کتاب تنہائی میں انسان کی بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہے آج کل کے وبائی دور میں جب انسان بالکل تنہا ہو کے رہ گیا ہے اس ساتھی کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے ۔ پاکستان کی کروڑوں کی آبادی میں کتابوں کے شائع ہونے کی تعداد خاصی کم ہے جبکہ کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے کتابیں خرید کر پڑھنے والوں کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر کہی جا سکتی ہے جدید ٹیکنالوجی اور انسان کی مشینی مصروفیات نے کتاب سے تعلق خاصا کمزور کر رکھا ہے۔ انفارمیشن ہمیشہ طاقت کا باعث بنتی ہے اور معلومات کا حصول کتاب سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
قلم اور کتاب کا قدیم اور گہرا تعلق ہے لیکن موجودہ دور میں کتاب کی اہمیت خاصی کم ہو تی جا رہی ہے۔ مطالعہ اور مشاہدہ کسی بھی قلمکار کی فکری بالیدگی کے ساتھ ساتھ انسانی رویوں کی بقا اور احیاء کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
یوں تو بعض چہرے بھی کتابی ہوتے ہیں اور انسان چہرہ شناس ہو تو چہروں سے بھی بہت سے لفظ و معانی اخذ کر سکتا ہے تاہم کتاب کا ساتھ انسان کو ایک خوش کن احساس اور دل کو تراوٹ بخشنے کا باعث بن سکتا ہے۔ ہمارے طلباء و طالبات تو کتاب بینی کی بجائے کتاب سے چشم پوشی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ کتاب شناسی انسانی شخصیت کے نکھار اور کردار کی بالیدگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ طالب علموں کی کتاب سے دوری میں ہمارے تعلیمی نظام کا بھی خاصا عمل دخل ہے۔ نصاب میں طالب علموں کی دلچسپی اور انسانی رویوں اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنے کی بجائے خانہ پُری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ہماری تاریخ، ہمارا ادب اور ہمارے معاشرتی رویے اس نصاب میں پوری طرح عیاں نہیں ہو پاتے یہی وجہ ہے کہ آج کا طالب علم کتاب سے دوری کے ساتھ ساتھ اپنے اسلاف اور اقدار سے بھی دور اور نابلد نظر آتا ہے۔
موجودہ دور میں ہم ہزاروں روپیہ تفریح، انواع و اقسام کے کھانوں اور دیگر پرتعیش اشیاء پر خرچ اور صرف کر دیتے ہیں لیکن کتاب پر چند سو روپے بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ ایک دور تھا کہ آنہ لائبریوں نے کتاب بینی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا لائبریریاں تو آج بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں اور ان میں کتابیں بھی موجود ہیں لیکن کتنی ہی کتابیں ایسی ہیں جو ابھی شیشے کے شیلفوں سے باہر نہیں نکل سکیں اور کتنی ہی کتابیں ایسی ہیں جنہیں کسی انسانی ہاتھ کے لمس کا موقع نہیں ملا۔ تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ کتاب میلوں کی روایت کو بڑھانے سے بھی کتاب بینی کے رجحان کو اجاگر کیا جا سکتا ہے سستی کتابوں کی اشاعت بھی اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ مغربی ممالک میں لوگ کتاب بینی اور کتاب شناسی کو خاصی اہمیت دیتے ہیں انتظار گاہوں، جہاز، ریل اور لائبریریوں میں ان کی کتاب سے دلچسپی دیکھی جا سکتی ہے۔ اخبار بینی اور کتاب بینی ہمارے معاشرتی رویوں کو بہتر بنانے اور تعلیمی استعداد بڑھانے کا بھی باعث بن سکتی ہے۔
کتب بینی اور کتاب شناسی یقیناً آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اس حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا رکھے ہوئے ہے۔ معروف اور ہر دلعزیز شاعر احمد فراز نے بھی اس ادارے کی سربراہی کے دوران خاصا فعال کردار ادا کیا۔ بعد میں آنے والوں نے بھی اپنے اپنے انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں آج کل اشتیاق احمد ملک ادارے کے سیکرٹری اور قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے ادارے کو خاصا فعال بنائے ہوئے ہیں۔ سفیران کتب کتاب شناسی کے فروغ اور کتابوں کے چمن کی آبیاری میں یقینا اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کتاب کی اشاعت ترسیل اور فروخت کے مراحل آسان ہو جائیں تو پھر کتب بینی اور کتاب شناسی کے رجحان میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تحفہ محبت اور تعلقات بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہم اس مقصد کیلئے کتاب کا انتخاب کریں اور کتابی چہروں کے ساتھ ساتھ کتابوں کو بھی اہمیت دیں۔
اب گرچہ آن لائن بک ریڈنگ کا بھی رجحان نظر آ رہا ہے لیکن کتاب کی اہمیت کبھی بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کیونکہ اچھی کتاب پڑھنے سے نہ صرف نیند کو بھگایا جا سکتا ہے بلکہ سوتے ہوئے اسے اپنے سرہانے رکھ کر خوبصورت خواب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
سیاحت کا جنہیں ہے شوق،پھرتے ہیں وہ شہروں میں
کتب بینی ہے سیر اپنی، کتابیں ہیں چمن اپنا
رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں قرآن مجید کا مطالعہ ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہے بلکہ یہ کتاب مبین ایسی ہے جس میں رتی بھر بھی کوئی شک نہیں جو ایسا نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعے ہم اپنی زندگیوں میں انقلاب پیدا کر سکتے ہیں اور موجودہ مسائل اور پریشانیوں سے چھٹکارا بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن مجید اور دیگر کتب کا مطالعہ نہ صرف ہمارے فکر و نظر کی بالیدگی میں مددگار ثابت ہو گا بلکہ کتابوں کے چمن کی سیر ہمارے قلوب و نظر کو منور اور معطر بھی رکھے گی۔
فیس بک کمینٹ

