بابر چوہدریتجزیے

بابر چوہدری کی خصوصی رپورٹ : پاکستان میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی تاریخ : محترمہ فاطمہ جناح کوبھی غدار قرار دیا گیا

ملتان : پاکستان میں سیاسی مقاصد کیلئے جلسے، جلسوس، احتجاج، ہڑتال اور توڑ پھوڑ کی روایت 69برس پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ کے دور میں سب سے پہلے اس روایت کی ابتدا ہوئی جب خواجہ ناظم الدین کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے احتجاج کا سلسلہ شروع کرایا گیا جو پر تشدد صورت بھی اختیار کر گئے تھے۔
ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں بھی ایسے مظاہرے اور احتجاج ہوئے۔ بھٹو مخالف نو ستارے یا قومی اتحاد نے بھی مظاہروں، ہڑتالوں اور پر تشدد احتجاج کو فروغ دیا۔
جنرل ایوب خان کوعوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا لیکن و ہ جاتے جاتے اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کرگئے۔
ذوالفقار علی بھٹو کیخلاف دینی اور سیاسی جماعتوں سے تحریک چلائی،اس کا نام ’’پاکستان قومی اتحاد رکھا گیا‘‘۔اس کا ’’ اجر‘‘ جنرل ضیا الحق نے لیا
۔’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے نو ستارےمولانا مفتی محمود،شاہ احمد نورانی، ایئر مارشل اصغر خان اور دیگر ہاتھ ملتے رہ گئے۔
پچھلی تین دہائیوں میں تقریباً ہر حکومت نے اس کا سامنا کیا ہے اور احتجاجیوں نے مارشل لاء اور جمہوری حکومتوں سب سے ہی اپنے مطالبات منوانے کی غرض سے ڈی چوک کا رخ کیا۔
دھرنے کی تاریخ اور ڈی چوک کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ 1980 سے شروع ہونے والے دھرنوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
پہلی بار 4 جولائی 1980 میں اسلام آباد کی جانب ایک مارچ شروع ہوا۔ مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والا ایک فرقہ اس وقت کے صدر ضیاء الحق کے زکوۃ و عشرہ آرڈیننس کیخلاف ڈی چوک پہنچا، مفتی جعفر حسین کی قیادت میں احتجاجیوں نے سیکرٹریٹ پر قبضہ کر لیا اور حکومت وقت سے اپنے مطالبات منوا لیے، یعنی دھرنا کامیاب رہا۔
17 اگست 1989 میں لانگ مارچ نے اسلام آباد کا رخ کیا۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے نواز شریف کی قیادت میں عین اس دن مارچ شروع کیا جس دن ضیاء الحق کی برسی تھی اور یہ پہلی بار تھا جب شہر اقتدار کو بند کر دیا گیا ، بعد میں وزیر داخلہ اعتزاز احسن نے ضیاء الحق کی برسی منانے والوں کیلئے اسلام آباد کو کھول دیا اور یہ دھرنا ختم ہوگیا۔
پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ کی اصطلاح بے نظیر بھٹو نے متعارف کرائی۔ نواز شریف کی حکومت کے خلاف انھوں نے 1992 میں ’لانگ مارچ‘ کیا جو لاہور سے شروع ہوا تھا۔ بینظیر نے اعلان کیا کہ 18 نومبر کو ایوان صدر اور پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انھوں نے توقع ظاہر کی کہ وفاقی دارالحکومت میں چار لاکھ افراد جمع ہو گئے تو یہ حکومت نہیں رہے گی۔
لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت نے غیر معمولی اقدامات کیے، پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں اور اسلام آباد کو فوج کی تحویل میں دے دیا گیا۔ عام انتخابات 1990 میں دھاندلی کے حوالے سے 16 نومبر 1992 کے روز اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی شروع کی گئی لیکن بے سود رہی۔
اگلے ہی سال یعنی 16 جولائی 1993 کو ایک بار پھر مارچ کا آغاز ہوا۔ مطالبہ تھا اس وقت کے صدر اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ۔
یہ 24 جون 1996 ء کا واقعہ ہے۔ راولپنڈی کے گلی کوچوں میں قاضی حسین احمد کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ اچانک قاضی حسین احمد لیاقت باغ کے قریب آریہ محلہ سے نمودار ہوئے تو پولیس فورس ان کو گرفتار کرنے کے لئے حرکت میں آ گئی لیکن مری روڈ پر موجود ہزاروں پرجوش کارکنوں نے ان کو اپنے حصار میں لے لیا پولیس کے ساتھ کھینچا تانی میں قاضی حسین احمد کے سر سے ٹوپی گر گئی پہلی بار کسی نے قاضی حسین احمد کو ٹوپی کے بغیر دیکھا کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر محفوظ کر لیا ۔اس وقت کوئی وٹس ایپ تھا اور نہ ہی وڈیو بہر حال جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں کے سامنے مسلح پولیس بے بس نظر آئی اور وہ قاضی حسین کو پولیس سے چھین کر لے گئے ۔قاضی حسین احمد تمام رکاوٹیں عبور کرتے اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں تو مہاتما گاندھی کا برت اور دھرنا مشہور تھا لیکن اس روز قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں بے نظیر حکومت کی کرپشن کے خلاف پہلا دھرنا دیا تو ہر کوئی سوال کر رہا تھا ”یہ دھرنا کیا ہوتا ہے؟“ جس کے نتیجے میں بے نظیر کی حکومت ختم ہو گئی۔
جماعت اسلامی نے ’’پاکستان اسلامی فرنٹ بنا کر‘‘ 1993 کے انتخابات میں حصہ لیا تو اس سے پیپلز پارٹی مخالف ووٹ تقسیم ہوگئے۔’’ یوں بے نظیر بھٹو دوبارہ اقتدار میں آ گئیں۔ اب پیپلز پارٹی مخالف پریس کا جماعت پر یہ مسلسل دباؤ تھا کہ ‘’’تم ہی نے درد دیا ہے، تم ہی دوا دو گے۔‘‘
دوسری طرف ملک میں بدانتظامی اور بدعنوانی کے قصے زبان زد عام تھے اور ہر مبینہ قصے کا آغاز اور انتہا جناب آصف زرداری پر جا کر ٹوٹتی۔‘
اس کے بعد تقریبا ایک دہائی تک کوئی دھرنا یا لانگ مارچ دیکھنے کو نہیں ملا کیونکہ 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ پرویز مشرف کی جانب سے الٹا گیا۔ عوام ایک دہائی پر محیط ڈکٹیٹر کی حکومت سے عاجز آئے اور اس بار عوام اور سیاسی جماعتوں کو لیڈ کیا مقننہ نے، یعنی سپریم کورٹ کے معزول جج افتخار چوہدری نے۔ اس بار تحریک میں وکلاء اور ججز شامل تھے جبکہ نواز شریف انکے پشت پر تھے۔
نومبر 2007 میں پرویز مشرف کی جانب سے ایمرجنسی لگا دی گئی اور 10 ججز کو معزول کر دیا گیا۔اسکے بعد کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں آیا۔
14 اگست 2017 کو ایک لانگ مارچ لاہور سے شروع ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور علامہ طاہر القادری مشترکہ طور پر اس مارچ کو لیڈ کر رہے تھے جن کا نشانہ نواز شریف اور اقتدار میں آنے والی حکومت تھی۔
2013 میں ایک بڑی سیاسی سرگرمی علامہ طاہر القادری کی طرف سے ہوئی۔ ان کی جماعت پاکستان عوامی تحریک نے 2013 میں عین عام انتخابات کے اعلان سے قبل اسلام آباد میں ایک دھرنا اس اعلان کے ساتھ دیا کہ اس میں 50 لاکھ افراد شرکت کر رہے ہیں۔ چند ہزار افراد پر مشتمل یہ دھرنا کسی کامیابی کے بغیر ختم ہو گیا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت نے علامہ صاحب کو فیس سیونگ دینے کے لیے مسلم ق کی قیادت کے ذریعے مذاکرات کیے۔ طاہر القادری اس دھرنے کے لیے 2013 کے انتخابات کو رکوانا چاہتے تھے لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔اس کوشش کی ناکامی کے بعد طاہر القادری ایک برس کے بعد یعنی اگست 2014 میں دوبارہ ماضی جیسے ہی ایک جلوس کے ساتھ جسے لانگ مارچ کا نام دیا گیا تھا، اس بار پاکستان تحریک انصاف بھی ان کے شانہ بشانہ اسلام آباد پہنچی۔
طاہر القادری نے اپنی تقریروں میں نظام کو لپیٹ دینے کے مطالبات کیے۔ ان کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات کی نوعیت زیادہ سیاسی تھی۔
اگست کے اختتام تک یہ دونوں دھرنے علیحدہ علیحدہ رہے لیکن 30 اگست کو اکٹھے ہو گئے اور انھوں نے ان عمارتوں پر حملہ کر دیا جو ریاست پاکستان کے اقتدار کی علامت ہیں، سپریم کورٹ کی دیواروں پر گندے کپڑے پہلے ہی لٹکائے جا چکے تھے۔
2013 کےانتخابات کو دھاندلی زدہ کہا گیا اور یہ احتجاج ڈی چوک میں 126 دن جاری رہا لیکن 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں اے پی ایس سانحہ اور کچھ مطالبات منوا کر یہ دھرنا اختتام پذیر ہو گیا۔
2018 میں انتخابات ہوئے اور فضل الرحمن سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا اور اب مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا قافلہ لے کر کراچی سے اسلام آباد پہنچے ۔ رواں برس عمران خان کی حکومت کیخلاف مارچ ہوئے۔عمران خان کی حکومت تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہوئی تو اتحادی جماعتوں نے اقتدار سنبھال لیا۔پہلا موقع ہے کہ بلا تا خیر پی ٹی آئی نو منتخب حکو مت کیخلاف سڑکوں پر ہے اور حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔ ماضی میں اسلام آباد کی کی طرف مارچ ،دھرنوں کیلئے نئے نئے نعرے متعارف کرائے گئے،اقتدار کے لیے بھو کے بنگالی کا نعرہ لگا ،ملک دو لخت ہوگیا۔فوجی آمر کیخلاف الیکشن لڑنے پر قائداعظم کی بہن کو بھی نہ بخشا گیا،محترمہ فاطمہ جنا ح کو ’’غدار ‘‘کہا گیا۔’’ظالموں قاضی آرہا ہے ‘‘بھی قوم کو اچھی طرح یاد ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے’’روٹی کپڑا اور مکان ‘‘کا نعرہ لگا کر عوام کو اکٹھا گیا۔اسی ملک میں عوام کے بہتری مفاد میں ’’نظام مصطفیٰ ‘‘کا نعرہ لگا۔ حصول اقتدار کیلئے ’’ بھٹو کی بیٹی آئی ہے‘‘ کا نعرہ بھی لگایا گیا۔ نواز شریف ’’ ملک سنوارنے اور قرض اتارنے‘‘ کیلئے آگئے۔پھر حضرت مشرف اس ملک پر وارد ہوئے اور ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ مستانہ لگایا۔مشرف کو اتارنے کیلئے ’’ آزاد عدلیہ ‘‘ تحریک چلی۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان’’ نیا پاکستان‘‘ اور ’’ریاست ‘‘ کے جذبانی نعروں کے ساتھ میدان اتر گئے۔عمران خان کی حکومت ختم ہوئی آج ایک بار پھر ’’ غلامی نہیں آزادی ‘‘کا نعرہ لے کر اسلام آبادکی طرف مارچ کرنےجارہے ہیں۔ماضی اور حال کے دلچسپ نعروں سے ملکی حالات تو بہتر نہ ہوئے البتہ سیاسی جماعتیں اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب رہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ بدلتا زمانہ )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker