جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دور حاضر میں رائج عالمی سرمایہ دارانہ نظام انسانی فلاح و بہبود کی بجائے مالی منافع کے گرد گھومتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جب کوئی نیا سرمایہ دارانہ منصوبہ بنتا ہے تو اس میں محنت کشوں سے کام تو لیا جاتا ہے لیکن ان کی بنیادی ضروریات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ 1970 کی دہائی میں یورپ کے جنوبی پانیوں پر تیل کی بڑی کمپنیوں نے کام کے دوران محسوس کیا کہ کارکنوں کی شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں پر موجود طبی ٹیمیں اس صورتحال کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئیں تو طبیبوں نے پہلی دفعہ ریموٹ میڈیسن کا تصور پیش کیا جس کے ذریعے وہیں موجود رہ کر دور دراز کے طبی ماہرین سے مشورہ کیا جا سکتا تھا۔ یہ تجربہ کسی حد تک کامیاب رہا اور مزدوروں کی صحت بحال ہونا شروع ہو گئی۔
ریموٹ یا ٹیلی میڈیسن ایک نیا تعلیمی شعبہ ہے جو انٹرنیٹ کی ترویج کے ساتھ روز بروز مقبول ہو رہا ہے۔ ترقی یافتہ کہلانے والی قوموں نے ریموٹ میڈیکل گریجویٹس تیار کرنا شروع کر دیے ہیں جنہیں انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم دے کر دوردراز کے علاقوں مثلاً سائبیریا میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے.
میں نے ٹیلی میڈیسن کا نام پہلی دفعہ 2021 میں سنا جب میں پاکستان کے ایک دوردراز اور پسماندہ علاقے میں کام کرنے گیا۔ دنیا بھر میں جدید سائینسی طبی سہولیات صرف ترقی یافتہ علاقوں تک محدود ہوتی ہیں. طب جیسی مشکل تعلیم حاصل کر کے کوئی بھی ڈاکٹر پسماندہ علاقوں میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے سرمایہ دار حکومتیں مختلف حربے استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر پنجاب میں ہر سرکاری میڈیکل افسر کے لیے کم سے کم تین سال تک مضافاتی علاقوں میں اپنی خدمات فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ٹیلی میڈیسن بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے۔
کورونا کی وبا نے انسانوں کو ورک فرام ہوم کا تصور دیا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن نے جہاں انسان کو بےبہا سہولیات فراہم کی ہیں وہیں اسے سست اور کاہل بھی بنا دیا ہے۔ نوجوانوں میں کچھ کیے بغیر گھر بیٹھے پیسے کمانے کا تصور پروان چڑھ رہا ہے۔ یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے۔۔
ٹیلی میڈیسن کی ایجاد نے انسانوں کو اس فریب میں مبتلا کر دیا ہے کہ صرف اس کے ذریعے دنیا بھر کے دوردراز علاقوں میں صحت کے مسائل حل کر دیے جائیں گے۔ یہ دیوانے کی بڑ ہے۔ بحیثیت طبی ماہر میں سمجھتا ہوں کہ طب کے شعبے میں مشینیں کارآمد تو ہیں لیکن وہ انسانوں کا متبادل ہرگز نہیں ہیں۔ کیا مستقبل میں ال نیوز اینکر کی طرح ال ڈاکٹر طبی ماہرین کی جگہ لے لیں گے؟ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے۔ طب کے شعبے میں ڈاکٹر اور مریض کا باہمی تعلق خالِصَتاً انسانی تعلق ہوتا ہے۔دوسری طرف مشین اور انسان کا باہمی تعلق ایک مصنوعی تعلق ہے۔ لیکن یہ ایک اشتراکی سوچ ہے۔ سرمایہ دارانہ نُقطَۂ نَظَر سے دیکھیں تو ریموٹ میڈیسن شعبہء طب کی انقلابی ایجاد ہے۔
سرمایہ دار دنیا کو ریموٹ میڈیسن پر بہت بھروسہ ہے، لیکن کیا اس کے ذریعے مفلسی، بھوک اور سوکھا پن کی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ یہ اکثریتی غریب دنیا کی بیماریاں ہیں۔ سرمایہ دار حکومتیں مستقبل میں اپنی ذمہ داریاں مشینوں کے سپرد کر کے ان سے بری الذمہ ہونا چاہتی ہیں تاکہ امیر حکمران کسی پریشانی کے بغیر عیش و عشرت کی زندگی گزار سکیں.
سرمایہ داری کے عالمی بحران سے جنم لینی والی مشکلات کے بعض حل حیرت انگیز ہوتے ہیں جن پر بعض اوقات نوبیل پرائز تک دے دیے جاتے ہیں. لیکن یہ حل دراصل انسانوں کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس سے فوائد حاصل کرنے والوں کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ دور جدید میں انسانیت کی اصل معراج یہ ہے کہ سائنس اور سائنسی ایجادات کا محور سرمائے کی بجائے انسانوں کی فلاح و بہبود کو بنایا جائے اور طبقاتی سیاسی شعور کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے.
فیس بک کمینٹ

