افق پر وہ جو اک روشن ستاراہے ، ہمارا ہے
کسی کا بھی اگر اُس پر اجارہ ہے ، ہمارا ہے
یہ سب پتوار، سب لہریں، سبھی دھارے کسی کے ہیں
کہیں ٹوٹا ہوا جو اک کنارا ہے ، ہمارا ہے
کوئی پوچھے ہمارا کون ہے تو تم بتا دینا
جو سب سے خوبصورت اور جو پیارا ہے ، ہمارا ہے
چمکتا سا جو ان آنکھوں میں ہے اک خواب اُس کا ہے
لرزتا سا جو پلکوں پرستارا ہے، ہمارا ہے
جو اک مسند نشیں تھا کیا خبر وہ کون،کس کا تھا
مگر جو دار سے تم نے اتارا ہے، ہمارا ہے
نہ جانے کس کا رستہ تھا ، نہ جانے کس کا جیون تھا
مگر یہ سوچ کر ہم نے گزارا ہے ، ہمارا ہے
تری بھیگی ہوئی آنکھوں سے جو پیغام بھی چھلکے
رضی ہم جان لیتے ہیں ہمارا ہے ، ہمارا ہے
( جتنا دھڑکا ہوں تیرے سینے میں ۔۔ مطبوعہ دسمبر 2015 ء )
فیس بک کمینٹ

