تجزیےلکھارینصرت جاوید

نصرت جاوید کا تجزیہ : براڈشیٹ اور خوابوں کا بیوپار ، جنرل امجد کہاں ہیں ؟

سچ بہت ہی سادہ اور بنیادی ہوا کرتا ہے۔اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو اہم ترین بات یہ ہے کہ ٹیکس چھپانے یا بچانے کے لئے ’’آف شور‘‘ رجسٹرڈ ہوئی ایک کمپنی نے حکومت ِ پاکستان کے خزانے کو ’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا ایک پیسہ دلوائے بغیر ہی اپنی ’’خدمات‘‘ کے عوض پانچ ارب روپے کی خطیر رقم بطور ’’تاوان‘‘ وصول کرلی ہے۔سانپ نکل گیا تو ہم اب لکیر کو پیٹے چلے جارہے ہیں۔سراغ لگانے کی کوشش ہورہی ہے کہ وہ کون ’’نابغہ‘‘ تھا جس نے جنرل مشرف کے بنائے قومی احتساب بیورو کو واضح طورپر دونمبر نظر آتی ایک کمپنی کے ساتھ ہر اعتبار سے ناقص معاہدہ کرنے کو مجبور کیا۔اس ضمن میں اب ایئر فورس سے سزا کی صورت برطرف ہوئے فواد ملک نامی پائلٹ کا ذکر بھی شروع ہوچکا ہے۔ان صاحب کے دیگر ’’کارناموں‘‘ کی داستانیں لندن کے ’’گارڈین‘‘ جیسے اخبار کے ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں۔انہیں ڈھونڈ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا جارہا ہے۔ میری دانست میں ایسی کاوش دل کو تسلی دینے کی بچگانہ حرکت ہے۔اس خطیر رقم کا کسی بھی حوالے سے ازالہ فراہم نہیں کرسکتی جو ہمارے خزانے سے نکل چکی۔ اذیت دہ لطیفہ یہ بھی ہے کہ دونمبری کمپنی کے ایرانی نژاد جیمز بانڈ کے انٹرویو کو بے چین کسی ایک صحافی کو ابھی تک توفیق نہیں ہوئی کہ پتہ چلائے کہ نیب کے بانی سربراہ جنرل امجد صاحب ان دنوں کہاں ہیں۔وہ براڈشیٹ کے ساتھ ہوئے معاہدے کی وجہ سے اُٹھے سکینڈل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔
ہماری بدنصیبی یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کی رہ نمائی ان دنوں افتخار چودھری صاحب جیسے محتسب نہیں فرمارہے۔ثاقب نثار بھی ریٹائر ہوچکے اور آصف سعید کھوسہ صاحب کی رخصت کے بعد ہمیں ’’حیف ہے اس قوم‘‘ جیسے دبنگ فیصلے بھی سننے کو نہیں مل رہے۔ ان تینوں میں سے کوئی ایک ’’ازخود نوٹس‘‘ کے اختیار کو بروئے کار لاتا تو کئی ہفتوں تک پھیلی رونق لگ جاتی۔ ہمیں اطمینان محسوس ہوتا کہ ’’قومی خزانے‘‘ کی کڑی نگہبانی ہورہی ہے۔کوئی ’’وارداتیا‘‘ اس میں نقب نہیں لگا سکتا۔براڈ شیٹ کے ضمن میں برطانوی عدالت کے فیصلے کو اب فقط تحریک انصاف اور اس کے سیاسی مخالفین اپنی پسند کے بیانیے کو فروغ دینے کے لئے فخروانبساط سے استعمال کررہے ہیں۔پنجابی محاورے والے پانی میں مدھانی چلاتے ہوئے مکھن نکالنے کی کوشش ہورہی ہے۔
براڈشیٹ کی کہانی شروع ہوتے ہی اس کالم میں ’’لالچی‘‘ اور ’’جھوٹے‘‘ کے باہمی تعلق کا ذکر چھیڑا تھا جو ایک محاورے کے مطابق بالآخر لالچی ہی کو رسوا کرتا ہے۔چکنی چپڑی باتوں سے جھوٹا اسے چونا لگادیتا ہے۔براڈشیٹ جیسی کمپنیاں چلانے والے شعبدہ باز بنیادی طورپر ہمارے دلوں میں موجود واہموں ہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔بحیثیتِ قوم ہمیں 1950کی دہائی سے مسلسل بتایا جارہا ہے کہ وطنِ عزیز کے سیاست دان ’’چور اور لٹیرے‘‘ ہیں۔اقتدار میں ہوں تو اپنے اختیار کو ’’حرام کھانے‘‘ پر ہی مرکوز رکھتے ہیں۔اس تناظر میں مسلسل فریاد رہی کہ کوئی ’’دیدہ ور‘‘ آئے۔’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کا ’’کڑا احتساب‘ ‘ کرے۔ قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائے۔ قومی خزانے میں لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کو مچلتے ہوئے ہمارے ذہنوں کو یہ گماں بھی لاحق رہتا ہے کہ مطلوبہ رقم میسر ہوئی تو شاید ہماری حکومت کو ٹیکس کی صورت میرے اور آپ سے ایک پیسہ بھی وصول کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بجلی اور گیس ہمارے گھروں کو تقریباََ مفت ملنا شرع ہوجائیں گی۔سوشل میڈیا پر آپ نے اکثر وہ کلپ دیکھی ہوگی جس میں عمران حکومت کے ان دنوں ایک بہت ہی بلند آہنگ اور متحرک وزیر ’’200ارب ڈالروں‘‘کی کہانی بیان کررہے ہیں۔ان کا وعدہ تھا کہ یہ ڈالر وصول ہوتے ہی IMFوغیرہ کا دیا قرضہ یکمشت ادا کردیا جائے گا۔بقیہ رقم حکومت عوامی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرے گی۔اس کی بدولت خوش حالی کا سیلاب برپا ہوجائے گا۔
مذکورہ کلپ کو متعلقہ وزیر کی بھد اُڑانے کے لئے پوسٹ کیا جاتا ہے۔اکیلے میں بیٹھ کر لیکن کبھی سنجیدگی سے سوچیں تو بآسانی دریافت ہوجائے گا کہ اس میں موجود وزیر جوخواب بیان کررہے تھے اسے ہمارے نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت حقیقت کی صورت لیتی ہے۔ ہمیں یقین کی حد تک گماں ہے کہ ہماری اشرافیہ کے سرکردہ افراد نے اربوں ڈالر غیر ملکی بینکوں میں چھپارکھے ہیں۔ انہیں قومی خزانے میں واپس لانے کی کوئی راہ نکالنا ہوگی۔
براڈ شیٹ سے معاہدہ کرتے ہوئے جنرل مشرف کے احتساب بیورونے اسی خواہش کو بروئے کار لانے کی کوشش کی۔بالآخر منہ کی کھائی۔نواز شریف کو اٹک قلعہ کے تہہ خانے سے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ اس کے باوجود ہماری ریاست موصوف کی حقیقی یا مبینہ دولت کا ’’سراغ‘‘ لگانے کی خواہش ترک نہیں کر پائی۔ جنرل مشرف کے دور میں یہ کوشش ناکام ہوگئی تو اپریل 2016میں پانامہ دستاویزات کے منکشف ہوجانے کے بعد ہمارے ریاستی ادارے ایک بار پھر اس ’’کھوج‘‘ میں مبتلا ہوگئے۔ بارہا سینہ پھلاکر دعویٰ ہوتا ہے کہ ’’اب کی بار‘‘ NROنہیں دیا جائے گا۔یہ بڑھک لگاتے ہوئے مگر قابلِ مذمت معصومیت سے یہ بھلادیا جاتا ہے کہ ’’عدالت سے سزا یافتہ مجرم‘‘ جیل سے سرنگ لگاکر فرار نہیں ہوا تھا۔عمران حکومت ہی نے نواز شریف کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی۔ بعدازاں سزا یافتہ قیدی کو علاج کروانے لندن جانے کی سہولت بھی وفاقی کابینہ نے فراہم کی تھی۔اس سارے عمل کو NROکے علاوہ کیا نام دیا جاسکتا ہے۔تکرار اس کے باوجود جاری ہے کہ NROنہیں دیا جائے گا۔
1930کی دہائی میں ماضی کا سوویت یونین سٹالن نامی ’’مرد آہن‘‘ کی کامل گرفت میں تھا۔ان دنوں ماسکو میں تعینات ایک امریکی سفارتکار تھا-George Kennan-اپنی حکومت کے لئے ایک رپورٹ لکھتے ہوئے اس نے حیران کن بے بسی سے اعتراف کیا کہ ریاست کی جانب سے پھیلائے بیانیے یا پراپیگنڈہ میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے۔عوام کی بے پناہ اکثریت کوئی سوال اٹھائے بغیر اس پر یقین کرلیتی ہے۔جھوٹ کا ’’طلسماتی اثر‘‘ ان ہی دنوں ہٹلر اپنے ملک میں بھی بھرپور انداز میں دکھارہا تھا۔ہمارے دلوں میں موجود تعصبات کو مکاری سے بھڑکاتے واہمے اور گماں حکمران اشرافیہ ’’حقیقت‘‘ کی صورت پیش کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو فقط اسی کو دوش دینا بددیانتی ہے۔ن م راشد کی ایک نظم ہے ’’خواب لے لو خواب‘‘ ۔ریڑھی پر ’’خواب‘‘ رکھ کر انہیں بیچنے کی صدائیں لگاتا شخص پہلی نظر میں شاعرانہ مبالغہ ہی محسوس ہوتا ہے۔ذرا غور کریں تو علم ہوجاتا ہے کہ خواب بھی جنس کی صورت ہوتے ہیں۔انہیں بیچنے کو فقط کسی شعبدہ باز کی ضرورت ہے۔ ’’کرپشن کا مکمل خاتمہ‘‘ بھی ایک خواب ہے جسے ہمارے ہاں کئی شعبدہ باز حکمرانوں نے مہارت سے بیچا۔ براڈشیٹ کے حوالے سے اُچھلا سکینڈل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔سانپ تاہم نکل چکا ہے۔ہم اب لکیر ہی پیٹ رہے ہیں۔اس سے تھک جائیں گے تو ’’کڑے احتساب‘‘ کے خواب دکھاتا کوئی اور شعبدہ باز نمودار ہوجائے گا۔اسے بھی بالآخر کوئی نہ کوئی موسوی ’’چونا‘‘ لگادے گا۔ہم مگر خواب خریدنے سے باز نہیں آئیں گے۔

( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker