اختصارئےببرک کارمل جمالیلکھاری

بینظیر کے مزار کا 13 نمبر دروازہ۔۔ ببرک کارمل جمالی

ﺳﺎﺑﻖ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻈﻢ ﺷﮩﯿﺪ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﺑﯿﻨﻈﯿﺮ ﺑﮭﭩﻮ ﻣﻠﮑﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﯽ بے ﻣﺜﺎﻝ ﻟﯿﮉﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﺲ ﺟﻮﻥ 1953 ﮐﻮ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯿﮟ ، ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺮﺍﭼﯽ ، ﺭﺍﻭﻟﭙﻨﮉﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﭘﮩﻠﮯﮨﺎﻭﺭﮈ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍٓﮐﺴﻔﻮﺭﮈ یونیورسٹی ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ۔ ﺍٓﺭﻣﯽ ﭼﯿﻒ ﺟﻨﺮﻝ ﺿﯿﺎ ﺍﻟﺤﻖ ﻧﮯ 1977 ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺭﺷﻞ ﻻﺀ ﻧﺎﻓﺬ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﭩﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﻮگئے ۔ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺑﮭﭩﻮ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺳﺰﺍﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ۔ 1985 ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺷﺎﮨﻨﻮﺍﺯ ﺑﮭﭩﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﺍﺳﺮﺍﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﯾﮧ ﺩﻭﺭ ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮﺑﮭﭩﻮ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﺎ 1988 میں بے نظیر بھٹو ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺴﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ 20 ﻣﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﮐﺮﭘﺸﻦ ﮐﮯ ﺍﻟﺰﺍﻣﺎﺕ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ۔ 1993 ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﮯﻧﻈﯿﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧﭘﮭﺮ ﻓﺎﺗﺢ ﺗﮭیں آخر وہ دن آگیا 27 ﺩﺳﻤﺒﺮ 2007 ﮐﻮ ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮ ﺑﮭﭩﻮ ﻟﯿﺎﻗﺖ ﺑﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﯽ ﺟﻠﺴﮯ ﺳﮯ ﺧﻄﺎﺏﮐﺮﻧﮯ ﺍٓﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﮏ ﻭﻗﺖ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﺍﻭﺭﮔﻮﻟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﻧﺞ ﻧﮯ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮧ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ ۔ﺑﮯ ﻧﻈﯿﺮ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﺩﻡ ﺗﻮﮌﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ آج جس سندھ دھرتی کے جو حالات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ میں بھی محترمہ کے مزار پہ کئی مرتبہ گیا مگر میں نے جو دیکھا وہ حیران کن تھا محترمہ کے مزار پہ کئی خصوصی دروازے ہیں جن میں ایک دروازہ بلاول کا ، ایک دروازہ آصفہ کا ، ایک دروازہ زرداری کا ، ایک صحافیوں کا ، ایک پی پی کے ایم این ایز کا ، ایک ایم پی ایز کا ، ایک وکیل برادری کا ، ایک دروازہ سندھ پولیس کا ، ایک دروازہ پی پی کے سندھ کے کارکنوں کا ایک دروازہ چاروں صوبوں کے پی پی کے جیالوں کا۔۔ میں سوچ رہا تھا آخر عوام کا دروازہ کون سا ہے۔ جس سے ہم جیسے لوگ داخل ہو سکیں میں اسی کوشش میں تھا کہ ہم کس دروازے سے اندر جائیں ۔ تو اس دوران ہمیں بتایا گیا کہ ہم جیسے غریبوں کا دروازہ 13 نمبر ہے اس دروازے تک پہنچنا بہت مشکل ہے یہ ایک ایسا دروازہ ہے جس پہ کچھ پولیس والے ہماری مکمل تلاشی لینےکے لئے کھڑے تھے۔ جب ہمیں اپنا دروازہ ملا تو ہم مشکل میں پھنس گئے اب ان لاکھوں لوگوں کے بیچ میں ہم اپنی بائیک کہاں ٹھہرائیں ؟ 15 منٹ کی مسافت کے بعدپارکنگ کی جگہ ملی وہاں 50 کا نوٹ دے کے بائیک ٹھہرایا ۔ اب ہم اندر کی طرف چل پڑے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارا شناختی کارڈ دیکھا گیا ۔ ہماری مکمل تلاشی لی گئی جیسے ہم بڑے دہشت گرد ہیں پاؤں سے لیکر سر تک تلاشی کےبعد مجھے اندر داخل ہونے دیا گیا۔ بلوچستان کا شناختی کارڈ ہمیں مہنگا پڑ گیا شاید سی پیک کی ترقی کی وجہ سے ہم انہیں برے لگنے لگے کیونکہ کراچی کی جگہ اب گوادر ترقی کرے گا ؟؟؟
خیر ہم اندر داخل ہو گئے تو الگ الگ پنڈال بنے ہوئے تھے ایک پنڈال غریبوں کا ، ایک وڈیروں کا ، ایک پنڈال سینئیر صحافیوں ، ایک نوجوانوں کا ، ایک پنڈال جیالوں کا ،ایک پنڈال بچوں کا تھا جنہیں آج سکول سے چھٹی دی گئی تھی رش اتنا تھا کہ کوئی اٹھتا تو جلد اس کو بیٹھنے کا کہہ دیا جاتا تھا۔ یہاں پہ ایم این اے ، ایم پی اے نظر آ رہے تھے جن کے چہرے بہ مشکل جیالے دیکھ پاتےتھے ۔ ہم نے بہ مشکل ایک جگہ ڈھونڈھ لی جس جگہ پہ بیٹھ کر ان کا چہرہ کچھ کچھ دیکھا جا سکتا ہے تقاریر کا آغاز ہمیشہ کی طرح چھوٹے چھوٹے جیالوں نے کیا پھر کچھ بڑے جیالے آ گئے پھر اس سے بڑےجیالے ۔۔ اس طرح تقاریر چلتی رہیں جیالے نعرہ لگانے میں اس قدر مصروف تھے کہ وہ سردی کو بھی بھول گئے شدید سردی کا احساس تک نہ رہا اسی دوران سب سے بڑا جیالا آ گیا وہ بہت جذباتی تھا سب پہ تنقید سب کو تیر کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہم عوام ان کی تقاریر پہ لطف اندوز ہوتے رہے جیالے تالیاں بجاتے رہے ٹی وی پہ عوام بھی جذباتی تقاریریں سننے کے ساتھ جذباتی ہوتےرہے۔ میں سب کچھ سن رہا تھا گانے تقریریں سن سن کر ہم جلسہ گاہ سے باہر نکلے جلسہ ختم ہوا تقاریر ختم ہوئیں اور ہم اپنی بائیک کی طرف چل پڑے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker