عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

فراغت ہی فراغت!۔۔عطا ء الحق قاسمی

ساری عمر رعونت میں بسر کرنے والے لوگ جو اپنے دورِ اقتدار میں انسان کو انسان نہیں سمجھتے، ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے فارغ ہی فارغ لمحوں میں وہ ہاتھ میں تسبیح پکڑ لیتے ہیں بلکہ آپ کے سلام کا جواب بھی بڑی خوشدلی سے دینے لگتے ہیں اور اگر سچ پوچھیں تو وہ سلام کرنے والے کے دلی طور پر ممنون بھی نظر آتے ہیں، ان کا بس چلے تو وہ اگلے دن اسے شکریے کا خط بھی لکھیں کہ جناب والا میں آپ کا بہت ممنون ہوں کہ آپ نے مجھ حقیر پُرتقصیر کو سلام کیا، مگر وہ ایسا کر نہیں سکتے کیونکہ وہ اپنے پی اے کو ڈکٹیشن دینے کے عادی ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا سابقہ پی اے خود ان کے سلام کا جواب بہت سوچ سمجھ کر دیتا ہے۔ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے میں ایک بہت بڑے افسر کے دفتر میں، جو میرا کالج فیلو رہا تھا، بیٹھا کافی پی رہا تھا، گپ شپ کا سلسلہ جاری تھا، نائب قاصد تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھکی ہوئی کمر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتا اور اس کی میز پر کسی ملاقاتی کی چٹ یا اس کا وزیٹنگ کارڈ رکھ کر اسی طرح کبڑا بنے ہوئے کمرے سے نکل جاتا، میرا یہ دوست بڑی بےنیازی سے سائلوں کے ناموں پر ایک سرسری سی نظر ڈالتا اور پھر گپ شپ میں مشغول ہو جاتا، اس کی گفتگو کا زیادہ تر محور خود اس کی اپنی ذات تھی کہ سمریوں پر اس کے لکھے ہوئے نوٹ کتنے طاقتور اور موثر ہوتے ہیں وغیرہ۔ گزشتہ دنوں میری ملاقات اپنے اس دوست سے ہوئی مگر مجھے اسے پہچاننے میں دقت پیش آئی۔ اس کا رنگ جو کبھی سرخ و سفید تھا، پیلا پڑ چکا تھا۔ اسے شوگر اور بلڈ پریشر کے عوارض لاحق ہو چکے تھے، اس کے چہرے پر داڑھی اور ہاتھوں میں تسبیح تھی۔ ہم ایک قریبی چائے خانہ میں جا بیٹھے۔ اس روز اس کی گفتگو ’’دنیا فانی ہے‘‘ کے گرد گھومتی رہی، پتا چلا کہ دس برس پیشتر وہ ریٹائر ہو گیا تھا اور تمام تر کوشش کے باوجود مدتِ ملازمت میں توسیع نہ ملنے کے بعد سے وہ اس ’’کتی دنیا‘‘ سے منہ موڑ چکا ہے، وہ اب اپنا زیادہ تر وقت چلے وغیرہ کاٹنے میں گزارتا ہے۔
فراغت کے لمحات ان افراد کے پاس بھی وافر تعداد میں ہوتے ہیں جو سو دو سو مربع زمین کے مالک ہیں یا ارب پتی والدین کی لاڈلی اولاد ہیں۔ ان میں اکثر کا دماغ واقعی شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگرچہ زیادہ تر وقت امریکہ اور یورپ میں گزارتے ہیں مگر اپنے ’’آبائی حلقوں‘‘ سے یہ ہر دفعہ کامیاب ہو کر ہماری نمائندگی کیلئے اسمبلیوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ سے تمام تر محبت اور عقیدت کے باوجود یہ اس بات پر بہت خوش ہوتے ہیں کہ پاکستان میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے ان کے پاس ملازمین کی ایک فوج موجود ہے جو چند ہزار روپوں کے عوض ان کی ہر خدمت بجا لاتی ہے۔ یہ جب چاہیں انہیں نکال باہر کر سکتے ہیں، انہیں گالیاں دے سکتے ہیں اور پٹوا بھی سکتے ہیں۔ یہ طبقہ یہ سوچ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اگر خدانخواستہ وہ مغرب کے کسی ملک میں پیدا ہوئے ہوتے جہاں احترام انسانیت کے اصول موجود ہیں جن کی وجہ سے آپ انسان کو انسان سمجھنے پر مجبور ہیں اور یوں اس کے ساتھ انسانوں ایسا برتاؤ کرنا پڑتا ہے، تو ان کا کیا بنتا؟ کیونکہ جب اس طبقے کے افراد مغربی ملکوں کی سیاحت کو جاتے ہیں تو کسی کو ان کے عہدے اور مال و دولت کی پروا نہیں ہوتی، وہاں کوئی ’’سائل‘‘ گھنٹوں ان کے گھر کے بیرونی گیٹ پر نہیں بیٹھا رہتا۔ وہاں انہیں اپنے سارے کام خود ہی کرنا پڑتے ہیں، شاید اس وجہ سے یہ اپنی ’’حب الوطنی‘‘ پر اصرار کرتے اور موجودہ نظام کے خلاف جہاد کرنے والے دانشوروں کو غدار قرار دیتے ہیں۔
تاہم فراغت کے لمحات کا حامل ایک طبقہ بہت مظلوم بھی ہے۔ یہ وہ سفید پوش بابے ہیں جو پنشن پر گزارا کرتے ہیں، باہر تھڑے پر بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ گپ شپ کرنے کیلئے کوئی اسامی ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جب کوئی اس طرح کی اسامی ان کے ہتھے چڑھ جاتی ہے تو یہ اس وقت تک اسے اپنے پاس سے ہلنے نہیں دیتے جب تک وہ وہاں سے دوڑ نہیں لگا دیتا۔ ایک دفعہ میں بھی ایک اسی طرح کے بابے کے ہتھے چڑھ گیا تھا، میں ڈیفنس میں ایک دوست کا گھر ڈھونڈ رہا تھا، خوش قسمتی سے ایک بزرگ مجھے مل گئے۔ میں نے ان کے پاس گاڑی روکی اور اس دوست کے گھر کی بابت پوچھا۔ بولے ’’میں جانتا ہوں لیکن رستہ ذرہ پیچ در پیچ ہے۔ آپ خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں، چلیں میں آپ کو ان کے ہاں چھوڑ آتا ہوں، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ کار میں میرے برابر والی نشست پر براجمان ہو گئے۔ وہ مجھے کبھی دائیں اور کبھی بائیں جانب مڑنے کیلئے کہتے اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی رام کہانی بھی سناتے جاتے کہ ان کی شادی کس سن میں ہوئی، ان کی اولاد میں سے کون کیا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تقریباً ایک گھنٹہ گزر گیا اور بزرگ نے محسوس کیا کہ یہ ’’اسامی‘‘ اب ہر صورت میں ان سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو انہوں نے کہا آپ پریشان نہ ہوں، دائیں طرف مڑ جائیں، تیسرا گھر آپ کے دوست ہی کا ہے، میں دائیں جانب مڑ گیا، تیسرا گھر واقعی میرے دوست کا تھا، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہ کار سے اترے تو میں نے محسوس کیا کہ وہ دوڑنے کے انداز میں چل رہے ہیں۔ مجھے اس کی وجہ سمجھ آگئی، دراصل یہ وہی جگہ تھی جہاں میں نے ان بزرگوار سے راستہ پوچھا تھا۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker