لال بیگ یا کاکروچ (cockroaches) گندگی میں پائے جاتے ہیں۔ کسی بھی گٹر کا ڈھکن کھولیں تو آپ کو ہر طرف کاکروچ ہی کاکروچ نظر آئیں گے۔ ہم اپنے گھروں بالخصوص باورچی خانے اور غسل خانے میں اکثر اور بکثرت لال بیگ دیکھتے ہیں۔ لال بیگ کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں جن کی مدد سے یہ بہت تیز دوڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پیٹ پر ایک سینسر بھی نصب ہوتا ہے جن کی مدد سے یہ اپنے اردگرد کی سرگرمیوں کو بآسانی محسوس کر سکتا ہے۔ اس کا بیرونی حصہ یا ایکسو اسکیلیٹن اس کے اپنے پیدا کیے ہوئے گندے مادے سے بنتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ کاکروچ جس جگہ جاتا ہے وہاں کی گندگی اس کے پیروں پر لگ جاتی ہے، یہ صاف جگہوں پر جا کر اپنی ٹانگوں پر لگی گندگی کے ذریعے جراثیم پھیلاتا ہے اور لوگ بیمار پڑ جاتے ہیں۔ لال بیگوں کو مارنے کے بہت سے دیسی ٹوٹکے موجود ہیں، جیسے پیاز اور بیکنگ سوڈا کو ملا کر کچن وغیرہ میں رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بازار میں کاکروچ مارنے والے اسپرے بھی دستیاب ہوتے ہیں ۔ ہم جہاں بھی کاکروچ دیکھتے ہیں، اسے مارنے کو دوڑتے ہیں۔
کئی بار ہم کاکروچ مار مار کر تھک جاتے ہیں اور یہ ہمارے ماحول میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں۔ ہم کم ہی یہ سوچتے ہیں کہ کاکروچ کسی ٹوٹکے یا اسپرے سے نہیں بلکہ اپنے ماحول کو صاف رکھنے سے ختم ہو سکتے ہیں۔ صفائی کرنے سے ہمیشہ ہماری جان جاتی ہے اس لیے یہ کیڑا ہماری زندگیوں کا جزو لازم بن جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کے نتیجے میں ہر ذی روح بشمول انسان، حیوانات اور نبادات صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے۔ اگر کوئی باقی رہے گا تو وہ کاکروچ ہو گا کیونکہ وہ دنیا کی باقی رہنے والی گندگی پر پلے گا۔
میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ دنیا پر قابض سرمایہ دار طبقہ ایک کاکروچ کی طرح ہے۔ یہ کاکروچ دنیا کی غربت، مفلسی، بیماری، جرم، جہالت اور استحصال کے گند پر پلتا ہے۔ عالمی سرمایہ دار کو جہاں سے بھی اپنے اس من پسند کھانے کی بو آتی ہے وہ اس کی طرف دوڑتا چلا جاتا ہے۔ پھر وہ چاہے فلسطین، ویتنام، پاکستان یا افغانستان ہو، عراق ہو یا شام ہو یہ وہاں کے امن اور استحکام کو تہس نہس کر کے اپنی ہوس پوری کرتا ہے اور محنت کش عوام کے لیے زندگی جہنم بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے عالمی مالیاتی اداروں کی مدد سے ان غریب ملکوں کو اپنی کالونیاں بنا لیتا ہے۔ وہاں کی حکومتیں اپنے روزمرہ امور چلانے کے لیے قدم قدم پر ان کی محتاج ہوتی ہیں۔ ان غریب ملکوں کا سرمایہ دار مافیا عالمی سرمایہ دار سامراج کے لیے انٹینا اور سینسر کا کام کرتا ہے۔ انہیں جب بھی عالمی سامراج کے لیے حالات سازگار نظر آتے ہیں وہ اسے اپنے ملکوں کا استحصال کرنے کے لیے دعوت عام دیتے ہیں۔ عالمی سرمایہ دار کھلی فنڈنگ کر کے ہر طرف غیرحکومتی امدادی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کا جال پھیلا دیتا ہے اور عوام کو ان کی خیرات کا عادی بنا دیتا ہے۔ عوام سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کے حالات کوئی ٹھیک نہیں کر سکتا اور وہ خود ظلم اور جبر کے خلاف کھڑے ہونے کی بجائے ان دیکھی آسمانی طاقتوں اور مسیحاؤں کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے اتحاد کی طاقت کو بھول جاتے ہیں اور آنکھیں بند کر کے کبوتر کی طرح غٹرغوں کرتے رہتے ہیں۔ سرمایہ دار مافیا انہیں کبھی مذہبی اور کبھی لسانی اور قومی بنیادوں پر آپس میں لڑواتا ہے اور وہ سرمایہ دار کاکروچ کے خاتمے کی بجائے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں۔
استحصال زدہ غریب ملکوں کی افواج سرمایہ دار کاکروچ کے لیے ایکسو اسکیلیٹن کا کام کرتی ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ یہ افواج سرمایہ دار کے اپنے گند سے وجود میں آتی ہیں اور ان کے گند پر ہی پلتی ہیں۔ افواج کا ایکسو اسکیلیٹن غریب عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑتا ہے، آزادی کی چھوٹی موٹی تحریکوں کو بزور طاقت دباتا ہے اور جبری گمشدگیاں کر کے عوام پر اپنا خوف طاری کر دیتا ہے۔
جس طرح عام کاکروچ گھریلو ٹوٹکوں کی بجائے صرف اور صرف اپنے ماحول کو صاف رکھنے سے ختم ہوتا ہے ویسے ہی سرمایہ دار کاکروچ کا خاتمہ بھی روحانی اور خیراتی ٹوٹکوں کی بجائے سرمایہ داری کے خاتمے سے مشروط ہے۔ سرمایہ دار کاکروچ کے مکمل خاتمے کے لیے پاکستان اور دنیا بھر کے محنت کشوں کو مذہبی اور قومی نہیں بلکہ صرف اور صرف طبقاتی بنیادوں پر ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ جس دن محنت کش طبقاتی اور سماجی شعور حاصل کر کے سرمایہ داری کے خلاف صف آرا ہو گئے وہ اس گند کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صفایا کر دیں گے۔ لیکن اگر وہ جڑ کو ختم کرنے کی بجائے دیسی ٹوٹکوں پر انحصار کرتے رہے تو ایسا کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔ سرمایہ دار مافیاؤں کے شکنجے میں جڑے پاکستان میں ایسا ہونا مشکل ضرور ہے لیکن فطری سماجی ارتقاء کی موجودگی میں ناممکن نہیں۔
فیس بک کمینٹ

