Browsing: عطاء الحق قاسمی

ناظم نے آخری اعلان یہ کیا کہ بقیہ مشاعرے کی نظامت فلاں صاحب کریں گے۔ اس کے بعد اس نے احمد ندیم قاسمی، احمد فراز اور دوسرے بڑے شاعروں کی طرف اشارہ کرکے کہا ’ویسے بھی میں ان لوگوں کو نہیں جانتا‘۔

میں نے اس سے بالکل مختلف پاکستان بھی دیکھا ۔رمضان کے مہینے میں کھانے پینے کی سب دکانیں کھلی ہوتی تھیں۔ بس سامنے پردہ تان دیا جاتا تھا۔ بڑے شہروں میں یورپ کی طرح کے نائٹ کلب ہوتے تھے۔ لاہور میں بھی ایک نائٹ کلب مال روڈ پر تھا جس میں برہنہ ڈانس ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مال روڈ کی ایک بلڈنگ میں ایک امریکی لڑکی ڈانس کیا کرتی تھی ۔ بڑے ہوٹلوں میں شراب خانے ہوتے تھے۔

اب چلتے چلتے ایک واقعہ اقبال ساجد کا بھی سن لیں۔ انتہائی غریب مگر شعر کے معاملے میں پورا بدلحاظ۔ وہ اپنی غربت کی وجہ سے کہ اس نے ساری عمر کوئی کام نہیں کیا تھا چنانچہ جس سے اسے کچھ توقع ہوتی تھی تو جی بھر کر اس کی خوشامد کرتا۔ مگر اس کے کسی برے شعر کی تعریف نہیں کرتا تھا۔ اس سے قطع نظر اس نے ایک دفعہ ایک غزل کہی جس کا مطلع تھا:
فراق و فیض و ندیم وفراز کچھ بھی نہیں
نئے زمانے میں ان کا جواز کچھ بھی نہیں
میں نے کہا یار فراز اے کلاس شاعر ہیں مگر تم نے ان کو برے جوڑوں کےساتھ کھڑا کر دیا۔ سن کر بولا مجھے بھی پتہ ہے مگر فراز یہاں قافیے کی مجبوری سے آیا ہے