مسلمان فلسفی بو علی سینا نے ایک مرتبہ کہا تھاکہ ”میں نے ارسطو کی کتاب ’ما بعد الطبیعات‘ کوسمجھنے کے لیے اسے چالیس مرتبہ پڑھا اور آخر تب سمجھ آئی جب اُس پر ال فارابی کا مقالہ پڑھا۔“یہ جملہ میں نے حال ہی میں فلسفے کی ایک کتاب میں پڑھا، کتاب کا نام The History of Philosophyہے اور مصنف ہے اے سی گریلنگ۔پروفیسر گریلنگ کی فلسفے اور دیگر موضوعات پر اب تک تیس سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں،آپ کئی برس تک گارڈین اور ٹائمز میں کالم لکھتے رہے ہیں اور 2014میں ’مین بکر پرائز‘ کے چئیرمین رہ چکے ہیں۔یہ کتاب جب میں نے دیکھی تو ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ اِس میں صرف مغربی فلسفیوں کے افکار ہی نہیں بلکہ چین،ہندوستان، افریقہ اور مسلم فلسفیوں کے نظریات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔گو کہ چھ سو صفحوں کی اِس کتاب میں مغربی مفکرین کا ذکر پانچ سو سے زیادہ صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور باقی دنیا کو محض پچاس صفحوں میں بھگتا دیا گیا ہے مگر یہ بھی غنیمت ہے کیونکہ رسل سے لے کر ول دیوراں تک زیادہ تر لکھاریوں نے مغربی فلسفے پر ہی کام کیا ہے اورمسلمانوں سمیت باقی دنیا کو زیادہ لفٹ نہیں کروائی۔اِس کتاب میں بھی مسلمان فلسفیوں والا حصہ،گو کہ مختصر ہے،مگر خاصا دلچسپ ہے۔ اسی لیے اگلے روز دنبہ کڑاہی کھانے کی بجائے میں نے یہ کتاب خرید لی۔
یہ سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ آخر مغربی دانشور مسلمان حکما کو فلسفے میں وہ مقام کیوں نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہیں۔مسلمانوں میں ال فارابی، ال کندی، ابن سینا، امام غزالی او ر ابن رشد سمیت درجنوں عظیم مفکرین گذرے ہیں، کیا اُنہوں نے فلسفے میں اتنا قابل ذکر کام بھی نہیں کیا کہ اُنہیں مغربی مصنفین کی کتابوں میں مناسب جگہ مل سکے؟
اِس سوال کا ایک ممکنہ جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ زیادہ تر مسلمان فلاسفہ نے یونانی فلسفیوں کے افکار کا ترجمہ کیاا ور انہی کے نظریات کی تشریح میں کتب لکھیں۔عباسی دور میں ’بیت الحکمہ‘ قائم کیا گیا جہاں یونانی فلسفے کے عربی میں تراجم ہوئے اورخلیفہ ہارون الرشید،مامون الرشید سمیت دیگر عباسی حکمرانوں نے اِس کام کی بھرپور سرپرستی کی۔بے شک یہ اپنی جگہ بہت بڑا کارنامہ تھا اور اکثر یونانی فلسفیوں کی کتب بعد میں انہی عربی تراجم کی بدولت مغرب تک پہنچیں مگر اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مسلمانوں نے بذات خود فلسفے میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں کیا۔کچھ لوگوں کی رائے میں اُس زمانے میں معتزلہ، حنبلی، اشعری اورالظاھری گروہوں کی آپس کی فلسفیانہ بحثیں اِس بات کی غماز ہیں کہ اُن کے افکار فقط یونانی فلسفے تک محدود نہیں تھے۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اِن گروہوں کی مذہبی بحث کو فلسفہ کہا بھی جا سکتا ہے یا نہیں؟پروفیسر گریلنگ نے اِس کتاب میں جدید دور کے مسلم مفکر حسین نصر کا ایک بیان نقل کیا ہے کہ ”اسلامی فلسفے کی روایت میں قرانی وحی کا تصور بہت گہرا ہے اور یہ تصور ایسی کائنات میں کام کرتاہے جہاں الہام اور وحی کو حقیقت مطلق سمجھ کر قبول کیا جاتا ہے جو کہ نہ صرف اخلاقیات بلکہ علم کا بھی کا ماخذ ہے۔“اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر گریلنگ لکھتے ہیں کہ ”مسئلہ دراصل یہی ہے۔اگر کسی فکر کا نقطہ آغاز ہی مذہبی عقیدے کو تسلیم کرنے سے کیا جائے گا تو اُس کے نتیجے میں الھیات، علم تفسیر،علم تعبیر یا ایسا ہی کوئی علم تو جنم لے سکتا ہے مگر اسے فلسفہ نہیں کہا جا سکتا۔“
پروفیسر گریلنگ نے مسلمان فلسفیوں کے متعلق اپنا نقطہ نظربیان کرنے کے بعد اِن فلسفیوں کے افکار پربہت عمدہ بحث کی ہے۔ ابن سینا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن کے نزدیک فلسفے کا کام،جس قدر بھی انسانی ذہن کے لیے ممکن ہو، اشیا کی حقیقت کو جاننا ہے۔ فلسفی کے ذمے دو کام ہیں، ایک،نظریاتی جس تحت سچائی کی تلاش کی جاتی ہے اور دوسرا عملی، جس کا مقصد اچھائی کو پانا ہے۔ابن سینا کے نزدیک منطق، فلسفے کی بنیاد ہے اور یہی مسرت کی راہ بھی ہے اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ منطق ہمیں اِس قابل بناتی ہے کہ ہم نا معلوم سے معلوم کی جانب پہنچ سکیں، استنباط اور استخراج کی مدد سے (معذرت چاہتا ہوں کہ ایسے ثقیل الفاظ لکھنے پڑ رہے ہیں، اِس کے بغیر چارہ نہیں)۔منطق ہمیں درست استدلال کے اصول دیتی ہے تاکہ ہم صحیح دلیل کا استعمال کر سکیں،یہی دلیل و برہان ہمیں علم کی طرف لے جاتا ہے جبکہ ناقص طریقہ استدلال حقیقت سے دور کر دیتا ہے۔گریلنگ نے اپنی کتاب میں ابن سینا کے افکار کو خاصی تفصیل سے بیان کیا ہے اور ابن سینا کے تصور خدا اور اس سے وابستہ خدا کے وجود پر دلائل بھی بیان کیے ہیں جو خالصتاً فلسفیانہ ہیں۔مگر آگے چل کر گریلنگ نے امام غزالی کے متعلق جو حصہ لکھا ہے اُس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ کیسے امام غزالی نے ابن سینا کے نظریات پر بے رحم تنقید کی،حتیٰ کہ اپنی مشہور زمانہ کتاب ’تہافتہ الفلاسفہ‘ میں کفر کا فتوی ٰ بھی لگا دیا۔پروفیسر گریلنگ لکھتے ہیں:”غزالی کا اصل ہدف فلسفیوں کا یہ دعوی تھا کہ الھیات، جس کی بنیاد ایمان اور وحی پر ہے،کے مقابلے میں منطق اور استدلال علم کے برتر ذرائع ہیں۔۔۔غزالی کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ فلسفیانہ نظریات کو اسی کسوٹی پر پرکھتے جو اُن فلسفیوں کی اپنی مقرر کردہ تھیں اور پھر اِس بنیاد پر اُن کے فلسفیانہ افکار کو غلط ثابت کر دیتے۔۔۔ایسا کرتے ہوئے غزالی نے جو جو ابی دلائل استعمال کیے وہ تمام اُن کے اپنے تخلیق کردہ نہیں تھے بلکہ اِس ضمن میں انہوں نے ارسطو مخالف مسیحی نقادوں کے کام کا سہارا لیا جو نویں صدی سے علم الکلام کا حصہ تھا۔۔۔ غزالی نے جن عقائد پر تنقید کی،اُن سب کو نا قابل قبول قرار نہیں دیا،البتہ تین باتیں ایسی تھیں جن کے بارے میں اُن کا ماننا تھا کہ وہ اسلامی اعتقاد کے لیے خطرہ ہیں اوروہ تمام ابن سینا کے فلسفے میں شامل تھیں، جیسے کہ، ازلی کائنات کا تصور،عالم کے بارے میں خدا کے علم کی محدودیت اور زندگی بعد از موت کا انکار۔۔۔(بقول غزالی) ابن سینا کی تعلیمات ایمان کے لیے خطرہ ہیں اور جو انہیں مان لے وہ گمراہ ہو سکتا ہے لہذا تہافتہ الفلاسفہ کے آخر میں غزالی فتوی ٰ جاری کرتے ہیں۔۔۔“یاد رہے کہ ابن سینا کا انتقال امام غزالی کی پیدایش سے پہلے ہو چکا تھا۔اور یہ بات کیسی دلچسپ ہے کہ آج گلی گلی میں غزالی اور بو علی سینا دونوں کے نام پر اسکول اور اکیڈمیاں کھلی ہوئی ہیں۔
امام غزالی کی وفات 1111ء میں ہوئی۔ آپ کی وفات کے پندرہ سال بعد 1126ء میں ابن رشد پیدا ہوا جس نے تہافتہ الفلاسفہ کے جواب میں ’تہافتہ التہافتہ الفلاسفہ‘ لکھی جس میں امام غزالی کے اعتراضات پر تفصیل سے بحث کی۔اِن دونوں کتابوں پرآج بھی مسلمان اکابرین کے درمیان علمی مکالمہ ہوتا ہے۔امام غزالی کی بنیادی تنقید فلسفیانہ طرز استدلال پر تھی جبکہ ابن رشد فلسفے کے دفاع میں قران کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے دلائل کی عمارت مختلف قرانی آیات پر کھڑی کرتا ہے۔ ابن رشد نے امام غزالی کی تنقید کا جواب کس انداز میں دیا، اِس ضمن میں قران سے کیسے مدد لی اور اِس کے نتیجے میں مسلمانوں کی فکر میں کیاتبدیلی آئی۔۔۔یہ ذکر پھرکبھی!
( گرد و پیش کے لیے ارسال کیا گیا کالم )

