عطاء الحق قاسمیکالملکھاری

عطا ء الحق قاسمی کا کالم:میرے بچپن کے دن! (قسط3)

مجھے یاد پڑتا ہے ہم بچے اسکول سے دوپہر کو آتے اور کھانا کھا کر سو جاتے۔ اُس کے بعد کچھ دیر اسکول کا کام کرتے پھر کھیلنے کے لئے نکل جاتے۔ والدہ اور بہنیں اِس دوران گھر کا کام کاج نمٹاتیں اور یہ سب کچھ ہنستے کھیلتے ہوتا۔ سردیوں کی راتیں بہت مزے کی ہوتی تھیں، رات کو ہم سب اہلِ خانہ ’’ہال کمرے‘‘ میں جمع ہو جاتے۔ اُن دنوں سردی بہت زیادہ پڑتی تھی، ہم امرتسر سے تازہ تازہ کشمیری کلچہ ساتھ لائے تھے چنانچہ سماوار میں کشمیری چائے پک رہی ہوتی اور ہم اپنی اپنی ’’کانگڑی‘‘ پاؤں کے درمیان میں رکھے لحاف گھٹنوں تک کھینچ کر بیٹھ جاتے۔ کبھی کبھی کسی کی بےاحتیاطی سے ’’کانگڑی‘‘ میں سے دہکتے ہوئے کوئلے کے باہر گرنے یا کانگڑی اور لحاف کے درمیان فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے آگ بھی لگ جاتی لیکن اسے ’’پارٹ آف دی گیم‘‘ سمجھا جاتا۔ نمکین کشمیری چائے کے ساتھ ’’کھنڈ کلچے‘‘ کھاتے ہوئے کسی کی نقلیں اتاری جاتیں۔ کسی لطیفے پر قہقہے لگتے۔ ہماری یہ محفل ’’کھلی کچہری‘‘ کی حیثیت بھی رکھتی تھی کہ اس میں اہلِ خانہ میں سے کسی کے طرز عمل کی شکایت بھی کی جاتی جس پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی۔
ماہِ رمضان میں وزیر آباد میں بہت رونق ہوتی، سحری کے وقت پورا شہر جاگ رہا ہوتا تھا۔ بازاروں میں آدھی رات کو بھی معمول کا کاروبار جاری رہتا، دن کے اوقات میں چائے اور کھانے پینے کی دکانیں بھی کھلی ہوتیں بس آگے پردہ ڈال دیا جاتا۔ روزہ دار اِن ریستورانوں کے قریب سے پوری سہولت سے گزرتے تھے اور کسی کا روزہ خراب نہیں ہوتا تھا۔ افطاری کا اعلان شہر کی مسجدوں میں رکھی ’’نوبت‘‘ بجانے سے کیا جاتا۔ مسجدیں روزہ افطار کرنے والوں اور نمازیوں سے بھری ہوتیں۔ لوگ ڈھیروں کے حساب سے اشیائے خورونوش مسجدوں میں بھیجتے تھے جس سے محلے کے تمام غیرروزہ دار بچے پورے خشوع و خضوع سے مستفید ہوتے!
ایک منظر جو مجھے کبھی نہیں بھولتا وہ عید کا چاند دیکھنے کا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں جتنی عیدیں بھی منائی ہیں وہ اپنی آنکھوں سے عید کا چاند دیکھ کر منائی ہیں۔ آخری روزے کی شام کو پورا وزیر آباد اپنے گھروں کی چھتوں پر آباد نظر آتا تھا۔ لڑکیاں لڑکے، مرد عورتیں، بوڑھے اور جوان سب کی نظریں عید کے چاند پر ہوتی تھیں۔ جب یہ چاند نظر آتا تھا سب بےاختیار ہو کر ایک دوسرے سے لپٹ جاتے اور عید کی مبارک باد کہتے۔ اب چاند رات کو میں چھتوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے دل پر بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔ وزیر آباد کے جس محلے میں ہمارا مکان تھا اس کے بالکل برابر والے مکان میں کرنال سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجروں کا ایک کنبہ آباد تھا۔ کنبے کے سربراہ کا نام صابو تھا، اس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے اور کسی لڑائی میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی تھی۔ اس کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ دوسری آنکھ بھی ضائع ہو، اس کے لئے وہ اپنے کنبے کے ہر فرد سے الجھنے کی کوشش کرتا۔ ہمارے مکان کی چھت پر سے ان کے صحن میں نظر پڑتی تھی وہ اکثر کونڈی ڈنڈے سے پسی ہوئی سرخ مرچوں کے ساتھ روٹی کھاتے ہوئے ہنستے ہنستے لڑنا شروع ہو جاتے اور پھر اسی کونڈی پر سے پتھر کا بنا ہوا ڈنڈا اٹھا کر ’’حریف‘‘ پر حملہ آور ہو جاتے۔ اس خوفناک جنگ کے دوران یہ لہولہان ہو جاتے۔ اگلے روز وہ ایک دفعہ پھر کونڈی ڈنڈے کے گرد بیٹھے مرچوں کے ساتھ روٹی کھاتے اور ہنستے کھیلتے دکھائی دیتے، میں نے ایک دفعہ ان کا ڈنڈا غائب کر دیا تھا جو میرے نزدیک فساد کی جڑ تھا مگر جب چھت پر سے میں نے انہیں سوکھی روٹی کھاتے اور ڈنڈا چرانے والے کی شان میں باآواز بلند کچھ نازیبا کلمات کہتے سنا تو چپکے سے ڈنڈا وہیں چھوڑ آیا جہاں سے اٹھایا تھا۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ اُس دور میں اسکولوں میں ماسٹروں اور گھروں میں والد کے ہاتھوں پٹائی کا بہت ’’فیشن‘‘ تھا۔ ماسٹروں سے کہا جاتا تھا کہ بچہ آپ کے سپرد کر رہے ہیں، اسے عالم فاضل بنا دیں۔ اگر یہ اِس دوران نافرمانی کرے تو اِس کی کھال پر آپ کا حق ہے، باقی بچا کھچا ہمارا، چنانچہ ماسٹر صاحبان والدین کی اِس خواہش کا پورا احترام کرتے تھے، جو کسر رہ جاتی تھی وہ گھر میں بڑا بھائی اور والد وغیرہ پوری کر دیتے تھے۔ اُس زمانے میں چونکہ بچوں کی نفسیات کے ماہر نہیں ہوتے تھے لہٰذا ان مار کھانے والے بچوں کے دلوں میں اپنے والدین اور استادوں کے خلاف دل میں کوئی نفرت بھی پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ اُن کے دلوں میں ان کے لئے بےپناہ محبت اور احترام کا رشتہ ہمیشہ باقی رہتا۔ ہمارا گھرانہ کوئی خوشحال گھرانہ نہیں تھا،ہم ویسی ہی زندگی گزار رہتے تھے جیسی زندگی پورا شہر گزار رہا تھا چنانچہ احساسِ محرومی نام کی کوئی چیز ہم میں نہیں تھی۔ غالباً ہر عید پر کپڑوں کا ایک نیا جوڑا مل جاتا تھا۔ شاید نئے جوتے بھی ملتے ہوں مگر اچھی طرح یاد نہیں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ہمارے گھر میں گائے کے گوشت کا داخلہ بالکل بند تھا۔ گھر میں صرف چھوٹا گوشت آتا تھا خواہ وہ ڈیڑھ پائو ہی کیوں نہ ہو۔ اُس زمانے میں قصائی کی دکان پر جو گاہک نظر آتے تھے وہ سب کے سب آدھ پاؤ، ایک پاؤ اور ڈیڑھ پاؤ گوشت والے ہی ہوتے تھے۔ سالم رانوں یا سالم بکروں کا آرڈر دینے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ نہ کسی کے پاس اتنے پیسے تھے اور نہ فریج یا فریزر کہ اُس میں گوشت ذخیرہ کر لیا جاتا۔ گھر میں جو پکتا ہمسایوں میں سے دو ایک قریبی ہمسایوں کی طرف اس کی ایک پلیٹ ضرور بھیجی جاتی چنانچہ پورے محلہ کو پتہ ہوتا تھا کہ آج کس کے گھر کیا پکا ہے۔ ایک دوسرے سے نمک، چینی، آٹا، گھی، چاول وغیرہ ادھار لینے میں بھی کوئی قباحت نہیں سمجھی جاتی تھی۔ چار پانچ روپے ادھار بھی مانگ لئے جاتے تھے کہ تمہارے بھائی کو ابھی تنخواہ نہیں ملی، تنخواہ ملنے پر کبھی یہ پیسے واپس مل جاتے تھے اور کبھی نہیں ملتے تھے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker