عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

شہزاد ہ اداس ہے : روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

صبح جب میری آنکھ کھلتی تھی تو لگتا تھا کانوں میں کوئی رس گھول رہا ہے، میری بہنیں گھر کے صحن میں اپنے سروں پر دوپٹہ اوڑھےآہستگی سے قرآن مجید کی تلاوت کر رہی ہوتی تھیں۔ اور یہ آوازیں مل کر ایک روحانی سمفنی کی شکل اختیار کر لیتی تھیں۔ میرے کان میں یہ آوازیں آج بھی زندہ ہیں۔ ہم دو بھائی اور ہماری سات بہنیں تھیں، ایک بہن بچپن ہی میں فوت ہو گئی، اس کے بعد گزشتہ چند برسوں میں میرے بھائی جان ضیاءالحق قاسمی اور پانچ بہنیں ایک ایک کر کے رخصت ہوتی چلی گئیں، اب ان میں سے کل میری ایک بڑی بہن زاہدہ باجی بھی ہمارا ساتھ چھوڑ گئیں،پہلے میں اور بھائی جان سات بہنوں کے دو لاڈلے بھائی تھے ۔ اب باقی میں اور دو بہنیں رہ گئی ہیں۔ راشدہ مجھ سے چھوٹی ہے اور صداقت آپی ہم دونوں سے بہت بڑی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا سایہ ہم پر سلامت رکھے ۔
زاہدہ باجی وزیرآباد میں سرداراسلامیہ گرلز اسکول میں ٹیچر تھیں۔ ان کا گھر اورا سکول دونوں آمنے سامنے تھے، ان کے میاں سید عبداللہ شاہ جنہیں ہم سب میر صاحب کہتے تھے اور وہ ان انتہائی شریف النفس لوگوں میں سے ایک تھے جن سے زندگی میں میری ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان ریلوے میں ملازم تھے اور روزانہ بابوٹرین میں سوار ہو کر لاہور آتے اور دفتر سے چھٹی کے بعد واپس اسی ٹرین میں واپس آتے۔ میں بابو ٹرین پر کبھی علیحدہ کالم لکھوں گا، یہ میری ٹرین نہیں تھی،یہ ایک کلچر بھی تھا، اس کے مسافر ایک فیملی کی طرح تھے۔ میں نے اپنے بہنوئی کے ساتھ اس ٹرین میں دو تین بار سفر کیا اور بے حد محظوظ ہوا۔جونہی ٹرین وزیر آباد کا پلیٹ فارم چھوڑ تی، اس کی ایک بوگی کے مسافر جو سب کے سب اپنے لاہور آفس جا رہے ہوتے تھے، اپنی پتلونیں اتار تے، اس کی جگہ دھوتی باندھ لیتے پھر ان میں سے دو تین لوگ اپنی جیبوں سے تاش کے پتے نکالتے اور ٹولیوں کی صورت میں تاش کھیلنا شروع کر دیتے، جونہی لاہور کی آمد آمد ہوتی ۔ یہ سب لوگ جلدی سے اپنی دھوتیاں اتار کر پتلونیں پہن لیتے یہ سب مختلف دفاتر کے ’’بابو‘‘ تھے اور یوں اب دوبارہ وہ ’’بابو‘‘ نظر آنے لگتے۔ کچھ عرصے بعد بھائی جان میر صاحب کو سعودی عرب میں ملازمت مل گئی اور پھر ان کی عمر کا بیشتر حصہ وہیں گزرا۔ اس دوران زاہدہ باجی کے کاندھوں پر بچوں کی پرورش اور ان کی تعلیم کا بوجھ تھا، وہ بعض اوقات پریشان ہو جاتی تھیں مگر انہوں نےا سکول کی تدریس کے دوران اپنا یہ فریضہ بھی اتنی جانفشانی سے ادا کیا کہ آج ان کی اولاد تعلیم یافتہ بھی ہے، اور خوشحال بھی ہے۔
کل جب میں نے گوجرانوالہ میں ان کا جنازہ اٹھتے دیکھا تو مجھے ان کی محبتیں یاد آئیں اور میری پلکیں نم ہو گئیں۔ وہ مجھ سے عمر میں دس سال بڑی تھیں۔ وہ وزیر آباد سے گوجرانوالہ آ گئی تھیں، اور ہم لاہور شفٹ ہو چکے تھے ۔ انسان جب صاحب اولاد ہو جاتا ہے اور جوائنٹ فیملی بکھر جاتی ہے تو تعلق قدرے کمزور ہو جاتا ہے لیکن میری سعادت آپی ، ساجدہ آپی ، حامدہ باجی اور بھائی جان ضیا ءالحق قاسمی کی محبت مجھے ان کی آخری سانسوں تک ملتی رہی ۔ یہی معاملہ زاہدہ باجی کا بھی تھا۔ دو سال پیشتر وہ علیل رہنے لگی تھیں۔ ایک دفعہ تو وہ معجزانہ طور پر موت کے منہ سے نکل آئیں۔ مجھے ملتیں تو کہتیں ’’شہزادے، تیرا دل مجھے ملنے کو نہیں چاہتا‘‘(شہزادہ میرا نک نیم ہے جو بہنوں کا دیا ہوا ہے)اور پھر مجھے چومنے لگتیں۔ میں انہیں کہا کرتا تھا’’باجی آپ اللہ سے ڈریں، یہ کیا کہہ رہی ہیں، مصروفیات کی وجہ سے کم ملاقات کا مطلب کم محبت تو نہیں ہوتا‘‘ اور وہ خوش ہو جاتیں ۔ ایک دفعہ انہوں نے بہت حیرانی کے عالم میں مجھے بتایا اور مجھے بھی حیران کر دیا کہ ٹرین میں سفر کے دوران ان کی ایک ہم سفر خاتون نے ان سے پوچھا ’’عطاءالحق قاسمی آپ کے کیا لگتے ہیں؟‘‘ باجی نے کہا ’’وہ میرا چھوٹا بھائی ہے، مگر آپ کو کیسے اندازہ ہوا؟‘‘ خاتون نے کہا ’’آپ کی شکل ان سے بہت ملتی ہے !‘‘ خون ایک ہو تو جو مماثلتیں ہمیں نظر نہیں آ رہی ہوتیں وہ دوسروں کو نظر آ جاتی ہیں!
زاہدہ باجی اپنی اولاد کے حوالے سے بے حد خوش قسمت تھیں، انہیں سید آصف شاہ اور قمر راٹھور اور میجر زاہد پیرزادہ ایسے داماد ملے اور سید نوید بخاری اور سید عدیل بخاری ایسے بیٹے، میں نے اپنی پچھتر سالہ زندگی میںاپنی ماں سے اتنی زیادہ محبت اور خدمت کرنے والے بیٹے نہیں دیکھے۔ ان کی ہر سانس میں اپنی ماں کی محبت کی خوشبو تھی۔ وفات سے ایک گھنٹہ پہلے انہوں نے اپنے بڑے بیٹے نوید کو بلایا اور کہا ’’آج کی رات میری زندگی کی آخری رات ہے، تم دونوں بیٹوں نے میری بہت خدمت کی ہے، میں تم سے بہت خوش ہو ں اس جہان سے رخصت ہو رہی ہوں ، تم بھائی بہنوں میں بھی بہت محبت ہے، اگر تم مجھے میرے مرنے کے بعد بھی خوش دیکھنا چاہتے ہو تو اپنی محبتوں میں کبھی کمی نہ آنے دینا‘‘ اس کے کچھ دیر بعد وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں:
اور اب میں ہوں اور بڑی بہن صرف ایک ہے، جو کراچی میں ہے اور یہ میری صداقت آپی ہیں، جو ہر وقت میری بلائیں لیتی رہتی ہیں،میری ماں میرے کھلنڈرے پن کی عمر میں اپنی مسلسل علالت کے دوران انتقال کر گئی تھیں۔ سو مجھے ان کے حصے کی وہ محبت جو ان کی علالت کے دوران مجھے اور ان کے والد سے بچوں کو ملنا ممکن ہی نہیں تھی اس کی کمی میری بہنوں نے پوری کر دی ۔ اب صداقت آپی ہیں جن کی شادی سید سلیمان شاہ سے ہوئی تھی اور وہ بہت پہلے انتقال کر گئے تھے یا میری لاڈلی چھوٹی بہن راشدہ ہے جو میرے فرسٹ کزن سید عزیر شاہ کے عقد میں ہے۔سات بہنوں اور ایک بھائی کا شہزادہ آج اداس ہے۔
(بشکریہ :روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker