ایک بات کہوں مارو گے تو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
جناب جا رہے ہیں۔ !!!
لیکن پلیز جاتے جاتے صرف بھاشن نہ دیں اور نہ ہی اپنی معصومیت کے قصے سنائیں ۔پلیز جاتے جاتے آپ ہمیں یہ بھی نہ بتائیں کہ آئندہ سے آپ نیوٹرل رہیں گے ۔کیونکہ یہ وقت بتاۓ گا کون نیوٹرل ہے یا کون نہیں؟؟؟
لیکن جو کچھ آپ چھوڑ کر جارہے ہیں بس ذرا اس کو پلٹ کر دیکھتے جائیں ۔۔۔۔
ایک تقسیم شدہ قوم
اک عضوِ معطل جیسی پارلیمنٹ
ایک مفلوک الحال اور دم توڑتی معیشت
آٹے کی ٹرالیوں کے پیچھے بھاگتے بھوکے ننگے لوگ
ایک جکڑا ہوا بدبودار اور دنیا میں 129ویں نمبر کا نظامِ انصاف
ایک بکا ہوا میڈیا
ذہنی معذوربد زبان اور شعور سے عاری دانشور ،تجزیہ نگار
ایک ذہنی افلاس پر مبنی سوچ۔۔۔
فرقہ واریت
نسلی امتیاز
تین صوبوں میں بغاوت کی آگ
محرومیاں
کٹھ پتلی سیاستدان
نفرت سے بھرا سوشل میڈیا
مایوس و ناامید گالیاں بکتے نوجوان
برباد درسگاہیں
رٹا سسٹم
بانجھ تعلیمی نظام
یہ ہے وہ ترکہ جو آپ اپنے پیچھے چھوڑے جا رہے ہیں ۔ اور توقع کرہے ہیں کہ آپ کے نیوٹرل ہونے سے یہ سب راتوں رات درست ہوجاۓ گا ۔۔۔
کیسے ہو جائے گا؟پلیز یہ بھی بتا تے جائیں ۔۔۔!!!!!!!
کاش آپ تب نیوٹرل ہوتے کہ جب شیخ مجیب الرحمن محترمہ فاطمہ جناح کا چیف پولنگ ایجنٹ تھا
کاش کاش کاش ۔۔۔۔یہاں بہت سارے کاش ہیں کس کس کا ذکر کروں ۔۔۔؟؟؟
شاید اس سے آپ کو کوئی غرض بھی نہ ہو اور ہونی بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ آپ کا مسئلہ ہی نہیں
یہ پاکستان کا مسئلہ ہے
میرا مسئلہ ہے
میرے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے
آپ جائیں خیر سے
آپ بدلے ہیں “ڈنڈا”نہیں بدلا
دیکھیں اب یہ کس طرف گھومتا ہے
خُداحافِظ
فیس بک کمینٹ

