بشریٰ رحمانکالملکھاری

شرم تم کومگر آئے کیوں؟:چادرچاردیواری اورچاندنی/ بشریٰ رحمان

ہمارے ملک میں ہر امیر غریب امریکہ‘ کینیڈا‘ یورپ‘ اٹلی اور مڈل ایسٹ جانے کے لئے بے تاب رہتا ہے۔ مرتے جاتے ہیں۔ آپ نے اُن ملکوں کے ویزا پیپرز دیکھیں ہوں گے۔ خاص طور سے امریکہ اور کینیڈا کے‘ پلندے کے پلندے بھرنے پڑتے ہیں۔ اتنے خانے کہ آپ گن نہیں سکتے۔ اتنے سوالات واجب اور ناواجب کہ جواب دیتے دیتے آپ کے پسینے چھوٹ جائیں اور تو اور سائل کے والدین‘ بہن بھائی‘ عزیزواقارب کی بھی قبریں ادھیڑ کر معلومات مانگتے ہیں۔ کوئی آپ کی ماں کا نام یوں پوچھ سکتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں۔ یہاں تک پوچھتے ہیں کہ آپ کے خاندان میں کوئی چور مجرم قاتل تو نہیں تھا۔ یہاں تک پوچھتے ہیں کہ اپنے ملک کے اندر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں رہے۔ بیرونِ ملک کتنے رشتہ دار ہیں۔ کیوں آنا چاہتے ہو‘ کیا کرو گے‘ ذریعہ معاش کیا ہے۔ یعنی بال کی نہیں بندے کی کھال اُدھیڑ لیتے ہیں۔ کوئی سائل ایک دن میں‘ ایک سانس میں اتنے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا۔ بڑے بڑے ملکوں کو تو چھوڑئیے‘ چھوٹے چھوٹے اور تھکے تھکے ملکوں کے کاغذات میں بھی ہزار شقیں ہوتی ہیں۔ بار بار کی تصدیق ہوتی ہے۔ شک کی ذرا بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ زیرزبر کی چھوٹی سی غلطی پر آپ کی درخواست آپ کے منہ پر دے مارتے ہیں۔ پھر بھی بہت سے لوگ اک اک بات کی خانہ پری کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ جھوٹ اور غلو سے کام نہیں لیتے۔ یہ لوگ جن میں سے بہت کم کو وزٹ ویزا یا تفریحی ویزا درکار ہوتا ہے۔ زیادہ تر روزگار کے لئے جاتے ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی چھلنی سے گذرتے ہیں ۔ تلخ سے تلخ سوال کا جواب بھی لکھتے ہیں_ اور اے ہوش مندو! پاکستان ہی ایک ایسا بدنصیب ملک بن رہا ہے کہ آپ نے کاغذات نامزدگی میں سے اشد ضروری سوالات اور معلومات نکال کے‘ چوروں قاتلوں اور ڈاکوؤں کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اندر سدا چور لٹیرے غاصب‘ ہوس پرست اور جھوٹے حکمران ہی آتے رہیں گے۔ اور ان کی اولادیں ہی آتی رہیں گی۔ اتنی جلدی ترمیم کر ڈالی اور کسی نے اف تک نہیں کی۔ کل یہی ترمیم تمہارے کلیجے کی پھانس بن سکتی ہے ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لا دوا ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو! ایک خاموش طبقہ جو پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہر مقیم ہے۔ بے آواز احتجاج کر رہا ہے۔ قانون ساز ادارے پاکستان کے سب سے بڑے ادارے ہوتے ہیں۔ آپ ایک چپڑاسی رکھنے کے لئے اسکی قابلیت‘ تعلیم اور کردار کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کیا ارکان اسمبلی ان سے بھی گئے گذرے ہیں۔ ان کے اندر ایک چپڑاسی یا قاصد کے برابر بھی صداقت اور امانت نہیں ہونی چاہیے۔ آپ شناختی کارڈ بغیر سوالوں کے نہیں بنوا سکتے۔ پاسپورٹ کے لئے سینکڑوں سوالوں کی تفصیل بتانی پڑتی ہے….. کیا اسمبلیوں کے اندر داخلے کے لئے شخصی‘ خاندانی‘ مالی اور سماجی وضاحتیں ضروری نہیں ہیں۔ میں تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کی رکن رہی ہوں۔ اور دو مرتبہ قومی اسمبلی کی….. میں نے وہ تمام پرفارمے پُر کئے ہیں۔ ان کے اندر نہایت مناسب معلومات مانگی گئی ہیں۔ کیا یہ نمرود کی خدائی ہے کہ آپ صاف ستھرے آدمی نتھار کر اندر نہ بھیجیں۔ جس نے بھی یہ ترامیم کی ہیں‘ شرمناک ہیں۔ اور آج کی دُنیامیں کونسا کام مشکل اور ناممکن ہے۔ ٹھیک ہی تو کوئی کہہ رہا تھا….. کہ وہی پرانا فارم انٹرنیٹ پر ڈال دیں۔ نئے چھاپنے کی کیا ضرورت ہے۔ جس طرح لوگ انٹرنیٹ سے ویزا فارم ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں۔ الیکشن فارم بھی اسی طرح نکال کر ایک دن میں جمع کرا دیں گے۔ مگر اُمیدوار کی بنیادی معلومات حاصل کئے بغیر اُسے اسمبلی کا ٹکٹ تھما دینا کہاں کا انصاف ہے۔ بعد میں آپ نے احتساب کیا کرنا ہے___ بعد میں تو ان کے پاس نیلا پاسپورٹ ہو گا۔ اور وہ ہمیشہ اقتدار کے نیلے آسمان پر پرواز کرتے نظر آئیں گے___؟ جو کچھ اہل اقتدار کے پیش آ رہا ہے___ اس سے تو باقیوں کو عبرت پکڑنی چاہیے تھی۔ اور اپنے گناہوں کا اعتراف کر کے توبہ کر کے دوبارہ اس دروازے سے اندر داخل ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہ تو جیسے خدائی احکامات جاری کرنے کا تہیہ کر کے آنا چاہتے ہیں۔ نعوذباللہ۔ آجکل سوشل میڈیا سابق ارکان اسمبلی کی حاضریوں اور کارکردگیوں کے بڑے کچے چٹھے کھول رہا ہے….. حاضریاں لگوانا نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ حاضریاں لگانے میں ہوائی مخلوق کا بھی حصہ ہوتا ہے جو چپکے سے حاضری لگا دیتی ہے۔ اب ایک اور بات میں آپکی خدمت میں عرض کروں۔ یوں تو صبح وشام صدر پرویز مشرف کو سوشل میڈیا پر تنقید اور تنقیص کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مگر اس کے کئے ہوئے اچھے کاموں کا کوئی نام تک نہیں لیتا۔ یہی اس دُنیا کا دستور بھی ہے۔ 1999ء میں جب نواز حکومت معزول ہوئی تھی تو بہت سی اور بے ضابطگیوں کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں قیام کرنے والے ارکان اسمبلی نے کبھی یوٹیلیٹی بلز ادا نہیں کئے تھے۔ ہر ایک کے ذمہ لاکھوں کروڑوں کے بل تھے۔ اربوں روپے کا نقصان محکمہ ٹیلی فون‘ بجلی‘ سوئی گیس اور واٹر اور پاور کو پہنچایا گیا تھا۔ یہ لاکھوں کے بل ہر کمرے میں آئے پڑے تھے۔ یہ سب دیکھتے ہوئے جنرل پرویزمشرف نے آرڈیننس جاری کر دیا تھا کہ تمام اسمبلیوں کے ارکان جو سرکاری رہائش گاہوں میں قیام کریں گے‘ یوٹیلیٹی بلز ادا کریں گے۔ ورنہ اُن کے کنکشن کاٹ دئیے جائیں گے۔ بل ادا ہونے لگے۔ اسی نواز دور میں وزیر اور مشیر اپنے ساتھ دس دس گاڑیاں لے کر گذر جاتے تھے۔ اور کسی سڑک پر ٹول ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔ مشرف نے قانون بنایا کہ جس وزیر کے ساتھ جتنی گاڑیاں گذریں گی‘ سب کا علیحدہ علیحدہ ٹیکس دیا جائے گا۔ اس نے گاڑیوں پر جھنڈا لگانے کی مخالفت کر دی تاکہ جھنڈے والی گاڑیاں زور زبردستی نہ کر سکیں۔ اس زمانے میں ایسا بھی ہوا کہ جس رکن نے جو بل ادا نہیں کیا۔ اس سے وہ سہولت چھین لی گئی۔ اس زمانے میں ہر ماہ پارلیمنٹ لاجز کا کرایہ اور ٹیکس رکن کی ماہانہ آمدنی میں سے کاٹا جاتا تھا۔ اور تو اور سرونٹ کوارٹر کا بھی کرایہ بمع بجلی کے بل دینا پڑتا تھا۔ میرے پاس‘ اور میری طرح کے اور بہت سے ارکان کے پاس یہ تمام ادا شدہ فائلیں آج بھی موجود ہوں گی۔ 2013ء میں جب ہم اسمبلیاں ختم ہونے کے بعد واپس آ رہے تھے۔ تو ہم حفظ ماتقدم کے طور پر ہر محکمے سے این او سی لئے تھے تاکہ بعد میں کسی قسم کی ندامت نہ ہو۔ ندامت___؟ یہ کیا لکھ دیا میں نے….. سیاست کی لغت میں ندامت اور غیرت جیسا کوئی لفظ نہیں رہا۔ 2013ء میں معلوم نہیں دوبارہ ’’ن لیگ‘‘ کے آ جانے کے بعد یہ اصول پسندی جاری رہی کہ کسی شاہانہ نظام میں ڈھل گئی۔ الیکشن میں التوا محض ایک عذر ہو گا۔ الیکشن تو ہر صورت میں اپنی اعلان شدہ تاریخ پر ہی ہونے چاہئیں___ اور ہو بھی سکتے ہیں۔کونسا کام ہے جو اس ملک میں فوری طور پر نہیں ہو سکتا۔ یہاں تو ’’ڈنگ ٹپاؤ‘‘ پالیسیوں نے حشر اُٹھا رکھا ہے۔ اصولاً اسمبلیاں ختم ہوتے ہی پارلیمنٹ لاجز اور سرکاری رہائش گاہیں خالی کروا لینی چاہئیں۔ اور فوری طور پر مرمت اور توڑ پھوڑ کا کام شروع ہو جانا چاہیے___ آپ کا خیال ہے اس لوٹ کھسوٹ میں صرف سیاسی لوگ ہی ملوث ہیں۔ جی نہیں….. نئی اسمبلی بن جانے کے بعد سرکاری رہائش گاہوں کی تزئین وآرائش کے لئے مہنگے ٹینڈر کھل جاتے ہیں۔ اور ان کے ٹھیکے بھی اہل اقتدار کے عزیزواقارب کو دئیے جاتے ہیں….. بنائی ہوئی چیزیں پھر سے بنائی جاتی ہیں۔ جن ارکان کے گھروں میں ڈھنگ کے صوفے نہیں ہوتے‘ وہ وکٹورین سٹائل کا فرنیچر مانگنے لگتے ہیں۔ ماشاء اللہ تیری جمہوری اسمبلیاں آنے کو ہیں۔ خواہشات کی سیل لگ جانے کو ہے___؟ مصحفی! ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم تیرے دل میں توبہت کام رفو کا نکلا!
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker