کی بہترین مثال ہے، اس کے علاوہ ان کے مشہورِ زمانہ ٹی وی سیریل ’’سونا چاندی‘‘ کے سبھی کردار ایک ہی زبان بولتے ہیں اور وہ محبت کی زبان ہے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے کردار بین السطور موجود سرمایہ دارانہ نظام کو بھی نشانہ بناتے ہیں جو ان کے دکھوں کا ’’مآخذ‘‘ ہے۔ تاہم ان سب باتوں کے باوجود دردِ دل رکھنے والے ادیب اور دانشور دوستوں کے لئے میرے دل میں ان کی محبت ٹھاٹھیں تو مارتی ہے لیکن اگر وہ بذلہ سنج بھی ہیں، تو پھر ان سے میل ملاقات میں بھی مزا آتا ہے۔ منو بھائی ایسے ہی دوستوں میں سے ایک تھا۔ اگر وہ محفل میں موجود ہے تو ہنسنے والی باتوں پر خود بھی ہنستا تھا اور اپنی ’’جگتوں‘‘ سے دوسروں کو بھی ہنساتا تھا۔ جن دنوں لاہور میں ہتھوڑا گروپ کی بہیمانہ وارداتوں نے خوف و ہراس پھیلایا ہوا تھا، یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ جاوید شاہین، احمد مشتاق اور منو بھائی پاک ٹی ہاؤ س کی ایک میز پر بیٹھے گپ شپ میں مشغول تھے۔ اتفاق سے یہ تینوں ہکلے تھے، پنجابی میں ہکلے کو تھتھا کہتے ہیں۔ اتنے میں حبیب جالب بھی آگئے، جو اپنی انقلابی شاعری کے علاوہ جگت کے بھی امام تھے۔ انہوں نے آتے ہی ان دوستوں کو مخاطب کیا اور کہا ’’یہ تھتھوڑا گروپ‘‘ ایک ہی جگہ جمع ہو گیا ہے، خیر ہے؟!! اس پر سب سے بلند قہقہہ منوبھائی کا تھا۔ منو بھائی نے ایک زبردست پھبتی کشور ناہید پر کسی تھی اور ایک منیر نیازی پر بھی مگر افسوس دونوں سنائی نہیں جا سکتیں۔ اس کی زیادہ تر جگتیں اور پھبتیاں ایسی تھیں، جو بے تکلف دوستوں کے درمیان ہوتی ہیں اور افسوس انہی تک محدود رکھنا پڑتی ہیں۔
میں منو بھائی کی یہ ادا کبھی نہیں بھول سکتا کہ میں نے جب کبھی اسے کسی تقریب میں مدعو کیا، اس نے لازمی اس تقریب میں شرکت کی۔ آخری دنوں میں جب اس کی صحت پوری طرح زوال میں تھی، میں نے اسے اپنے پی ٹی وی کے پروگرام ’’کھوئے ہوؤ ں کی جستجو‘‘ میں انٹرویو کے لئے بلایا اور وہ میرا مان رکھنے کے لئے آ گیا۔ یہ شاید اس کا آخری انٹرویو تھا، اس کی بہت سی یادیں اور باتیں میں خود بیان کرتا رہا اور وہ درمیان درمیان میں صرف لقمے دیتا رہا۔ وہ اپنے نظریات میں راسخ تھا مگر اس کی دوستی میں نظریات کبھی حائل نہیں ہوئے۔ میں تقریباً اس کا ہم عصر تھا جو عموماً اپنے ہم عصروں کے بارے میں کلمۂ خیر کہتے ہوئے ’’ڈرتے‘‘ ہیں مگر منو بھائی نے ایک بار نہیں، کئی بار اپنے کالم میں میرے لئے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔ اور ہاں ایک دفعہ ہماری قلمی جنگ بھی ہو گئی تھی۔ میں اس وقت محکمہ تعلیم پنجاب کا ملازم تھا، میں نے گورنر پنجاب مصطفیٰ کھر کے خلاف ایک کالم لکھا، منو بھائی نے اپنے ’’امروز‘‘ کے کالم میں میرے کالم کے حوالے سے ایک ایسی بات لکھی جو مجھے ’’ان لائک‘‘ منو بھائی لگی، جس پر ہماری قلمی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ ’’امروز‘‘ کے ایڈیٹر حمید جہلمی اور ہم دونوں کے محب احمد ندیم قاسمی کو یہ بات اچھی نہ لگی اور انہوں نے دوبارہ ہمیں گلے ملوا دیا۔ وہ دن اور آج کا دن منوبھائی میرے دل سے نہیں نکلا۔ ایک محبت بھرا انسان، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان اور ایک بہت بڑا لکھاری منو بھائی مرنے کے لئے نہیں، زندہ رہنے کے لئے پیدا ہوا تھا۔ سو وہ آج بھی زندہ ہے وہ کل بھی زندہ رہے گا۔
ساقی فاروقی کے انتقال کی اطلاع احسان شاہد نے مجھے لندن سے دی۔ ساقی فاروقی اردو کا ایک بانکا شاعر تھا اور بے حد منہ پھٹ بھی تھا۔ اس کا منہ پھٹ ہونا سب کو اچھا لگتا تھا کہ پتہ چلتا تھا وہ منافقت کے آداب سے واقف نہیں۔ ساقی نے ساری عمر لندن ہی میں بسر کی اور وہاں بھی اپنے چاہنے والوں کا ایک حلقہ بنا لیا جن میں ڈاکٹر جاوید شیخ، یشعب تمنا، ارشد لطیف اور دوسرے بہت سے اچھے شاعر شامل تھے۔ میں جب بھی لندن جاتا ڈاکٹر جاوید شیخ اور ساقی فاروقی سے ملنے کی پوری کوشش کرتا اور پھر احسان شاہد کے ساتھ ان کی طرف گپ شپ کے لئے چلا جاتا۔ ساقی بہت عمدہ شاعر ہی نہیں پرفارمر بھی بہت اعلیٰ تھا، وہ اپنا کلام سناتے ہوئے خود ہی وجد میں آ جاتا تھا۔ اس کی نظمیں ’’جان محمد خان سفر آسان نہیں ہے‘‘ اور ’’خالی بورے میں زخمی بلا‘‘ خصوصاً مجھے بہت پسند ہیں۔ اس نے اپنی آپ بیتی ’’پاپ بیتی‘‘ کے نام سے لکھی مگر اس میں ادھورے پاپوں کا ذکر تھا۔ ساقی آخری دنوں میں یادداشت تقریباً کھو چکا تھا۔ اس کی وفات سے چند ہفتے قبل اس کی غیرملکی بیوی (نام بھول گیا ہوں) جس سے اسے بے پناہ محبت تھی، فوت ہو گئی۔ وہ کیتھولک تھی، ساقی اور اس کی عمر بھر کی رفیق کی قبر اوپر تلے بنائی گئی۔ ساقی فاروقی کے کتبے پر ’’شمشاد نبی‘‘ لکھا ہے جو ان کا اصل نام تھا۔ دونوں کی قبر پر کراس (صلیب) بھی موجود ہے۔ اس سے پہلے لندن میں مقیم داؤ د رہبر اور ن۔ م۔ راشد کے جسد خاکی کو دفنانے کی بجائے جلا دیا گیا تھا۔ پردیس بہت بری چیز ہے۔
( بشکریہ :روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker