وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ حکومت الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 230 میں ترمیم کے ذریعے نگران وزیر اعظم کے اختیارات میں اضافہ کرنے والی ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا میں یہ خبریں گشت کر رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنوانا چاہتی ہے تاکہ موجودہ مالی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے۔ اسحاق ڈار کی سربراہی میں بننے والی حکومت کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات متنازعہ ہوں گے اور سیاسی مخالفین کبھی ان کے نتائج کو قبول نہیں کریں گے۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے علاوہ اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنانے کے لئے نواز شریف آج کسی وقت دوبئی میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری سے ملنے والے تھے۔ نگران حکومت کے اختیارات میں اضافہ اور خاص پارٹی سے تعلق رکھنے والے شخص کو نگران وزیر اعظم بنانے کا کوئی بھی فیصلہ آئندہ انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ کرے گا۔ ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملے گی کہ موجودہ حکومت تو وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے مطابق 12 اگست تک سبک دوش ہو جائے گی لیکن نگران حکومت کے تحت ملک میں غیر جمہوری حکمرانی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ان قیاس آرائیوں کو پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کے رہنماؤں کے بیانات سے پہلے ہی تقویت ملی ہے۔
گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی بحران سے نکلنے کا واحد حل بروقت انتخابات ہیں۔ اگر اس مرحلے پر مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا گیا تو انتخابات میں تاخیر ہو جائے گی۔ بہتر ہے کہ پچھلی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کرا دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں جس کے بعد نگران حکومت اور الیکشن کمیشن 60 دن کے اندر انتخابات کروائے۔ یاد رہے کہ مردم شماری کا معاملہ اس وقت متنازع ہوا جب وفاقی وزرا نے واضح طور پر کہنا شروع کیا کہ آئندہ عام انتخابات رواں برس کے شروع میں ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری کی بنیاد پر نہیں ہوں گے۔ حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم (پاکستان) نے البتہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی یقین سے یہ نہیں کہتے کہ موجودہ حکومت ختم ہونے کے بعد انتخابات مقررہ آئینی مدت میں منعقد ہوجائیں گے۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کے لیے صحیح وقت کا تعین عبوری سیٹ اپ کرے گا۔ نگران حکومت ہی طے کر سکتی ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے مزید وقت درکار ہے یا نہیں۔ پاک فوج کی زیر نگرانی انتخابات کرانے کے مطالبے پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’پہلے انتخابات کے انعقاد اور وقت کا فیصلہ کر لیں۔ اس وقت یہ مسئلہ نہیں ہے کہ اسے کس کی نگرانی میں منعقد کروانا چاہیے‘ ۔ مولانا فضل الرحمان کہنا ہے کہ ہم (پی ڈی ایم) وقت پر حکومت چھوڑ دیں گے اور اسمبلیاں بروقت تحلیل ہو جائیں گی۔ ہمیں اپنا کام آئین کے مطابق کرنا ہے۔ پھر نگران سیٹ اپ آئے گا جسے انتخابات سے متعلق معاملات دیکھنے ہوں گے۔ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے، اس کا فیصلہ نگران حکومت کو کرنا ہے۔ اپنی جانب سے ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
اعلی ترین سیاسی سطح سے اس قسم کے بیانات ملک میں انتخابی عمل اور موجودہ حکومت کی نیک نیتی کے بارے میں نت نئے سوالات سامنے لاتے ہیں۔ اس سے پہلے موجودہ قومی اسمبلی کی مدت کے سوال پر بھی طویل عرصہ تک بے یقینی کی کیفیت برقرار رکھی گئی تھی۔ تاہم کچھ دن پہلے وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ حکومت آئینی مدت میں اقتدار نگران سیٹ اپ کے حوالے کردے گی۔ لیکن انہوں نے بھی انتخابات کے شیڈول کے بارے میں کوئی بات کرنے سے گریز کیا۔ حکومتی ترجمان کہتے رہے ہیں کہ انتخابات کا شیڈول دینا موجودہ حکومت کا کام نہیں ہے بلکہ الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ البتہ شہباز شریف کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے بعد یہ غیر ضروری بحث ضرور شروع ہو گئی تھی کہ کیا قومی اسمبلی 12 اگست کو اپنی مدت پوری ہونے پر تحلیل ہوگی یا اسے چند روز پہلے توڑ دیا جائے گا تاکہ موجودہ حکمران جماعتوں کو انتخابات کی تیاری کے لئے 60 کی بجائے 90 دن مل جائیں۔
اب پی ڈی ایم کے سربراہ انتخابات کے کسی متعین وقت کے بارے میں بات کرنے پر آمادہ نہیں ہیں بلکہ بین السطور یہ اشارے دے رہے ہیں کہ شاید انتخابات غیر معینہ مدت کے لئے مؤخر رہیں۔ ان حالات میں جب میڈیا میں یہ خبریں سامنے لائی جاتی ہیں کہ نگران سیٹ اپ کے اختیارات میں اضافے کے لئے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کی جا رہی ہے تو حکمران اتحاد کے ارادوں اور جمہوریت کے ساتھ اس کی وابستگی کے بارے میں شبہات پیدا ہونا لازمی ہے۔ خاص طور سے جب نواز شریف کے قریبی عزیز اور مسلم لیگ (ن) کے وفادار ساتھی اسحاق ڈار کو وزیر اعظم بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہو تو انتخابات کے انعقاد کے علاوہ، ان کی شفافیت کے بارے میں شکوک و شبہات سر اٹھانے لگتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کے تناظر میں معاملات کسی ایسی بے اختیار نگران حکومت کے حوالے کرنے سے گریز کیا جائے گا جو اہم روزمرہ معاملات کے علاوہ کوئی فیصلہ کرنے کی اہل نہ ہو۔ قیاس ہے کہ امور حکومت میں ایسا تعطل ملکی معیشت کی بحالی کے لئے مناسب نہیں ہو گا۔ اس لئے ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ نگران حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے پر عمل درآمد کی موثر طریقے سے نگرانی کرسکے اور نومبر میں اس کے دوسرے ریویو کو مکمل کرنے کی اہل ہو۔
نگران حکومت کی لاچاری کی صورت حال 2018 میں پیش آ چکی ہے۔ انتخابات سے پہلے قائم ہونے والی نگران حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مالی معاہدہ کرنا چاہتی تھی لیکن قانوناً ایسا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے ایسا اقدام نہیں کیا جا سکا۔ تحریک انصاف کی نو منتخب حکومت نے ناقص معاشی صورت حال کے باوجود آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے میں ایک سال صرف کر دیا تھا۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اہم معاشی اقدامات کی نگرانی موجودہ معاشی ٹیم ہی کے ہاتھ میں رہے، اسی لئے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے علاوہ اسحاق ڈار کو نگران وزیر اعظم بنانے پر غور ہو رہا ہے۔ البتہ یہ فیصلہ کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہو گا۔ تاہم قیاس کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی شاید اس شرط کے ساتھ اسحاق ڈار کے نام پر متفق ہو جائے کہ انتخابات میں اگر موجودہ سیاسی اتحاد کامیاب ہوتا ہے تو اس صورت میں اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ نہ بنایا جائے۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم ملک میں اختیار کی گئی ڈرامائی معاشی پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ضروری سمجھی جا رہی ہے۔ الیکشن ایکٹ کی شق 230 کے تحت نگران وزیر اعظم کے اختیارات محدود ہوتے ہیں۔ وہ صرف فوری روزمرہ معاملات ہی نمٹا سکتے ہیں۔ موجودہ شق کے تحت نگران حکومت کوئی اہم معاہدہ نہیں کر سکتی، نہ ہی کسی دوسرے ملک یا ایجنسی کے ساتھ اہم بات چیت کا آغاز کر سکتی ہے۔ نگران وزیر اعظم کو انتہائی استثنائی صورت کے علاوہ ایسے کسی ایسے عالمی معاہدے پر دستخط کرنے کا حق بھی نہیں ہوتا جس پر مستقبل کی حکومت کو لازمی عمل کرنا پڑے۔
اس کے علاوہ حکومت ملکی معیشت میں بہتری لانے اور خلیجی ممالک کے ساتھ مالی اشتراک بڑھانے، سرمایہ کاری لانے اور معیشت میں آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ساختیاتی تبدیلیاں لانے کے لئے موجودہ پالیسی فیصلوں کا تسلسل چاہتی ہے۔ اسی لئے اب نگران حکومت کو ’با اختیار‘ کرنے کی بات کرنے کے علاوہ نگران وزیر اعظم کے طور پر اسحاق ڈار کو لانے کے سوال پر غور ہو رہا ہے۔ حالانکہ اسحاق ڈار معاشی اصلاحات کے اہل نہیں ہیں بلکہ ان کا طرز عمل صرف ایسی پالیسیاں اختیار کرنا ہوتا ہے جس سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی فائدہ ہو سکے اور عوام کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ حکومت صرف ان کے مفاد کو پیش نظر رکھتی ہے۔ حالانکہ عملی طور سے یہ صورت نہیں ہوتی۔ سابقہ دور میں اسحاق ڈار ہی کی نگرانی میں اسٹیٹ بنک نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی شرح کو زبردستی ایک خاص شرح تبادلہ پر متعین رکھا تھا۔ بیشتر مالی ماہرین ڈالر کی قیمت کے تعین کے لئے اسحاق ڈار کی اسی حکمت عملی کو ملکی معیشت کے موجودہ مسائل کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ تین ارب ڈالر کے جس اسٹینڈ بائی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، اس کی بنیادی شرائط میں یہ نکتہ شامل ہے کہ روپے کو ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ کا تعین کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا جائے۔ جبکہ اسحاق ڈار اس اصول سے متفق نہیں ہیں لیکن ڈیفالٹ کے فوری اندیشے سے بچنے کے لئے وہ یہ شرط ماننے پر آمادہ ہوئے تھے۔ یادش بخیر جب وہ مفتاح اسماعیل کی جگہ وزارت خزانہ کا عہدہ سنبھالنے لندن سے اسلام آباد تشریف لائے تھے تو انہوں نے آئی ایم ایف سے بہتر انداز میں نمٹنے کے علاوہ ڈالر کی شرح تبادلہ کو دو سو روپے تک لانے کی بات کرتے رہے تھے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ معاہدہ ہونے کے بعد بھی ان کا کہنا تھا کہ ڈالر 250 روپے سے مہنگا نہیں ہونا چاہیے جبکہ مارکیٹ میں یہ ریٹ تین سو روپے ڈالر تک ہے۔حکومت اگر اسحاق ڈار کو ’معاشی استحکام‘ کے لئے نگران وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے تو یہ ایک خطرناک قدم ہو گا۔ کیوں کہ مالی معاملات میں اسحاق ڈار کی اصابت رائے پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ نواز شریف کے عزیز اور وفادار شخص کو نگران وزیر اعظم بنا کر انتخابات کی شفافیت کو مشکوک کر دیا جائے گا۔ پاکستان 250 ملین آبادی کا ملک ہے۔ اس میں ایک اسے ایک اعلیٰ صلاحیت کا حامل شخص موجود ہے۔ سارا اختیار چند مخصوص ہاتھوں میں دینے سے بہتری کی بجائے خرابی کا امکان زیادہ ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ پاکستان اس وقت مشکل معاشی صورت حال کا شکار ہے اور پالیسیوں کا تسلسل بے حد ضروری ہے لیکن یہ گمان کر لینا کہ یہ کام اسحاق ڈار جیسا مسلم لیگ (ن) کا وفادار ہی کر سکتا ہے، درحقیقت ملک میں باصلاحیت لوگوں کی خدمات سے انکار کے مترادف ہے۔
نگران حکومت کے اختیارات میں اضافے اور ایک جانبدار شخص کو نگران وزیر اعظم بنانے کے فیصلے سے ملک میں سیاسی بے چینی بڑھے گی۔ یہ بے چینی درحقیقت ملک کو درپیش موجودہ مسائل کی اہم ترین وجوہات میں شامل ہے۔ حکمران جماعتوں کو نگران سیٹ اپ کے بارے میں اہم فیصلے کرتے ہوئے تنگ نظری پر استوار حب الوطنی کی تعریف سے گریز کرنا چاہیے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

