عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

تعزیتی شذرے۔۔عطا ءالحق قاسمی

مولانا قہر لدھیانوی
حضرت مولانا قہر لدھیانوی گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون ، مولانا اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے علمبردار تھے اور ان کی ساری عمر مسلمانوں کے تمام فرقوں میں رواداری اور اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی تبلیغ میں بسر ہوئی۔مولانا فروعی مسائل پر بحث مباحثے اور مناظرے کو اسلام اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو اگرمذہب سے برگشتہ ہونے سے بچانا ہے تو پھر علماءکو دین کی بنیادی چیزوں کو باہمی اتحاد کی بنیاد بنانا ہو گا۔ تاہم دین کے بنیادی اصولوں کے سلسلے میں وہ کسی قسم کے سمجھوتے کے قائل نہیں تھے اور اس ضمن میں ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ر ہتے تھے۔ چنانچہ اس عظیم مقصد کے لئے وہ کئی مرتبہ جیل بھی گئے جن میں سے چار مرتبہ تو انہیں دیوبندی بریلوی تنازع میں پرجوش کردار ادا کرنے پر جیل جانا پڑا۔مگر ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئی۔ مولانا مرحوم و مغفور نے اسلام کے جن بنیادی مسائل کی تبلیغ و ترویج کو اپنی زندگی کا مشن بنایا ان میں مسئلہ نوروبشر، رفع یدین اور آمین بالجہر وغیرہ کے مسائل شامل تھے۔ حضرت مولانا نے متعدد تصانیف بھی قلمبند کیں جن میں امرو درد ردِ مردود، اشکال فی بطن ابطال اور زحمت در مسئلہ تہمت کے علاوہ مسائل طہارت اور مسائل مسواک خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔ حضرت مولانا قہر لدھیانوی نے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں یورپ اور جنوبی افریقہ کے ممالک کے بھی کئی دورے کئے اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی کوئی اکا دکا مسجد نظر آتی تھی حضرت مولانا کی مساعی جملہ سے وہاں بیس بیس افراد پر مشتمل مسلمانوں کے علاقوں میں فی کس کے حساب سے بیس علیحدہ علیحدہ مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ مولاناقہر لدھیانوی کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ عرصہ دراز تک پ±ر نہ ہو سکے گا۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
غلیل طوفانی
جناب غلیل طوفانی کی وفات سے پاکستان کے سیاسی حلقوں کو جس بے پناہ صدمے سے دوچار ہونا پڑا ہے وہ اتنا ناقابل فہم نہیں کیونکہ غلیل طوفانی کی ساری عمر بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد میں بسر ہوئی اور اس کے لئے انہیں کئی مرتبہ جیل بھی جانا پڑا تاہم انہوں نے جیل کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا کیونکہ مرحوم کے لئے جیل کوئی نئی چیز نہ تھی۔ وہ سیاست کے خار زار میں قدم رکھنے سے پہلے اکثر دیوانی اور فوجداری مقدمات میں جیل جایا کرتے تھے۔ مرحوم نے جن بنیادی حقوق کے حصول کے لئے عمر بھر جدوجہد کی ان میں ریاست کے خلاف جدوجہد کے حق کو تسلیم کرنا سرفہرست تھا۔ چنانچہ ان کی ہر تقریر ریاست اور بانی ریاست کے خلاف مواد پر مبنی ہوتی تھی جو اخبارات میں شہ سرخیوں اور ٹی وی چینلز پر لیڈ اسٹوری کے طور پر پیش کی جاتی تھیں۔ البتہ اس میں اگر حکومت وقت کے خلاف کوئی بات ہوتی تو وہ احتیاطاً حذف کر دی جاتی۔مرحوم دو قومی نظریے کے سخت خلاف تھے کہ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں بسنے والے ہندو اور مسلمان دو مختلف قومیں نہیں بلکہ ایک قوم ہیں تاہم قیام پاکستان کے بعد ان کے نظریات میں بنیادی تبدیلی واقع ہوئی انہوں نے پاکستان میں بسنے والی مسلمان قوم کو ایک نہیں چار قومیں قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ وہ انہیں قومیتوں کی بجائے علیحدہ قومیں بنوانے پر اصرارکرتے تھے۔اور یوں ان کی بقیہ عمر چار قومی نظریے کی ترویج میں بسر ہوئی وہ علاقائیت پر یقین رکھتے تھے یا پھر بین الاقوامیت کے پرچار ک تھے اور انہوں نے مرتے دم تک اپنی یہ دونوں حیثیتیں قائم رکھیں۔ جناب غلیل طوفانی کی وفات سے قومی سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر ہونا مشکل ہے کیونکہ ایسی شخصیتیں روز روز پیدا نہیں ہوتیں صرف بوقت ضرورت پیدا ہوتی ہیں!
جناب اقتدار دائمی
جناب اقتدار دائمی کی وفات سے مقتدر حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ مرحوم کا ایمان تھا کہ اقتدار اعلیٰ صرف خدا کی ذات ہے اور انہیں یہ بھی یقین تھا جبکہ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ودیعت ہوا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ یہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا ان تک پہنچا ہے۔ مرحوم نے اپنی اقتدارانہ زندگی کا آغاز ڈپٹی کمشنری سے کیا اور سارے علاقے میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ انہوں نے جوں جوں اقتدار کی منزلیں طے کیں وہ اس نتیجے پر پہنچتے چلے گئے کہ عوام کا قلع قمع کئے بغیر اقتدار قائم رکھنا ممکن نہیں تاہم یہ سب کچھ انہی کی فلاح وبہبود کے نام پر ہونا چاہئے۔ سو انہوں نے اپنی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان پر مسلسل حکومت کی۔ مرحوم ان صاحبان بست وکشاد میں سے نہ تھے جن کی آنکھیں اقتدار سے چندھیا جاتی ہیں بلکہ وہ اپنے کان، آنکھیں ، دل اور دماغ ہمیشہ کھلے رکھتے تھے اور دنیا بھر کے صاحبان بست وکشاد کی ان غلطیوں سے سبق سیکھتے تھے، جن کے نتیجے میں ان زعماءکو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ ان کی اس احتیاط ہی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنے پیشروﺅں کی غلطیوں کو نہیں دہرایا بلکہ اس کی جگہ انہوں نے نئی غلطیاں کیں اور بس یہ نئی غلطیاں ان کے پیشروﺅں کی طرح ان کے زوال کا باعث بنیں اور یوں اقتدار دائمی جو شخص نہیں ادارہ تھے، اس جہاں فانی سے کوچ کر گئے۔
رفتید ولے نہ از دِلِ ما
(بشکریہ:روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker