جنوری سے نومبر ، دو ہزار تیئیس ( 2023 ) کے گیارہ مہینے تحقیق و تحریر اور جُہدِ وتلاش کے جنون میں گزرے۔”نظریات فلسفہ “ کے پراجیکٹ کی تکمیل کی دُھن ۔۔۔میرے جیسے سُست، کاہل اور کم کوش تخلیقی آدمی کے لئے یہ پراجیکٹ خاصا صبر آزما اور دلچسپ رہا۔۔

ہمارے ہاں بجلی کی آنکھ مچولی بلکہ چُھپن چھپائی کا کھیل جاری رہتا ہے،مئی ،جون ، جولائی اور اگست کے چار مہینے دو گونہ عذاب میں گزار ے۔ تاہم جوئندہ یابندہ اور ”اِناّ مَعَ العُسْرِ یُسْرا“کے مطابق نومبر کے آخر میں تکمیل ہوگئی،ان گیارہ مہینوں کے دوران ہر طرح کی مصروفیات ترک یا کم کردیں۔ البتہ تھکن اتارنے کے لئے fb کا استعمال یا دو چار مرتبہ اپنے بہت مشفق ڈاکٹر اے بی اشرف صاحب سے ملاقاتیں رہیں۔۔
”نظریاتِ فلسفہ“ تین ہزار سالہ مغربی دانش کا اجمال ہے۔
ہم کافی عرصے سے محسوس کر رہے تھے کہ تنقیدوتحقیق کے مباحث میں ما بعد الطبیعات،اخلاقیات،علمیات،جمالیات،سیاسیات،بشریات،معاشیات وغیرہ کی اصطلاحیں بشکل ism استعمال کی جارہیں ہیں لیکن ہمارے اکثر نقاد دوستوں کو ان فلسفیانہ نظریات و عقائد کےمفہوم اور تاریخ سے واقفیت نہیں ہوتی۔چنانچہ ہم نے سوچا کہ ان نظریاتِ فلسفہ کی تعریف و توضیح اور اجمالاً ان کی تاریخ لکھ دی جائے تاکہ اہلِ علم و ادب کے علاوہ فلسفے اور علمیات کے طلبا اور اساتذہ ان سے استفادہ کر سکیں۔
یوں تو فلسفے کے نظریات کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہم نے انتقاد ادبیات اور مختلف علمیات میں زیادہ استعمال ہونے والے ڈیڑھ سو کے قریب ایسے نظریات کا مفہوم،شرح اور تاریخ اختصار کے ساتھ بیان کر دی ہے جو فلسفیانہ پس منظر رکھتے ہیں۔
کتاب لکھتے وقت قارئین کی دلچسپی اور سہولت کے لئے درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔۔۔
1.ہر نظریے کا اردو متبادل بھی ساتھ لکھ دیا گیا ہے ۔
2.جس زبان سے وہ اصطلاح آئی ہے اس کو بھی درج کر دیا گیا ہے۔
3 ۔فلسفے کے جس شعبے سے وہ اصطلاح متعلق ہے،وہ بھی درج کر دیا گیا ہے۔
4.ہر اصطلاح کی مناسب تعریف اور وضاحت کر دی گئی ہے۔
5.جو فلسفی کسی نظر ئے کا بانی یا ماننے والا ہے اس کو بھی chronological order میں بیان کر دیا گیا ہے۔
6.ہر نظریئے کی مختصر تاریخ بیان کر دی گئی ہے۔
7.اصطلاح کے آخر میں پانچ سات لفظوں میں خلاصہ بھی لکھ دیا گیا ہے۔
8.کتاب کے آخر میں ان فلاسفہ کا مختصر ترین تعارف بھی دیا گیا ہے۔جن کا ذکر کتاب میں موجود ہے۔
مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب دانش جویان فکر وشعور کے لئے منفعت بخش اور دلچسپی کا باعث ہوگی۔
فیس بک کمینٹ

