عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

’’شادی کھانا بربادی‘‘: روزن دیوار سے / عطا ء الحق قاسمی

میرے دوست پوچھتے ہیں کہ ان دنوں تم بہت’’اسمارٹ‘‘ لگ رہے ہو۔ تمہارا حجم ایک بہت بڑے علامہ کے برابر ہوگیا ہے۔ اس اسمارٹنس کا راز کیا ہے، میں شرما کر جواب دیتا ہوں یہ سب شادیوں کی دین ہے، وہ تجسس کے مارے سوال کرتے ہیں’’کیا ایک سے زیادہ شادیوں سے وزن بڑھ جاتا ہے؟‘‘میں گڑبڑا کر وضاحت کرتے ہوئے انہیں بتاتا ہوں کہ میں نے کوئی نئی شادی نہیں کی، میں تو دوسروں کی شادی کی تقریبات میں شرکت کی بات کررہا ہوں، چنانچہ مرغن کھانوں سے یہ تبدیلی تو آنا ہی تھی۔ دوست احباب اپنی شادی کے بجائے دوسرے کی شادیوں میں شرکت کے عمل کو گناہ بے لذت قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر پوچھتے ہیں’’تمہیں ان شادیوں کی اطلاع کون دیتا ہے؟‘‘ مگر میں انہیں اپناSourceنہیں بتاتا کہ اس صورت میں گھڑس پڑنے کا امکان ہے اور یوں جو ہم جیسے سفید پوش عزت کی روٹی کھارہے ہیں ، وہ بھی اس سے محروم ہوسکتے ہیں۔
تاہم میرا اور علامہ صاحب کا معاملہ ایک دوسرے سے قدرے مختلف بھی ہے۔ علامہ صاحب محض عزت کی روٹی کے دلدادہ ہیں، خواہ اس عزت کی روٹی کے لئے انہیں کتنی ہی ذلت کیوں نہ برداشت کرنا پڑے جبکہ شادی کی تقریبات میں میری دلچسپی کی وجوہات اس کے علاوہ بھی ہیں۔ خصوصاً روایتی قسم کی شادیوں میں شرکت کا اپنا ہی مزا ہے۔ ان میں دولہا گھوڑے پر سوار ہوتا ہے، اس نے چہرے کوسہرے سے ڈھانپا ہوتا ہے اور جب وہ چہرے سے سہرا ہٹاتا ہے تو منہ اور ناک پر رومال رکھ کر کم از کم آدھے چہرے کو’’ناظرین‘‘ سے چھپانے میں ایک بار پھر کامیاب ہوجاتا ہے۔ دولہے کی طرح گھوڑے کا منہ بھی مختلف قسم کی آرائشوں اور آلائشوں سے ڈھانپا ہوا ہوتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ بیشتر صورتوں میں گھوڑے اور دولہے کی شکل میں مماثلت پائی جاتی ہے اور یوں خود کو حاسدین کی نظر بد سے بچانے کے لئے دونوں اپنے حسن کو ان سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گھوڑوں کی عمر کا بیشتر حصہ تجرد کی زندگی بسر کرنے میں گزرا ہوتا ہے، چنانچہ وہ دل پر پتھر رکھ کر دوسروں کی شادیوں میں شرکت کرتے ہیں، شاید اسی لئے باراتی ان دل زدگان سے احتیاطاً ایک دولتی کے فاصلے پر رہتے ہیں۔ دولہا کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ شادی سے پہلے اس کی غیر نصابی سرگرمیاں کیا تھیں لیکن اس کے منہ چھپانے سے یہ شک ضرور ہوتا ہے کہ وہ خود کو منہ دکھانے کے قابل نہیں سمجھتا، تاہم ایک دولہے نے اس کی وجہ مختلف بتائی ، میں نے اس سے پوچھا تم نے یہ رومال ناک پر کیوں رکھا ہوا ہے؟ اس نے سامنے کی قطار میں بیٹھے ہوئے چند نوجوانوں کی طرف اشارہ کرکے پوچھا انہیں دیکھ رہے ہو؟ میں نے کہا ہاں! بولا یہ کنوارے ہیں اور میرے قریبی دوست ہیں۔ ان کے فاسد خیالات کی بو مجھ تک پہنچ رہی ہے ناک پر یہ رومال میں نے ان کے فاسد خیالات کی وجہ سے رکھا ہوا ہے۔ ایک دفعہ یہی بات میں نے احساس محرومی کے مارے ہوئے ایک کنوارے گھوڑے سے بھی پوچھی تھی۔ میں نے پوچھا تم نے آنکھوں پر کھوپے کیوں چڑھائے ہوئے ہیں، اس نے کہا یہ کھوپے میرے مالک نے چڑھائے ہوئے ہیں تاکہ مجھے پتہ نہ چلے کہ میں شادی کی کسی تقریب میں موجود ہوں مگر میں بہرا تو نہیں ہوں قریب سے گزرنے والوں کی پازیب کی جھنکاریں اور شہنائی کی آوازیں تو بہرحال مجھے سنائی دیتی ہیں۔اتفاق سے اس گھوڑے کا مالک بھی کنوارا تھا میں نے اس سے پوچھا شادی کی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے تم کیا محسوس کرتے ہو، اس نے روکھے پن سے جواب دیا محسوس کیا کرنا ہے جی میری تو حس ہی ماری گئی ہے۔ آپ مٹھائی کی دکان پر بیٹھے ہوئے حلوائی سے پوچھ رہے ہیں کہ اسے مٹھائی سے کتنی رغبت ہے، یہ عجیب اتفاق تھا کہ شادی کی اس تقریب کا نکاح خواں بھی کنوارا ہی تھا،میں نے اس سے بھی یہی سوال پوچھا تو بولا اس وقت میں مصروف ہوں تم کسی فارغ وقت میرے حجرے میں آنا اور اکیلے آنا میں تمہاری تسلی کردوں گا۔
میں شادی کی تقریبات میں شرکت عزت کی روٹی اور متذکرہ امور کے علاوہ وہ تقریریں سننے کے لئے بھی کرتا ہوں جو نکاح خواں حضرات نکاح سے قبل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ قبل از وقت بھی ہوتی ہیں مثلاً ایک نکاح خواں نے نکاح سے پہلے طلاق کے موضوع پر تقریر شروع کردی اور پوری تفصیل سے بتایا کہ دولہا کن کن موقع پر اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے بلکہ بعض حاضرین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے موصوف نے یہ چھوٹ بھی دی کہ طلاق بغیر کسی وجہ کے بھی دی جاسکتی ہے جس پر دلہن کے والد کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا اور اس نے نکاح خواں کو غصے سے مخاطب کرکے کہا بس کرو جی نکاح پڑھاؤ۔ اس پر نکاح خواں نے طلاق کا موضوع تو چھوڑ دیا لیکن غالباً صورتحال کو بیلنس کرنے کے لئے اس نے شوہر کی وفات کی صورت میں عدت کے مسائل بیان کرنا شروع کر دیئے۔ اس بار دولہا نے سخت غصے کے عالم میں انہیں کاندھوں سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا مولوی صاحب آپ نکاح پڑھانے آئے ہیں نماز جنازہ نہیں۔ اس طرح ایک بار ایک نکاح خواں نے نکاح سے پہلے اپنی پرمغز تقریر میں دلہن کو کچھ نصیحتیں کرنا شروع کی اور بتایا کہ مرد کو خوش رکھنے کے لئے اس پر کیا کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، کیونکہ شروع میں شرم کی کوئی بات نہیں ہوتی لیکن یہاں بھی ان کو ٹوک دیا گیا اور انہیں مجبوراً خود کو صرف نکاح خوانی تک محدود رکھنا پڑا۔
مجھے اور علامہ کو ایک ہی دولہا کی متعدد شادیوں میں شرکت کاموقع بھی ملا ہے۔ اتفاق سے یہ صاحب ہمارے جاننے والے تھے اس جوان مرد نے دس برس میں نو شادیاں کیں۔ ہم ہر شادی کے بعد ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ اب کب حاضر ہوں، چنانچہ ان کی اگلی شادی کی خبر ہمیں اگر ان کی طرف سے نہیں تو ادھر ادھر سے بہرحال مل ہی جاتی تھی۔ انہیں شادیاں کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا وہ دراصل ایک این جی او میں کام کرتے تھے جو ایک سے زیادہ شادیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر ریسرچ پیپر شائع کرتی تھی۔ ان صاحب کا کہنا تھا کہ سنی سنائی پر یقین کرنا تحقیق کے بنیادی اصولوں کے خلاف، چنانچہ وہ خود اس تجربے سے گزرے لیکن انہیں ریسرچ پیپر لکھنے کی مہلت نہ ملی وہ اس ریسرچ کے دوران اتنے گوناگوں مسائل کا شکار ہوگئے کہ اپنی آخری شادی کا ولیمہ بھی نہ دیکھ سکے اور اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان کی این جی او نے ان کا شاندار مقبرہ تعمیر کیا اور قبر پہ یہ کتبہ لکھوایا ’’دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو‘‘۔ متذکرہ این جی او کے ڈونرز پاکستان آمد پر باقاعدگی سے ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker