Browsing: تازہ ترین

امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔

کابل میں ایک فضائی حملے میں100 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں کابل میں فارینزک لیبارٹری کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر ہونے والے ایک فضائی حملہ ہوا ہے ۔
طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق اس مرکز کو پیر کی شام ایک فضائی حملے میں پاکستان کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔مکمل خبر کے لیے پہلے کمینٹ میں موجود لنک کھولیں

دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔

باجوڑ کے ڈی پی او محمد خالد نے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لٹئی چونکہ بارڈر کے قریب واقعہ ہے، گذشتہ روز گولہ باری کے نتیجے یہاں چار بھائی ہلاک ہوئے ہیں۔
جب ڈی پی او سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت اس گاؤں کو خالی کروانے کا ارادہ رکھتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ’یہ گاؤں زیادہ رش والا علاقہ نہیں ہے اور گھر یہاں کافی فاصلے پر ہیں اس لیے اس کی نوبت نہیں آئی، البتہ شہریوں کو حفاظتی اقدام اٹھانے کا کہا ہے۔‘

ریسکیو حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ نواحی علاقے چک نمبر 125 کے قریب ایک مارکیٹ میں پیش آیا جہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط وصول کرنے کے لیے آنے والی 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے کے بعد شیخ زید ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ واقعہ کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اسرائیلی پولیس فورس نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں ایک دھماکے کے بعد ایک شخص کو لڑکھڑاتے ہوئے سڑک سے دور جاتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ملبہ چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔
کلسٹر ہتھیار کے ذریعے راکٹ، میزائل یا توپ کے گولے سے درجنوں یا سینکڑوں چھوٹے بم (بمبیٹس) بکھیر دیے جاتے ہیں، جو ایک وسیع علاقے تک پھیل جاتے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک صحافی نے سفارتخانے کے احاطے سے سیاہ دھواں بھی اٹھتے دیکھا ہے۔
سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ایک ڈرون حملے میں سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘ ایک اور سکیورٹی ذریعے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون سے حملہ کیا گیا ہے۔

اُدھر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سرہ غوڑ گئی میں بھی ایک ڈرون گرنے سے دو بچیاں زخمی ہو گئی ہیں۔
ایس ایس پی آپریشنز کوئٹہ آصف خان نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ کلی ملاخیل میں ایک گھر پر ڈرون گرنے سے مکان کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا اور ملبے تلے آ کر دو بچیاں زخمی ہوئیں جنھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔