بابر چوہدریتجزیےلکھاری

بابر چوہدری کی خصوصی رپورٹ : کیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ واقعی بحال ہو گیا ہے ؟ سازش کی پس پردہ کہانی

پنجاب حکومت کی جانب سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی خودمختاری ختم کرنے اور پھر بحال کرنے پر گرما گرم بحث مباحثے جاری تھے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ملتان میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’30 مارچ کا نوٹیفکیشن سازش تھی‘‘۔وزیر خارجہ کے لفظ ’’ سازش‘‘ بارے کھوج لگانے کا فیصلہ کیا گیا کہ سازش کب ؟ کیسے؟ اور کس نے تیارکی؟اس میں کون کون لوگ ملوث ہیں؟ سازش کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
یکم جولائی 2020 یہاں کے باسیوں کیلئے خوشی کا دن تھا، اس روز جنوبی پنجاب کو انتظامی خودمختاری دینے کے لئے قابل اور محنتی افسران کا انتخاب کر کے انہیں اس کے سیکرٹریٹ میں تعینات کر دیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے لئے نظرانتخاب زاہد اختر زمان پر ٹھہری جو قبل ازیں سیکرٹری آبپاشی کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے ۔ ایڈیشنل آئی جی کے لئے انعام غنی( اس وقت آئی جی پنجاب ہیں )جیسے پروفیشنل افسر کو منتخب کیا گیا جو ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
17 ستمبر 2020 کو وزیر اعلیٰ پنجاب ملتان آئے اور سول سیکرٹریٹ جنوبی پنجاب کی سنگ بنیاد کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’ الیکشن سے پہلے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا وعدہ کیا تھا، بنانے کیلئےمحنت کرنی پڑی۔ سیکرٹریٹ پہلا قدم ہے،جنوبی پنجاب صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے۔‘‘
متی تل روڈ پر جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی پانچ منزلہ عمارت بنانے کا اعلان کردیا گیا کہ یہ 500 کنال اراضی پر محیط ہوگا۔ سیکرٹریٹ کے ڈیزائن کی منظوری بھی دے دی گئی۔بعد ازاں تعمیر کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز بھی جاری ہوگئے۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی تعیناتی کے بعد یہ اصولی فیصلہ کیا تھا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں افسران کی تعیناتی چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی باہمی مشاورت سے کی جائے گی،زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ مبینہ طور پر چیف سیکرٹری پنجاب نے تعیناتیوں میں من مانیاں شروع کردیں۔اس صورت حال سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو کارکردگی دکھانے میں مشکلات کا سامنا شروع ہوگیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس صورت حال بارے کچھ حکومتی عہدیداروں کو بھی آگاہ کیا،مگر ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا گیا۔نو بت یہاں تک پہنچ گئی دونوں افسران کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی۔
حکومت نے چونکہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو خود مختار بنانے کا اعلان کررکھا تھا، یہ بات کچھ بیورو کریٹس کو ہضم نہیں ہورہی تھی۔یہ ایک عام تاثر ہے کہ سول سیکرٹریٹ لاہور میں کوئی بھی کام بغیر پیسے کے نہیں ہوتا،جنوبی پنجاب کا انتظام الگ ہوتا ہے تو یقینی طور پر لاہور میں بیٹھےلوگوں کی ’’روزی روٹی‘‘ کاایک بڑا سلسلہ بند ہوجاتا ۔کہا جاتا ہے کہ اس کا حل یہ نکالنے کی کوشش کی گئی کہ جنوبی پنجاب کے سیکرٹریز کو لاہور کے ساتھ اٹیچ کردیا جائے، تاکہ جو کام بھی کریں لاہور آفس کی منشا کے مطابق ہو، اس کو عملی شکل دینے کے لیے حکومت سے منظوری کی بھی ضرورت تھی، پنجاب کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کی اجازت کے بغیر تبدیلی نہیں ہوسکتی تھی،اس کمیٹی سے کام کروانے کے لیے ایک اہم آدمی کی ضرورت تھی، مبینہ طور پراس اہم آدمی کا انتخاب وزیر اعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری طاہر خورشید کے طور پر کیا گیا۔
29 مارچ کو ایک لیٹر جاری ہوتا ہے جو ملکی سیاست خاص طور پر پنجاب میں بھونچال کھڑا کردیتا ہے۔پنجاب حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 139کے رول 49 کے تحت گورنر پنجاب نے 11ستمبر 20ء کے جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر So(cab-1(2-4/2020)S.P)جو کہ 15ستمبر 2020ء کو جاری ہوا، کو فوری طور پر واپس لے لیا گیا ۔ جنوبی پنجاب کے لئے قائم سول سیکرٹریٹ سے 7اہم محکمے پہلے ہی ختم کردیئے گئے تھے۔ ختم کئے گئے محکموں میں داخلہ ، خزانہ ، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ، قانون اور پارلیمانی افیئرز ، پراسیکیوشن اور محکمہ ریگولیشن شامل تھے۔ اس صورتحال میں جنوبی پنجاب کے 15 محکموں کے سیکرٹریز کوچیف سیکرٹری پنجاب کے ماتحت ہی کام کرنا تھا۔ ان ماتحت 15 محکموں میں سیکرٹری جنوبی پنجاب، ایگری کلچر ، کمیونی کیشن اینڈ ورک ، انوائرمنٹ پروٹیکشن ، فوریسٹری وائلڈ لائف ، فشریز ، ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، ہائوسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ایریگیشن، لائیو سٹاک اینڈ وٹرنری ڈویلپمنٹ، لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال ڈیپارٹمنٹ، سپلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن شامل تھے۔
30مارچ 2021ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں So(cab-1(2-4/2020)S.P) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس 2011 پر عملدرآمد فوری طور پر ہوگا۔ گزشتہ روز کے نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا کہ ’’سیکرٹریٹ سائوتھ پنجاب‘‘ کا مطلب ماتحت محکمے ہوں گے۔ A19 کے مطابق فنکشن آف دی ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سائوتھ پنجاب اب چیف سیکرٹری کے احکامات کی روشنی میں کام کریں گے۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ ختم کئے گئے محکموں کے حوالے سے کچھ انتظامی اور قانونی پیچیدگیاں تھیں۔
ان لیٹرز سے متعلق خبریں میڈیا پر آنے کے بعد جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی میں سخت بے چینی پھیل گئی،رہنمائوں کے بیانات آنا شروع ہوگئے کہ ہم اس فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔صورت حال کو دیکھ کر وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے ایک ٹویٹ کیا جاتا ہے’’ سیکرٹریٹ ختم کرنے کے حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں‘ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ مکمل طور پر فعال ہے۔‘‘
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے اکائونٹ سے بھی اسی قسم کا ٹویٹ کیا گیا۔
ترجمان گورنر ہائوس کی طرف سےگورنمنٹ آف پنجاب کے اکائونٹ سے ٹویٹ کیا گیا جس میں کہا گیا’’گورنر پنجاب نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے خاتمے کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔‘‘
صورت حال مزید خراب ہوئی توقوم کو بتایا گیا کہ غلط نوٹیفیکیشن جاری کرنے پر سیکرٹری (آئی اینڈ سی ونگ ) محکمہ ایس اینڈ جی اے محمد مسعود مختار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کاویڈیو پیغام نشتر کیا گیا جس میں وہ کہہ رہے تھے، ایک غلط فہمی گردش کر رہی تھی کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے تبادلوں اور تعیناتوں کے اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صاحب نے اس پر انکوائری کے احکامات صا در کر دیے ہیں کہ ان کے علم میں لائے بغیر ایسا کیوں ہوا،اب اصل صورت حال بحال کر دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس سے غلط فہمی کا ازالہ ہو چکا ہے۔
لیٹر جاری کرنے سے پہلے صوبائی قانون ساز کمیٹی سے اس کی اجازت لینا ضروری تھا،اس کی منظوری لی بھی گئی،جس سازش کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا، اس کا کھوج لگانے پر چار حکومتی وزرا کے نام بھی سامنے آئے ، پرنسپل سیکرٹری نےقائمہ کمیٹی برائے قانون سازی سے اس کی منظوری لی ،قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی 4 وزرا ،منسٹر آف لا اینڈ پارلیمنٹری افیئر،منسٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،منسٹریوتھ افیئر،اینڈ سپورٹس اور منسٹر ہائرایجوکیشن شامل ہیں۔ اس کھوج میں ہم نے وہ لیٹر بھی حاصل کیا جوکیبنٹ ونگ کی طرف سے جاری کیا گیا۔اس پر دستخط اور مہر بھی واضح ہے ،اس کے غلط ہونے بارے کسی کا بیان بھی سامنے نہیں آیا، تحقیق ہونا باقی ہے کہ قانون ساز کمیٹی سے لیٹر پر دستخط دھوکے سے کرائے گئے یا ان کی مرضی شامل تھی۔
جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے حوالے سےوزیر اعلیٰ کی زیر صدارت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کابینہ اراکین کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ڈاکٹراختر ملک ،وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، منسٹر لائیو سٹاک حسنین دریشک، وزیرآبپاشی محسن لغاری ، ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری،وزیر ٹرانسپورٹ جہانزیب کھچی،وزیر زراعت حسین جہانیہ گردیزی اور مشیر صحت حنیف پتافی شریک ہوئے۔ وزراء کی جانب سے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر جنوبی پنجاب کے سیکرٹریز کو پنجاب کے ماتحت کرنے کے نوٹیفیکیشن جاری ہونے پر بیوروکریسی سے شدید احتجاج کیا گیا۔ کابینہ اراکین نے وزیراعلیٰ کو نوٹیفکیشن فی الفور معطل کرنے کی سفارشات دیں۔ وزیرتوانائی پنجاب ڈاکٹر اختر ملک نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے آزاد و خود مختار سیکرٹریٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ کابینہ اجلاس میں وزراء بیوروکریسی کی جانب سے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر نیا نوٹیفکیشن جاری کرنے پر شدید احتجاج و تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کابینہ اراکین نے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کو جنوبی پنجاب کے سیکرٹریز کو پنجاب کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن فی الفور معطل کرنے کی شفارش کی یوں جنوبی پنجاب کے حوالے سے نوٹیفکیشن کو ختم کردیا۔
31 مارچ کو صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کا سخت بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا’’جنوبی پنجاب کے عوام کے مفادات پر کو سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘
صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ندیم قریشی بھی خاموش نہ رہے،کہا’’ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ یہاں کے عوام کا حق ہے اور یہ حق کسی کو چھیننے نہیں دینگے۔‘‘
سیکرٹریٹ کے خاتمے کی گونج قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی،ایم این اے ملک احمد حسین ڈیہڑ نے خطاب کرتے کہا:’’ جنوبی پنجاب بلوچستان کی طرح ایک محروم خطہ ہے ،اس کی مزید حق تلفی نہ کی جائے‘‘یہ ایک طویل خطاب تھا۔ اس سے پہلے لیٹر جاری ہونے پر انہوں نے کہا تھا کہ مجھے اس لیٹر سے سازش کی بو آرہی ہے۔
جنوبی پنجاب کےسیاستدانوں کو متحد دیکھ کر سرنڈر کرنا پڑااور سابقہ صورت حال بحال کردی گئی۔اب سوال یہ اگر سابقہ نوٹیفیکیشن بحال کردیا گیا ہے تو اس کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب بھی واپس آنا چاہیے تھا اور اپنا کام شروع کرنا چاہیے تھا،ایسا نہیں ہوا۔اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ موجودہ صورتحال پیدا ہونے سے پہلے زاہد اختر زمان کا تبادلہ کردیا گیا تھا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا اضافی چارج کسی اور کے حوالے کردیا گیاتھا۔
جنوبی پنجاب کے عوام کا بھر پور مطالبہ ہے کہ جس طرح یہاں کے سیاستدانوں نے متحد ہو کر نوٹیفیکیشن کینسل کرایا ،اسی طرح کوشش کر کے فوری طور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی تعینات کرایا جائے ، حکومتی وزرا،پرنسپل سیکرٹری،اور چیف سیکرٹری کیخلاف فوری کارروائی کی جائے جو اس ساری صورت حال کے ذمہ دار ہیں،تاکہ خدشات مکمل طور پر ختم ہوسکیں۔کابینہ کی چار میٹنگ ہوئیں ان میں دوسو کے قریب منٹس پاس ہوئے،کہا جارہا ہے کہ منسوخی پروانہ بھی اسی میں رکھ کر منظور کروایا گیا،بعدازاں گورنر سے دستخط بھی کروائے لیے گئے۔
( بشکریہ :روزنامہ بدلتا زمانہ ملتان )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker