عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

ایک ہے گدھا!۔۔عطا ء الحق قاسمی

میرا خیال ہے مجھے اپنا نام خدائی فوجدار رکھ لینا چاہئے۔ خدائی فوجدار کہلوانا مناسب نہیں کہ یہ منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ میرا معاملہ یہ ہے کہ:
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
میں کسی کو بھی دکھ میں دیکھوں تو اصلاحِ احوال کے لئے اپنی خدمات پیش کردیتا ہوں۔ ابھی گزشتہ شام میں نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ پھٹی پرانی اور گھسی پرانی پتلون میں صرف ایک شرٹ پہنے بازار میں گھوم رہا تھا،چنانچہ میں نے اس کی مدد کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اس کی طرف گیا اور کہا ’’نوجوان میں تمہاری کچھ مدد کرسکتا ہوں‘‘۔ نوجوان نے پوچھا ’’کس قسم کی مدد‘‘ میں نے کہا ’’اتنی سردی میں صرف ایک شرٹ اور پھٹی پرانی پتلون پہنے ہوئے ہو، بیٹے تمہیں سردی لگ سکتی ہے‘‘۔ اس نے ہنستے ہوئے کہا ’’جی ہاں لگتی تو ہے‘‘ مجھے اس کی یہ ہنسی بہت عجیب لگی لیکن میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور چند نوٹ اس کی ہتھیلی پر رکھے اور کہا ابھی بازار جاؤ اور اپنے لئے ایک گرم پتلون اور جیکٹ خریدو، اس نے ہاتھ بڑھا کر نوٹ ہاتھ میں پکڑتے ہوئے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور کہا ’’بزرگو! بہت شکریہ، آج میں اپنی گرل فرینڈ کی برتھ ڈے کے لئے بہت اچھا گفٹ لینا چاہتا تھا، اب میں اپنی گرل فرینڈ کے شایانِ شان گفٹ خرید سکتا ہوں۔ بزرگو! آپ کا بہت شکریہ، لیکن جو پتلون میں نے پہنی ہوئی ہے خاصی مہنگی ہے مگر اس کا فیشن ہے‘‘۔ لاحول ولا قوۃ، آئندہ سوچ سمجھ کر خدا ترسی کا مظاہرہ کرنا ہے۔
اِس سے پہلے بھی مجھے اِس نوع کے تجربات ہو چکے تھے اور یہ ’’سانحہ‘‘ ایک گدھے کے حوالے سے پیش آیا تھا، میں سوچتا تھا ان گدھوں کی بھی کیا زندگی ہے، ان کا سارا دن سامان ڈھونے اور مالک کے چھانٹے کھاتے گزر جاتا ہے۔ رات گئے ان گدھوں کو کھونٹی سے باندھ دیا جاتا ہے جہاں یہ چپکے چپکے آنسو بہاتے ہیں۔ایک مرتبہ میں نے ایک گدھے سےاظہارِ ہمدردی کیا تو اس کے بعد بس کچھ نہ پوچھیں،اُس گدھے نے جو میرے ساتھ کیا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
”گڈ آفٹر نون مائی ڈیئر ڈونکی“۔
”آپ نے شاید مجھ سے کچھ کہا ہے؟“
”ہاں میں نے تمہیں دوپہر کا سلام کیا ہے“۔
”وعلیکم السلام، میں دراصل اردو میڈیم گدھا ہوں، مجھے انگریزی نہیں آتی“۔ سوری، میں نے تمہیں ڈونکی کہا، تم تو ’’کھوتے‘‘ نکلے، ویسے ”کیا تمہارا مالک انگلش میڈیم ہے“؟ ”نہیں اردو میڈیم ہے، وہ انگلش میڈیم طبقےکیلئے گدھے بھرتی کرتا ہے“۔
”میں نے سڑک پر چلتے ہوئے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ زیادہ سامان لادھے جانے کی وجہ سے گدھا گاڑی آگے کو اٹھ جاتی ہے اور تم اس کے ساتھ ہوامیں معلق ہو جاتے ہو، تم اس ظلم کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے؟“۔ ”تم انسان خود پر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرتے ہو، مگر اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے جو ہم گدھوں کے احتجاج سے نکلے گا“۔ ”تم کم از کم محکمہ انسدادِ بےرحمی حیوانات سے شکایت تو کرسکتے ہو“۔
”یہ محکمہ ہم گدھوں کیلئے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیا تم لوگ پولیس اسٹیشن جاکر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی شکایت درج کراسکتے ہو؟ اگر نہیں توپھر اپنا مشورہ اپنے پاس ہی رکھو“۔
”میں نے سنا تھا کہ گدھا ایک بے وقوف جانور ہے لیکن تم تو اپنی باتوں سے خاصے عقلمند لگتے ہو“۔
کیا تم کبھی اسلام آباد گئے ہو؟ ”اکثر جانا ہوتا ہے“۔
”پھر تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ گدھا ایک بےوقوف جانور ہے“؟ اکیسویں صدی میں چودھویں صدی کے نظام کی گدھا گاڑی کھینچنا کوئی آسان کام ہے؟ مگر اسلام آباد میں بیٹھے میرے بھائی بند دقیانوسی نظام کی گاڑی برس ہا برس سے کتنی سہولت سے کھینچتے چلے جا رہے ہیں۔ خود میں بھی ان دنوں لنڈا بازار جانے کی سوچ رہا ہوں، وہاں سے کسی آنجہانی امریکی کا سوٹ اور ٹائی خریدوں گا، سنا ہے ان دنوں امریکی کاغذی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں بھی بازار سے سستے داموں مل جاتی ہیں بس تھوڑے سے پیسے جمع ہو جائیں، سوٹ کے بعد یہ ڈگری خریدوں گا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں تم میرے پی اے کی معرفت مجھ سے بات کرنے کے لئے ترس جاؤ گے اورتمہیں ہربار یہی بتایا جائے گا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں“۔
”میں نے تم گدھے سے بات کرکے کیا لینا ہے، تمہارے پاس کہنے کے لئے ڈھینچوں ڈھینچوں کے سوا ہے کیا؟“۔ ’’مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش نہ کرو، اپنی حد میں رہو“۔”میں اپنی حد اور تمہاری اوقات سے واقف ہوں‘‘۔’’خاک واقف ہو ،تم دو ٹکے کے ایک کالم نویس ہو، جو لکھنا چاہتے ہو وہ لکھ نہیں سکتے، گول مول بات کرکے ظالم اور مظلوم دونوں سے داد پانے کے چکر میں رہتے ہو، ایک کالم حکومت کے خلاف لکھ کر دس کالم حکومت کو خوش کرنے والے لکھتے ہو، ہر دور میں تمہارے قلم کا زاویہ بدل جاتا ہے، میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں میری طرح تمہاری دولتیاں بھی تمہارے کام کی نہیں ہیں“۔
اس گفتگو کے بعد میں نے جانا کہ جس جانور کو میں مظلوم سمجھتا تھا، وہ مظلوم نہیں بلکہ انتہائی بدتمیز اور بدتہذیب جانور ہے۔ میں ابھی وہاں سے جانے ہی کو تھا کہ اس نے مجھے آواز دی ’’اوئے وڈے کالم نگار میری ایک بات سنتے جاؤ!‘‘، ’’بولو‘‘۔ ’’ایک تو یہ کہ کسی گدھے کو زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو گدھا کہے اور دوسرے یہ کہ ضروری نہیں جو انسان نظر آتا ہے وہ انسان ہی ہو اور جو گدھا لگتا ہے وہ گدھا ہی ہو!‘‘
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker