ملتان: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات ہوئے تو پی پی پی ملک بھر سے کامیاب ہوگی۔ پی پی پی نے جنوبی پنجاب کے لئے جتنا کام کیا، کسی اور نے نہیں کیا۔گو میاں صاحب کو اکثریت دلوائی گئی، عمران خان کو لایا گیا مگر جنوبی پنجاب کے لئے کام صرف پی پی پی نے کیا۔ ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ملتان میں پیپلز سیکریٹریٹ میں کالم نویسوں اور مدیران سے ملاقات کے دوران کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کالم نویسوں اور مدیران کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر تفصیلی طور پر تبادلہ خیال کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہاکہ جنوبی پنجاب میں پی پی پی کی حکومت نے ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا، ایک وزیراعظم جنوبی پنجاب سے دیا، پاکستان پیپلزپارٹی خوش حال، ترقی پسند اور ایک جمہوری پاکستان چاہتی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کو ایک سازش کے تحت پنجاب میں نقصان پہنچایا گیا اور یہ سب کو پتہ ہے کہ کیسے ہوا۔سندھ میں این آئی سی وی ڈی کے منصوبے سے جنوبی پنجاب کے عوام بھی فائدہ اٹھارہے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے فرحت اللہ بابر کی سربراہی میں پارلیمانی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد ہونا چاہئیے۔۔موجودہ حکومت ملک کی ثقافتی اکائیوں کی پہچان کو چھیننا چاہتی ہے، انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف کی واپسی ان کی اپنی مرضی ہے تاہم عوام کو الطاف حسین اور اشرف غنی ماڈل قبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کی لیڈرشپ عوام کے درمیان رہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں نہ عثمان بزدار کو ہٹانا چاہتی ہیں اور نہ عمران خان کی حکومت کو گرانا چاہتی ہیں، ۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو اپنے غیرسنجیدہ روئیے کے ساتھ کوئی کامیابی نہیں مل سکتی۔میں نے اس حکومت کے پہلے دن قومی اسمبلی میں عمران خان کو سلیکٹڈ کہا تھا۔ہم نے عمران خان کے خلاف سینیٹ کی نشست جیتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پی پی پی دورِ حکومت میں ڈی اے پی کھاد کا تھیلا ساڑھے تین ہزار روپوں میں ملتا تھا اور آج سات ہزار روپے کا ہوچکا ہے۔پی پی پی دورِ حکومت میں یوریا کھاد کا بارہ سو میں ملنے والا تھیلا آج دوہزار روپے کا ہوچکا ہے۔ جب پاکستان پیپلزپارٹی حکومت بنائے گی تو کھاد پر سبسڈی کو بحال کرکے قیمتوں کو کم کیا جائے گا،
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ مہنگی بجلی، کھاد اور ڈیزل کی وجہ سے کسانوں کے لئے اچھی فصل دینا ممکن نہیں رہا جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہوگئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی حکومت میں پنجاب کے کسانوں کے لئے خصوصی پیکجز دے گی۔وفاقی حکومت نے جنوبی پنجاب میں سیکریٹریٹ کے قیام کا ڈرامہ کیا۔پنجاب کو ہم عثمان بزدار کی نالائق حکومت پر نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کی بعض جماعتوں کے غلط بیانئے کی وجہ سے اپوزیشن ایک پیج پر نہ آسکی۔پی پی پی آئندہ حکومت بنا کر عوامی مسائل کو حل کرے گی۔پی پی پی نے بھی انتخابی اصلاحات کی تھیں جس کے بعد قائد حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن طاقت ور ہوا۔انہوں نے کہاکہ اتفاق رائے سے اصلاحات کی جاتی ہیں مگر یہ حکومت اصلاحات کو تھوپنا چاہتی ہے۔ پی پی پی وہ واحد جماعت ہے کہ جس نے اپنے کارکن کو وزیراعظم بنایا۔انہوں نے کہاکہ ن لیگ نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر پنجاب میں پی پی پی کو نقصان پہنچایا۔ ن لیگ کے دور میں میرے والد پر بدترین تشدد ہوا مگر ہم نے یہ سب نظرانداز کیا۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں کنفیوژن کا شکار ہیں، کہتے ہیں کہ استعفی دیں گے تاہم استعفی دیا تو اپنے پلان کے مطابق وہ تحریک عدم اعتماد کیسے لائیں گے؟ اس موقع پر سید یوسف رضا گیلانی، مخدوم احمد محمود، فیصل کریم کنڈی، خواجہ رضوان، نتاشہ دولتانہ، عبدالقادر شاہین، حیدرزمان قریشی ودیگر موجودتھے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے میاں عبدالغفار، سید سجاد حسین بخاری، شوکت اشفاق، افتخارالحسن، اسد ممتاز خان ، مہر فضیل سہو، مہر عزیز، سید ندیم شاہ، شکیل بلوچ، کامران بیگ، مقبول گیلانی،ملک الطاف علی کھوکھر ، رانا محبوب اختر، جمشید رضوانی، ڈاکٹر امجد بخاری، شاکر حسین شاکر،رضی الدین رضی ،حیدر جاوید سید، عبدالجبار مفتی، خالد بیگ، ظہور دھریجہ، مسیح اللہ جامپوری، سارا شمشاد، ڈاکٹر اشرف اشولال، خورشید ملک ، اظہر سلیم مجوکہ، ڈاکٹر مزمل، محبوب تابش، اکمل وینس،ناصر محمودشیخ، عاشق خان بزدار، ارشد اقبال بھٹہ، احمد کامران مگسی، نواز کاوش، فاروق ندیم و دیگر بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔
فیس بک کمینٹ

