Browsing: عالمی خبریں

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر کی ممکنہ بندش کے سوال پر المسلمی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ہمارے پاس پہلے سے ہی ایک ڈراؤنا خواب ہے، اور یہ اسے مزید خوفناک بنا دے گا۔‘

ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کا جواب دے دیا ہے اور اب اسے امریکہ کے جواب کا انتظار ہے۔

زلفغاری نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی رہے گا کہ ایران امریکا کے ساتھ کسی صورت مفاہمت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ کبھی نہیں چل سکتے، نہ اب اور نہ ہی آئندہ کبھی۔‘

ایک ایرانی سفارتکار نے بی بی سی نیوز اردو کو بتایا ہے کہ اس ’بات چیت کے معمولی امکانات موجود ہیں۔‘
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہنا تھا کہ ’اگر (ان مذاکرات کے حوالے سے) حتمی فیصلہ ہو جاتا ہے تو دیگر جگہوں کے علاوہ اسلام آباد بھی میزبانی کا مقام ہو سکتا ہے۔‘
’ہم اپنی وزارتِ خارجہ کی جانب سے تفصیلات کے منتظر ہیں۔

سینیئر عہدیدار نے رائٹرز کو مزید بتایا کہ امریکا کی ملاقات کی درخواست پر ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی امریکی درخواست کا جواب دیا گیا ہے۔
رائٹرز کے بقول ایران کے سینیئر عہدیدار نے اس مجوزہ ملاقات کے مقام یا اس سے متعلق مزید تفصیلات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان گہرے، تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہےکہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

وزارت نے زور دیا کہ یہ حملے بین الاقوامی معاہدوں، اچھے ہمسائیگی کے اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے احترام کی صریح خلاف ورزی ہیں اور اسلامی اقدار و اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے سنہ 2022 میں ان پر ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے ’امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سائبر سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسماعیل خطیب نے 1979 کے انقلاب کے بعد 1980 میں پاسدرانِ انقلاب میں شمولیت اختیار کی تھی۔

دوسری جانب اس دعوے پر ایران کی طرف سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، جس کے باعث اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، جن کی تصدیق بعد میں مختلف ذرائع سے ہوتی رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ علی لاریجانی پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں چھپے لیے ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ لاریجانی کو ’ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم ایران نے اس پر تاحال ردعمل نہیں دیا۔