Author: ایڈیٹر

جدید تحقیق کی بدولت کسی فرد کی مخصوص جسمانی حرارت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔ ڈرون طیاروں یا دور مار میزائل میں نصب بارودی مواد فضا میں اچھالے جانے کے بعد اس حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ گزرے جمعہ کو گویا علی لاریجانی کی جسمانی حرارت ریکارڈ کرلی گئی تھی۔ کیوں اور کیسے؟ اس سوال کا جواب فراہم کرنا میرے بس میں نہیں۔ ’’جسمانی حرارت‘‘ مگر ریکارڈ ہوسکتی ہے جو دشمن کے ہاتھوں کسی فرد کا دور مارہتھیاروں سے قتل ممکن بناسکتی ہے۔مکمل کالم پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

محکمہ موسمیات نے بدھ کے روز بارش کی پیشگوئی کی تھی تاہم جب ساڑھے 8 بجے کے قریب شدید ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہوئی تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں موجود تھی۔
ڈیفنس اور ناظم آباد کے علاقوں میں عید کی خریداری کے لیے آنے والے شہری بھی بارش کی وجہ سے پھنس کر رہے گئے جبکہ سمندر کے کنارے دو دریا میں موجود ریستوران کا لکڑیوں سے بنا ایک حصہ بھی گر گیا۔مکمل خبر پڑھنے کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کابل میں ایک فضائی حملے میں100 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں کابل میں فارینزک لیبارٹری کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے ایک فضائی حملہ ہوا ہے ۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق اس مرکز کو پیر کی شام ایک فضائی حملے میں پاکستان کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔مکمل خبر کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ پروفیسر وارث میر کی تقریر تو مذہبی منافرت کا شاہکار تھی۔

اگر ہم آج تک کے حالات کا تجزیہ کریں تو تعطل یا بند گلی والی صورتحال ہے۔ جوہری طاقت بننے کے بعد اسرائیل کو مٹانا ممکن نہیں۔ دو ریاستی حل فریقین یعنی اسرائیل اور حماس جیسی فلسطینی تنظیموں کو قبول نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جنگ سے ایرانی رجیم کو ہٹانا بھی تقریبا ناممکن ہے۔ اس جنگ نے پوری دنیا کو معاشی بحران میں مبتلا کیا ہے۔ لیکن اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔

ملتان میں ایک علی گڑھ اسکول تھا جہاں عرش صدیقی،اے بی اشرف،مبارک مجوکہ اورابنِ حنیف اردو اکادمی کے اجلاس کرتے تھے ان کے ساتھ سلطان صدیقی ایڈووکیٹ بھی تھے جو علیگ تھے جن کی کتاب عرفانِ غالب تھی،یہاں فیضان احمد انصاری،ان کی بیگم نشاط(جن کے سرپرستوں میں مخدوم سجاد حسین قریشی تھے )،بھتیجی نوشابہ نرگس تھیں مولوی سلطان عالم بھی تھے جن کی وفات کے بعد اس تعلیمی ادارے کو ضلعی انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا تھا،کچھ علیگیوں کو اکٹھا کرکے اس کی انتظامی کمیٹی بحال کرائی جائے۔