یہ منظر 5 جولائی 1967ءکا ہے۔ مغربی اور مشرقی پاکستان ابھی متحد تھے۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے زراعت اور تعمیراتی امور کے وزیر جناب اے۔ایچ۔ایم۔ شمس الضحیٰ نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور اعلان کیا کہ ڈھاکہ میں تعمیر ہونے والے نئے دارالخلافہ کا نام ”ایوب نگر“ رکھا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل ایوب خان پاکستان کے صدر اور پاکستانی افواج کے سپریم کمانڈر تھے۔ دس سالہ ترقی کا دور آخری مراحل میں تھا اور 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے بعد دفاع میں کامیابی کے باعث عوام کا مورال نہایت بلند تھا۔ اگرچہ 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان میں محدود جھڑپیں ہوئی تھیں مگر مشرقی پاکستان کے عوام پاکستانی افواج کی فتح کے گیت اسی انداز میں گاتے تھے جیسے مغربی پاکستان کے عوام۔ ایسٹ پاکستان رائفلز کے جوان مغربی اور مشرقی محاذوں پر انتہائی بے جگری سے لڑتے رہے تھے۔ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم پوری قوم کی آنکھ کا تارا تھے۔ نذرالاسلام کو رابندر ناتھ ٹیگور جیسی عزت دی جاتی تھی۔ کوی جسیم الدین معروف بنگالی شاعر مانے جاتے تھے۔ فلم انڈسٹری پر بنگالی اداکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں کا راج تھا۔ اگرچہ دبے دبے لفظوں میں تین اطراف سے بھارت کی سرحدوں میں گھرے مشرقی پاکستان کے دفاع کی اہلیت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جاتا تھا مگر ایک پاکستانی سپاہی کے دس بھارتی سپاہیوں پر بھاری ہونے کے تعین کردہ معیار کے مطابق ان شکوک و شبہات کو اہمیت نہ دی جاتی۔
پریس کانفرنس میں شمس الضحیٰ نے اعلان کیا کہ صدر پاکستان محمد ایوب خان نے مشرقی پاکستان کے عوام کی خواہشات کے پیشِ نظر بکمال مہربانی اس بات کی اجازت مرحمت فرما دی ہے کہ ڈھاکہ کے نئے تعمیر ہونے والے دارالخلافہ جسے سرکاری زبان میں "The Second Capital at Dacca” کہا جاتا تھا کا نام ”ایوب نگر“ رکھ دیا جائے۔ اس سے قبل پاکستان کی سنٹرل گورنمنٹ نے مشرقی پاکستان کی حکومت سے عوام کی رائے حاصل کرنے کی تجویز دی تھی اور اس تجویز کو بھاری اکثریت سے پذیرائی ملنے کے بعد ڈھاکہ میونسپل کمیٹی نے ایک ریزولوشن کے ذریعے دوسرے دارالخلافہ کا نام ایوب نگر رکھنے کی منظوری دے دی تھی۔
مارچ 1969ءمیں تاریخ کا صفحہ پلٹتا ہے تو ایک نیا منظر سامنے آ جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو 1968ءمیں تاشقند معاہدے کی آڑ میں بطور وزیر خارجہ اپنا منصب چھوڑ چکے ہیں اور ملک بھر میں ایوب خان کے خلاف تحریک کا آغاز ہو جاتا ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ایوب خان کے خلاف چلائی جانے والی تحریک عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ افواج کے کمانڈر انچیف محمد یحییٰ خان ایوب خان کو اقتدار سے سبکدوش کر کے مارشل لاءنافذ کر دیتے ہیں اور بعد میں خود صدر کا عہدہ سنبھال لیتے ہیں۔ 1971ءکے عام انتخابات میں مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ اکثریت حاصل کر لیتی ہے مگر اقتدار اسے سونپنے کی بجائے قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی پھوٹ پڑتی ہے جو بعد میں بغاوت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔
مارچ 1971ءکے بعد سے ہی بھارت کے تعاون سے مشرقی پاکستان میں ایک نیم عسکری تنظیم مکتی باہنی جس میں بیشتر افراد بھارتی فوج کے اہلکار، ایسٹ پاکستان رائفلز کے باغی فوجی اور بنگالی رضاکار تھے وجود میں آ جاتی ہے اور بھارت کی جانب سے باقاعدہ دراندازی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی اور آزادی کے لیے بنگالیوں نے بے پناہ قربانیاں دی تھیں اور انہیں پاکستان کی آبادی میں اکثریت حاصل تھی۔ سادہ دل بنگالی قناعت پسند تھے مگر مغربی پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے معاشی ناانصافی اور تعصب کا شکوہ ضرور کیا کرتے تھے۔ 1965ءکی جنگ میں شکست کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لیے بھارت نے ایک خوفناک چال چلی اور بنگالیوں میں نفرت اور بغاوت کا بیج بو دیا۔ 1971ءکے انتخابات میں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود عوامی لیگ کو اقتدار دینے سے گریز نے سول نافرمانی اور بغاوت کے جذبات ابھارے۔ عاقبت نا اندیش سربراہانِ مملکت نے بجائے بنگالی بھائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کے فوجی طاقت کے ذریعے اس شورش کو دبانے کی حکمت عملی اختیار کر لی اور 25 مارچ 1971ءکی رات ”آپریشن سرچ لائٹ“ کا آغاز ہوا۔ بریگیڈیئر صدیق سالک اپنی کتاب ”مَیں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں یوں رقم طراز ہیں:
”26 مارچ کی پو پھٹتے ہی مختلف دستوں نے اپنا اپنا مشن مکمل کرنے کی رپورٹ دی۔ جنرل ٹکا خان جو ساری رات لان میں ہمارے ساتھ بیٹھے رہے علی الصبح اندر گئے۔ جب تھوڑی دیر بعد وہ رومال سے عینک کا شیشہ صاف کرتے باہر نکلے تو برآمدے میں مَیں کھڑا تھا۔ انہوں نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی اور خودکلامی کے لہجے میں فرمایا: ”اخاہ! کوئی بھی تو نہیں….“ مَیں نے باہر سڑک پر نگاہ ڈالی واقعی وہاں بنی نوع انسان کا نام و نشان تک نہ تھا۔ صرف ایک آوارہ کتا تھا جو دُم دبائے شہر کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ مَیں یونیورسٹی کیمپس میں ان قبروں کا جائزہ لے رہا تھا جن میں کئی کئی مُردے ٹھونس دیئے گئے تھے۔ مَیں نے وہاں پانچ سے پندرہ میٹر کے تین گڑھے دیکھے۔ ان گڑھوں میں پڑی ہوئی مٹی ان خاک کے پتلوں کی بے بسی کا پتہ دے رہی تھی جو بے کفن ان میں دفن تھے …….. مَیں نے وہاں موجود فوجی افسروں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پوچھی لیکن کسی نے سیدھا جواب نہ دیا۔“ (صدیق سالک)
فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صدر پاکستان کی محبت اور عقیدت میں 5 جولائی 1967ءکے روز ڈھاکہ کے نئے تعمیر شدہ دارالخلافہ کا نام ایوب نگر رکھنے والے 26 مارچ 1971ءکو انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔ 1971ءکے آغاز سے ہی مشرقی پاکستان کی سرحدوں پر بھارت کی جانب سے دراندازی شروع ہو جاتی ہے اور 1971ءکے اختتام تک اس کا دائرہ ایک خون آشام جنگ کی طرح مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے طول و عرض میں پھیل جاتا ہے۔
ڈھاکہ میں دوسرے دارالخلافہ کی تعمیر اور صدر ایوب کے نام پر اس کا نام ”ایوب نگر“ رکھنے کے ساڑھے تین برس بعد تاریخ کے پردے پر ایک نیا منظر ابھرتا ہے۔ جنرل ٹکا خان کے پیش رو جنرل امیر عبداﷲ خان نیازی المعروف ٹائیگر نیازی آپریشن سرچ لائٹ کی تکمیل کے بعد ایسٹرن کمانڈ سنبھال لیتے ہیں۔ دشمن کی ڈھاکہ تک رسائی کے لیے اپنی لاش پر گزرنے کے دعوؤں کے برعکس چند ماہ بعد نہ صرف مشرقی پاکستان کا دفاع کرنے میں ناکام رہتے ہیں بلکہ 11 دسمبر سے ہی بھارتی جرنیلوں سے رابطہ کر کے جنگ بندی کی ناکام کوشش شروع کر دیتے ہیں۔
بھارتی میجر جنرل ناگرہ ڈھاکہ کے نواح میں میرپور پل کے قریب پہنچ کر اور جنرل نیازی کو مطلع کر کے اپنا نمائندہ بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ میجر جنرل جمشید ناگرہ کا استقبال کرنے جاتے ہیں اور تین بھارتی فوج کی جیپیں سفید پرچم لہرائے ایسٹرن کمانڈ کے ہیڈکوارٹر کے باہر پہنچ جاتی ہیں۔ اس اثنا میں جنرل نیازی انڈین ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف میجر جنرل جیکب جو یہودی النسل تھے سے رابطہ کر کے انہیں ڈھاکہ میں لنچ کی دعوت دیتے ہیں جو بھارتی GHQ سے منظوری کے بعد قبول کر لی جاتی ہے۔ 16 دسمبر کی صبح بھارتی کمانڈر انچیف مانک شا خود میجر جنرل جیکب سے فون پر بات کر کے مختصر گفتگو کرتے ہیں:
"Jake, go and get a surrender.”
بقول بریگیڈیئر صدیق سالک ”اسی اثنا میں ایسٹرن کمانڈ کے ”ٹیک ہیڈکوارٹر“ کو سمیٹ لیا گیا۔ دیواروں پر سے جنگی نقشے اتار لیے گئے۔ وہاں پڑے ہوئے ٹیلی فونوں کی روح قبض کر لی گئی۔ بھارتی فاتحوں کا استقبال کرنے کے لیے ایسٹرن کمانڈ کے پرانے ہیڈکوارٹر کو جھاڑا پونچھا گیا۔“ میجر جنرل جیکب کے ڈھاکہ ایئرپورٹ پر استقبال کی تیاری کی جاتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بریگیڈیئر باقر صدیقی اسے ڈھاکہ ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں اور وہ دونوں ایسٹرن کمانڈ کی جانب روانہ ہو جاتے ہیں۔ راستے میں مکتی باہنی پاکستان آرمی کی سٹاف کار کا راستہ روک لیتی ہے اور فائر کا تبادلہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر میجر جنرل جیکب کار سے اترتے ہیں اور بلوائیوں کو ”انڈین آرمی“ کا حوالہ دیتے ہیں جس پر مکتی باہنی فائر تو روک دیتی ہے مگر وہ پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف کو ہر صورت ہلاک کرنے کی سعی کرتی ہے۔ بمشکل یہ قافلہ ایسٹرن کمانڈ پہنچ پاتا ہے اور میجر جنرل جیکب ایسٹرن کمانڈ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر گفت و شنید کرتے ہیں۔ سہ پہر کو میجر جنرل جیکب جنرل نیازی کو ساتھ لے کر جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے استقبال کی غرض سے دوبارہ ڈھاکہ ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہوتے ہیں جہاں جنرل اروڑہ اپنی پتنی کے ہمراہ ایک فاتح کے انداز میں وارد ہو رہے ہیں۔ میجر جنرل جیکب ایئرپورٹ پر مکتی باہنی کے ایک سرغنہ ٹائیگر صدیقی کو دیکھتے ہیں جو مکتی باہنی کے اہلکاروں کا بھرا ہوا ٹرک لے کر رن وے پر موجود تھا اور اس کا نشانہ بلاشبہ جنرل نیازی ہی تھا۔ بصد مشکل میجر جنرل جیکب ٹائیگر صدیقی کو چلتا کرتا ہے کیونکہ وہ ہر صورت شام کو منعقد ہونے والی تقریب کے لیے ٹائیگر نیازی کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔
16 دسمبر 1971ءکی اس شام کے دھندلکے میں رمنا ریس گراؤنڈ کے مقام پر مشرقی پاکستان کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا اور آسمان کا بدلتا ہوا رنگ سیاہ پڑ گیا۔
فیس بک کمینٹ

