Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 18, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے: وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان
  • امن کی یادداشت ، جو شایدامن نہ لا سکے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • درخواست بنام ڈونلڈ ٹرمپ صاحب بہادر : رضی الدین رضی کا 9 سال پرانا کالم
  • مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی ہلاک: پولیس
  • فیصل واؤڈا سب توں ڈاہڈا اور ناکام و نکمّا حکومتی بندوبست : نصرت جاوید کا کالم
  • زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی انتقال کر گئے
  • ایران امریکہ ڈیل: اندیشے بدستور موجود ہیں ۔۔۔سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • 1984 کا اور آج کا اسلام آباد نصرت جاوید کا کالم
  • ’میں نے وزیراعظم نہیں بننا‘ : حامد میر کا کالم
  • نو سالہ آسٹریلین نژاد ہانیہ کی سی ٹی ڈی فائرنگ سے ہلاکت : مبینہ ڈاکو ’’ مقابلے ‘‘ میں مارے گئے
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»یاسر پیرزادہ کا کالم : میرا فلسفی ’دوست‘ کارل پوپر
تازہ ترین

یاسر پیرزادہ کا کالم : میرا فلسفی ’دوست‘ کارل پوپر

ایڈیٹراپریل 24, 202432 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Karl-Popper Philosepher
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

مجھےاچھی طرح یاد تو نہیں کہ فلسفے کی لَت کیسے پڑی ، شاید علی عباس جلال پوری کی کوئی کتاب ہاتھ آ گئی تھی،شروع شروع میں زیادہ سمجھ تونہیں آئی البتہ چند بنیادی نوعیت کے تصورات ضرور ذہن میں بیٹھ گئے ، اُس کے بعد جب بھی کتابوں کی کسی دکان یا میلے میں جانا ہوتا تو دو چار فلسفے کی کتابیں ضرور خرید لاتا ۔اِس کا فائدہ یہ ہوا کہ وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اچھی خاصی کتابیں اکٹھی ہوگئیں ۔اب یہ حال ہے کہ گھر میں آنے جانےوالوں کی نظر جب اِن کتابوں پر پڑتی ہے تو وہ خاصے متاثر ہوجاتے ہیں اور میرے بارے میں اُن کی رائے کچھ بہتر ہوجاتی ہے، لفظ ’کچھ‘پر زور ہے تاہم یہ میرا حسنِ ظن بھی ہوسکتا ہے ۔دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ فلسفے کی کتابوں کوپڑھنا بھی پڑا ،جن کی زبان مشکل تھی انہیں چُوم کر پرے رکھ دیا اور جس لکھاری نے ہم جیسے عامیوں کیلئے فلسفے کو آسان زبان میں لکھا تھا اسے گلے سے لگا لیا۔تیسرا اور اصل فائدہ یہ ہوا کہ سوچنے سمجھنے کا انداز یکسر بدل گیا ، جن باتوں کو میں پہلے بغیر کسی پڑتال کےتسلیم کر لیا کرتا تھا اور اُن کا دفاع کرنے کیلئے کرپان نکال لیا کرتا تھا ، فلسفہ پڑھنے کے بعد اُن باتوں کا کھوکھلا پن مجھ پر آشکار ہوگیا۔غالباً سنیکا نے کہاتھا کہ اگر آپ زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو کسی فلسفی کو اپنا دوست بنا لیں اور اُس کا طریقہ یہ ہے کہ اُس کی کتابیں پڑھنا شروع کردیں ۔یوں میری دوستی بہت سے فلسفیوں ہو گئی جن میں سے ایک کارل پوپر ہے ۔
پوپر سے میری دوستی کا اندازہ اِس بات سے لگالیں کہ میں پہلے بھی ایک آدھ مرتبہ اِن کے بارے میں لکھ چکا ہوں مگر دل نہیں بھرا۔آج اُن کی دو کتابوں کا ذکر ہوگا ، The Logic of Scientific Discoveryاور Conjectures and Refutations۔ دونوں کا موضوع ملتا جلتا ہے ۔یہ وہ کتابیں ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد بندے کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں اور اسے پتا چلتا ہے کہ سائنس، فلسفے اور مابعدالطبیعات کی کیا حدود ہیں اور کسی بھی فلسفیانہ نظریے ، سائنسی حقیقت یا مابعدالطبیعات سے حاصل ہونے والے علم کی درستی کو پرکھنے کا کیا طریقہ ہے ۔دونوں کتابیں ضخیم ہیں، زبان کہیں آسان اور کہیں مشکل ہے اور کچھ جگہوں پر ریاضی کے تھیورم بھی استعمال کیے گئے ہیں جو سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں لیکن اگر آپ ہمت کرکے اِن کتابوں کا پچاس فیصد حصہ بھی پڑھ لیں گے تو امر ہوجائیں گے اورآپ کا زندگی کے بارے میں سوچنے کا انداز تبدیل ہوجائے گا۔
کارل پوپر کی اِن کتابوں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ ہر وہ بات جسے رد کرنے کا کوئی طریقہ موجود ہو ، سائنس کہلائے گی جبکہ ایسی بات جسے کسی لٹمس ٹیسٹ سے گزارا ہی نہ جا سکے، مابعد الطبیعات کے دائرے میں آئے گی، یہ کارل پوپر کا مشہور زمانہ Falsification Principleہے۔مثلاً ایک ماہر حیوانیات پرندوں کا مشاہدہ کرنےکے بعد کہتا ہے کہ تمام پرندے اُڑ سکتے ہیں، کوّا چونکہ ایک پرندہ ہے لہٰذا وہ بھی اُڑ سکتا ہے ۔منطقی اعتبار سے بات درست ہے مگر پوپر کے نزدیک اِس کایہ مطلب نہیں کہ یہ آفاقی طور پر سچ بھی ہو، وہ کہتا ہے کہ ایک ذہین ماہر نباتیات ہر پل اپنے نظریے کو غلط ثابت کرنے کے درپے رہے گا، اسی لیے جب اسے پینگوئن جیسے پرندے کے بارے میں پتا چلے گا کہ وہ اُڑ نہیں سکتا تو بطور سائنسدان وہ مایوس ہونے کی بجائے علم کے اِس نئے ٹکڑے کو اپنے نظریے کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کرے گااور یہ کہنے کی بجائےکہ تمام پرندے اڑ سکتے ہیں، اپنے نظریے میں تبدیلی کرکے کہے گا کہ تمام پرندوں کے پنکھ ہوتے ہیں اور پھروہ ایسے پرندے کی تلاش میں جُت جائے گا جن کے پنکھ نہ ہوں ۔یہی بات سائنسی نظریے کو غیر سائنسی نظریے سے ممتاز کرتی ہے ، جس بات کو رد کرنے کا کوئی طریقہ ہی دستیاب نہ ہو ، بقول پوپر، پھر وہ سائنس نہیں ما بعد الطبیعات کی حدود میں آئے گی ۔یہ وہ باریک سا فرق ہے جسے جاننا ضروری ہے کیونکہ سائنس پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ یہ علم کا قابل اعتماد ذریعہ نہیں، جب بھی کوئی سائنس دان تھیوری پیش کرتا ہے تو اُس کی نوعیت عقلی سے زیادہ الہامی ہوتی ہے، کچھ تھیوریاں درست ثابت ہوئے بغیرہی اپنی موت آپ مر جاتی ہیں جبکہ کچھ وقتی طور پر درست ثابت ہوتی ہیں مگر پھر کوئی نئی تھیوری انہیں رد کرکے اُن کی جگہ لے لیتی ہے اور یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ سائنس پرکی جانے والی اِس تنقید سے کچھ لوگ یہ نتیجہ نکالتےہیں کہ چونکہ سائنس بھی حتمی علم نہیں اور جو اعتراض ما بعد الطبیعات پر کیا جاتا ہے بعینہ سائنس بھی اُس کی گرفت میں آجاتی ہے اِس لیے سائنس اور ما بعدالطبیعات ایک ہی صف میں کھڑے ہیں ۔یہی وہ غلط فہمی ہے جس کے کارل پوپر نے پرخچے اڑائے ہیں۔
کارل پوپر کا کہنا ہے کہ سائنس کا مقصد مطلق سچائی کو بے نقاب کرنا نہیں کیونکہ یہ ناممکن ہے،سائنس کا مقصد فقط دستیاب شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں درست علم حاصل کرنااور اسے نئے تجربات اور falsification ٹیسٹ سے گزار کر ہر بار بہتر کرنا ہے۔
کارل پوپر نے اپنی کتابوں میں سائنس پر جو تنقید کی ہےاُسے بنیاد بنا کر بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس کا دارومدار چونکہ عقل پر ہے اور یہ ثابت ہوچکا کہ سائنس ناقص اورناقابل اعتبار علم ہے ، اِس لیے کائنات کو سمجھنے کیلئے عقل سے ماورا ہی کوئی ذریعہ مستند اور قابل بھروسہ سمجھا جائے گا اور دلیل یہ ما بعد الطبیعات کے ذریعے حاصل ہونے والی علم کی حقانیت کو قبول کرنے کے لیے کافی ہے ۔ وہ لوگ یہ بات فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ جس falsification اصول کو بنیاد بنا کر پوپر سائنس کو غیر سائنس سے علیحدہ کرتا ہے اسی اصول کو اگر ما بعد الطبیعات پر لاگو کیا جائے تو علم کے غیر عقلی ذرائع ایک قدم بھی نہیں اٹھا پائیں گے۔پوپرنے اپنے اِس اصول کی پڑتال بھی سفاکی سے کی ہے اور فلسفے اور منطق کا کوئی پہلو نظر انداز نہیں کیا ۔ایک جگہ اُس نے لکھا ہے کہ کانٹ کے مطابق انسانی عقل میں یہ صلاحیت نہیں کہ دنیاکی حقیقت جان سکے ، سو انسان کے پاس ایک راستہ تو یہ ہے کہ کچھ جاننے کی کوشش ہی ترک کر دے اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ عقل کے ذرائع کے علاوہ کوئی طریقہ تلاش کرے ، چونکہ کوشش ترک کرنا سرے سے کوئی آپشن ہی نہیں لہٰذا ہمارے پاس سوائے اِس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم اِس کائنات کی حقیقت کو غیر عقلی یا ماورائے عقل طریقوں سے پانے کی کوشش کریں جیسے ہماری جبلت، شاعرانہ الہام، جذبات، وغیرہ۔ پوپر نے اس سوال کا بے حد دلچسپ جواب دیا ہے مگروہ جواب جاننے کیلئے پوپر کی کتابیں پڑھنی پڑیں گی۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کسی نے نہیں پڑھنیں سو اِس کا جواب یہ بندہ عاجز آئندہ کسی کالم میں بتا دے گا!
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

فلسفہ
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسید مجاہد علی کا کالم : لاپتا افراد کے بارے میں حکومت کی طفل تسلیاں
Next Article اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی: ہزار پوائنٹس کا اضافہ، انڈیکس پہلی بار 72 ہزار کی سطح عبور کرگیا
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

کیا یہ زندگی محض ایک خواب ہے؟ ذرا ہٹ کے / یاسر پیرزادہ کاکالم

فروری 24, 2026

کارل پوپر سے ایک اور ملاقات : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

اپریل 28, 2024

”نظریاتِ فلسفہ “ کی کہانی پروفیسر انور جمال کی زبانی

فروری 6, 2024

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے: وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان جون 18, 2026
  • امن کی یادداشت ، جو شایدامن نہ لا سکے : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 18, 2026
  • درخواست بنام ڈونلڈ ٹرمپ صاحب بہادر : رضی الدین رضی کا 9 سال پرانا کالم جون 18, 2026
  • مردان میں گردوارے کے اندر فائرنگ سے سکھ میاں بیوی ہلاک: پولیس جون 17, 2026
  • فیصل واؤڈا سب توں ڈاہڈا اور ناکام و نکمّا حکومتی بندوبست : نصرت جاوید کا کالم جون 17, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.