عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطاء الحق قاسمی کا کالم : ’’پٹواری‘‘ اور ’’یوتھیے‘‘۔۔!

ہر حساس انسان اپنی ایک رائے ضرور رکھتا ہے لہٰذا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ بالکل نیوٹرل ہیں تو ممکن ہے وہ صحیح کہتے ہوں لیکن میرے خیال میں پاکستان کے موجودہ حالات میں دانشوروں کو عوام کی کنفیوژن میں اضافہ کرنے کی بجائے انہیں واضح طور پر کسی ایسے نظریے والی قیادت کی طرف راغب کرنا چاہئے جو ان کے نزدیک پاکستان کو موجودہ پاتال سے نکال سکتی ہو۔ آزمائے ہوئے سیاستدانوں پر تنقید کرتے وقت بھی یہ امر ضرور مدنظر رکھنا چاہئے کہ انہیں دو دو سال کے مختصر عرصے میں فارغ کردیا گیا تھا، اسی طرح ان پر کرپشن کے الزامات کا کوئی ثبوت بھی ضرور پیش کرنا چاہئے۔ اگر کوئی مجھ سے کسی بھی سیاست دان یا کسی بھی صحافی کے بارے میں کہے کہ کرپٹ ہے تو مجھے اس پر یقین کرنے کی بجائے الٹا اس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے پندرہ بیس کرپشن کے گھنائونے الزامات لگا دینا چاہئیں جس پر وہ سٹپٹا کر کہے کہ’’تم نے مجھ پر اتنے گندے الزامات لگائے ہیں، تمہارے پاس اس حوالے سے کوئی ایک ثبوت بھی ہے؟‘‘ تو اس کے جواب میں کہیں ’’ہاں ہیں‘‘ جس طرح تمہارے پاس ان سیاست دانوں اور صحافیوں کے حوالے سے ہیں۔
تاہم کوئی بھی صائب الرائے شخص غیرجانبدار نہیں ہو سکتا، اگر اس پر الزامات لگتے ہیں تو لگتے رہیں! باقی رہا یہ کہ ’’جانبداری‘‘ کی شرائط کیا ہیں تو اس ضمن میں میرا خیال یہ ہے کہ اس کے لئے خلوص نیت اور بےلوث ہونا لازمی شرط ہے۔ رائے کا یہ اظہار اسٹیبلشمنٹ کی اشیر باد حاصل کرنے یا اس کی حاصل شدہ سرپرستی یا مراعات کی وجہ سے قطعاً قابلِ قبول نہیں۔ یہ قارئین کے ساتھ اور اپنے پیشے سے دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ میرے بہت سے صحافی دوست جن کا میں ذاتی طور پر مداح ہوں جن کی نیت اور بےلوثی پر بھی مجھے کوئی شک نہیں، مختلف سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کی حمایت اپنے کالموں میں کرتے ہیں اور ٹی وی پروگراموں میں بھی۔ ان دوستوں میں تحریک انصاف سے لے کر (ن) لیگ اور ایم کیو ایم سے لے کر جماعت اسلامی تک سبھی شامل ہیں۔ میرے ان دوستوں کو ان جماعتوں کی حمایت کا حق حاصل ہے اور اسی طرح مجھے بھی یہ حق حاصل ہے کہ میں نظریاتی حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کروں اور اس ضمن میں اگر کوئی مجھ سے اختلاف کرتا ہو تو بسم اللہ یہ اس کا بھی حق ہے اور میں ان کے اس فعل کو بھی پاکستان دوستی پر محمول سمجھتا ہوں۔ میرے ایک اسی طرح کے دوست نے مجھ سے گلہ کیا کہ تم جانبداری کا شکار ہو رہے ہو، میرا یہ دوست تحریک انصاف کا جیالا ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا تم کہیں یہ تو نہیں کہہ رہے کہ مجھے اس جانبداری کا مظاہرہ ان کی محبوب جماعت کے حوالے سے کرنا چاہئے۔ چرچل نے ایک دفعہ کہا تھا:
You have enemies, Good. that means you,ve stood up for something, sometime in your life.
سو الحمد للہ میں نے 57برسوں کے دوران جو کچھ بھی لکھا ہے، پاکستان کے ساتھ کمٹمنٹ نبھانے کی نیت سے لکھا ہے۔ مجھے اس کا اجر اللہ تعالیٰ نے قارئین کی بےپناہ محبت اور ضمیر کے اطمینان کی صورت میں عطا کیا۔ میں نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا، صرف اختلاف کیا۔ اس کا فیصلہ کہ کون چور ہے اور کون چور نہیں ہے، صاحبِ ایمان عدالتوں اور عوام پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ضرورت ہے کہ ہم سب اپنی انرجی بہترین قیادت سامنے لانے کے لئے صرف کریں اور یہ کام منفی طریقے کی بجائے مثبت طریقے سے بھی ہو سکتا ہے۔ میرے نزدیک ان دنوں پاکستان اندرونی اور بیرونی دشمنوں نیز دوست نما دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی زد میں آیا ہوا ہے۔ اگر تحریک پاکستان کے دنوں میں غیرجانبداری ایک گناہ تھی تو ان دنوں یہ گناہ نہیں، گناہِ کبیرہ ہے کہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی اس قیام گاہ کو مسمار کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اگر پاکستان کو بچانے اور اسے استحکام بخشنے والے عناصر کی حمایت میں اپنے اپنے نظریات کے حامل افراد کو بصد سامانِ رسوائی سرِبازار بھی رقص کرنا پڑے تو یہ رقص انہیں ضرور کرنا چاہئے۔
مجھے جس بات کا بہت زیادہ دکھ ہے وہ یہ کہ ہم منفی سوچ کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں برادرِ عزیز توفیق بٹ نے میرے حوالے سے ماضی میں پیدا شدہ کچھ غلط فہمیوں کی تردید میں کالم لکھتے ہوئے اور بڑے دل کے ساتھ یہ اعتراف کیا کہ وہ غلطی پر تھے جس پر وہ مجھ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ ان کالموں کے حوالے سے مجھ سے جہاں کچھ لوگوں نے فون پر توفیق بٹ کی تعریف کی کہ انہوں نے اپنی غلطی کو کھلے دل سے تسلیم کیا، وہاں دو تین فون ایسے بھی آئے جن میں مجھے اکسانے کی کوشش کی گئی کہ آپ اپنی فطرت کے مطابق دوبارہ ’’دھوکا‘‘ نہ کھا بیٹھیں، میں نے ان کی ایسی تیسی کی، جس پر وہ بہت مایوس ہوئے کہ ان کی فساد پھیلانے اور اسے انجوائے کرنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔ ہو بہو یہی صورت حال ہمارے پورے معاشرے کی ہے۔ آپ کسی شاعر، ادیب یا کسی سیاستدان کے بارے میں کوئی بھی گندی سے گندی بات لکھ دیں، اس پر یقین کرنے اور اسے آگے پھیلانے والے پہلے سے تیار بیٹھے ہوں گے اور اگرکسی کے لئے کلمۂ خیر کہیں تو چمچے کہلوانے کے لئے تیار رہیں۔ اگر معاملہ کسی سیاستدان کا ہو تو پھر آپ ’’پٹواری‘‘ یا ’’یوتھیے‘‘ تو یقیناً ہیں، ہم سوچ ہی نہیں سکتے کہ کسی کی اپنی بھی تو کوئی سوچ ہوتی ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker