Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اپریل 30, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام
  • ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
  • سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
  • عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
  • قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
  • جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
  • ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»عطاء الحق قاسمی»ڈاکٹر سلیم اختر کی ’حدود ‘ ، عورت ،جنس ، جذبات اور طاہر تونسوی : عطاء الحق قاسمی کا کالم میری کہانی (38 )
عطاء الحق قاسمی

ڈاکٹر سلیم اختر کی ’حدود ‘ ، عورت ،جنس ، جذبات اور طاہر تونسوی : عطاء الحق قاسمی کا کالم میری کہانی (38 )

ایڈیٹرمارچ 10, 202515 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
dr saleem akhtar
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

گزشتہ سےپیوستہ
جو لوگ ڈاکٹر سلیم اختر کو ذاتی طور پر نہیں جانتے بلکہ انہیں صرف ان کی تحریروں کے حوالے سے جانتے ہیں وہ میری یہ تحریر پڑھ کر بہت حیران ہوں گے کیونکہ جب میں پہلی دفعہ ڈاکٹر صاحب سے ملا تو خاصاحیران ہوا۔حیرانی کی وجہ یہ تھی کہ میں نے ان کی کتاب ’عورت جنس اور جذبات‘ کچھ افسانے اور کچھ تحلیل نفس والے مضامین پڑھ رکھے تھے، سو میں ڈاکٹر صاحب کی بھولی بھالی شکل دیکھتا تھا اور سوچتا تھا کہ یہ سب کچھ واقعی اس شخص نے خود لکھا ہے؟ یہ حیرانی اس وقت اور بڑھی جب ڈاکٹرصاحب سے واقفیت دوستی میں بدل گئی اور پتہ چلا کہ موصوف عورت جنس اور جذبات کے حوالے سے جو کچھ لکھتے ہیں، بس اپنے علم مشاہدے اور زور قلم کے بل بوتے پر لکھتے ہیں۔ ورنہ عملی طور پر اتنے بھلے مانس ہیں کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔
میں معافی چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنی جو ریپوٹیشن ایک طویل عرصے کی ریاضت کے بعد بنائی تھی میں اسے بیٹھے بٹھائے ’خراب‘ کر رہا ہوں، مگر کیا کیا جائے۔ اصل صورت حال یہی ہے کہ جس طرح ریاض خیر آبادی مرحوم نے ساری عمر شراب کی شکل نہیں دیکھی مگر ساری شاعری شراب کے حوالے سے کی۔ کچھ یہی حال ہمارے سلیم اختر کا بھی تھا۔ موصوف کم از کم گزشتہ ربع صدی سے اتنے سلیم الطبع ہوگئے کہ آئندہ کیلئے بھی ان سے کوئی توقع قائم نہیں کی جاسکتی تھی اور یوں ہم انہیں باآسانی نقادوں اور افسانہ نگاروں کا ریاض خیر آبادی کہہ سکتے ہیں۔ ان سطور میں میں نے ڈاکٹر سلیم اختر کی شرافت اور بھلے مانسی کا اتنا ڈھنڈورا پیٹ دیا ہے کہ خود گھبرا گیا ہوں حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ وہ اپنی حدود و قیود سے بخوبی واقف تھے اور جہاں تک ان کی حدود کا تعلق ہے وہ وہاں ختم ہو جاتی تھیں جہاں سے ’حدود‘ شروع ہوتی ہیں۔خیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ میں اپنے دوستوں میں ڈاکٹر صاحب سے زیادہ سگھڑ شخص اور کوئی نہیں دیکھ پایا۔ مجال ہے ہوٹل بازی پر وقت اور پیسہ ضائع کریں اس کی بجائے وہ اپنا وقت گھر پر گزارتے۔ چنانچہ اس طرح جو وقت بچتا اس سے گاہے گاہے دوستوں کی پرتکلف دعوت اپنے گھر پر کرتے۔ حالانکہ اگر وہ چاہتے تو یہ ترتیب الٹ بھی ہو سکتی تھی۔ یعنی جو وقت بچے اس میں پیسہ کمایا جائے اور جو پیسہ کماتے اسے بعض دوسرے ادیبوں کی طرح ادب میں نام کمانے کیلئے انویسٹ کر سکتے تھے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مشورہ خاصا بعد از وقت تھا کیونکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سات برس کی عمر تک بچے کی شخصیت مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ساری عمر اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آتی، بس چھوٹی چھوٹی آئینی اور غیر آئینی ترمیمیں ہوتی رہتی ہیں۔ چنانچہ میرے خیال میں سلیم اختر کو بدلنے کی کوشش کار لایعنی تھا۔ کیونکہ سلیم اختر کی شکل میں جو چیز بن گئی، وہ اتفاق سے اچھی چیز ہے لہٰذا اسے جوں کا توں رہنے دینا چاہیے۔ ورنہ ترمیمات سے اس کی شکل بھی 1973 کے آئین جیسی ہو سکتی تھی۔
سلیم اختر کی ایک خصوصی صفت تو میں نےابھی تک بیان ہی نہیں کی اور وہ دوستوں سے ان کی محبت ہے۔ وہ دوستوں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کرتے۔ بلکہ میرے جیسے دوستوں کی موجودگی میں کہا جا سکتا تھا کہ وہ خامیوں کو دوستوں سمیت قبول کرتے تھے۔ ان کی دوستی کا صرف ایک معیار تھا کہ ’مدمقابل‘ پرُ خلوص ہونا چاہیے۔ چنانچہ جب انہیں اس کے خلوص کا یقین ہو جاتا تو پھر اس کے سات خون معاف کردیتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی دشمنی میں نظریات کو بھی آڑے نہیں آنے دیتے۔ اور یوں احمد ندیم قاسمی سے لے کر ڈاکٹر وحید قریشی تک ان کے دوستوں یا یوں کہہ لیں کہ بزرگ دوستوں میں شامل تھے۔ سلیم اختر کی دوستی کا دائرہ جتنا وسیع تھا مجھے یقین ہے کہ وہ اگر کبھی الیکشن میں کھڑے ہوتے تو ان کے مخالف کی ضمانت ضبط ہو جاتی۔ ویسے سلیم اختر کبھی الیکشن میں کھڑے ہوتے تو انہیں اپنا انتخابی نشان سائیکل رکھنا چاہیے تھا کیونکہ لاہور میں سائیکلوں والے ادیب بس دو چار ہی رہ گئے تھے۔ اور ان میں سے سلیم اختر اور سائیکل تو لازم و ملزوم تھے۔ بلکہ صبح سے شام تک وہ جتنی سائیکل چلاتے اس کے مطابق سلیم اختر اور سائیکل کو لازم و ملزوم نہیں بلکہ ظالم و مظلوم قرار دیا جا سکتا ہے۔
بہرحال اگر ڈاکٹر صاحب ہماری ان چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے یعنی الیکشن میں کھڑے ہونے کا واقعی پروگرام بنا لیتے تو ان سے ہماری ایک گزارش ہوتی کہ وہ لاہور سے اسلام آباد تک دو چار دفعہ سائیکل پر آئیں جائیں۔ اور پھر ہمیں حتمی طور پر بتائیں کہ الیکشن واقعی ہو رہے ہیں کہ نہیں؟ دوستوں سے سلیم اختر کی محبت کے حوالے سے ایک بات بتانے کی یہ بھی تھی کہ آج کے دور میں ایسے شخص کو منافق کہا جاتا ہے جو ہر ایک کا دوست ہو۔ چنانچہ سلیم اختر کو یہ الزام گوارا نہیں تھا لہٰذا انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا کی صورت میں اپنا ایک دشمن ڈھونڈا اور یہ دشمنی بھی کیا وضع داری سے نبھائی۔ مجال ہے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغزش آئی ہو اور یوں ہمارے نزدیک ان کی ادھوری شخصیت مکمل ہو گئی۔
سلیم اختر کے دوستوں اور دشمنوں کا ذکر چھڑا ہے تو یہاں ڈاکٹر طاہر تونسوی مرحوم کا ذکر ناگزیر ہو گیا ہے۔ طاہر تونسوی سلیم اختر کا شاگرد عزیز تھا اور یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ استاد اور شاگرد دونوں ایک دوسرے کو اون کرتے تھے۔ ورنہ فی زمانہ استاد اور شاگرد مارکہ نلکی کے علاوہ استاد اور شاگرد میں اتنا قریبی رشتہ کہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ طاہر تونسوی اپنے استاد سے ملنے کیلئے ملتان سے چل کر لاہور آتا اور اس کا سانس جس طرح پھولا ہوتا، لگتا تھا پیدل چل کر آیا ہو۔ اور پھر وہ جتنے دن بھی لاہور میں قیام پذیر ہوتا، اپنے استاد کی خدمت میں مسلسل و متواتر حاضر رہتا کہ وہ سلیم اختر کا شاگرد بھی، دوست بھی اوربیٹے کی طرح بھی تھا۔ یہاں ’بھائی‘ کا لفظ میں نے دانستہ نہیں لکھا کیونکہ ایک دفعہ روس کے ایک بڑے لیڈر نے چیکو سلواکیہ کے ایک لیڈر سے بہت پیار بھرے انداز میں پوچھا کہ تم روسیوں کو اپنا دوست سمجھتے ہو کہ بھائی۔ چیک لیڈر نے جواب دیا کہ روسی ہمارے بھائی ہیں کیونکہ دوست تو انسان اپنی مرضی سے بناتا ہے۔بہرحال طاہر تونسوی بھی سادہ لوحی کی حد تک مخلص آدمی تھا اور مجھے استاد اور شاگرد میں اگر کوئی قدر مشترکہ نظر آتی ہے تو وہ یہی خلوص تھا۔ (جاری ہے)

جاری

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleمظہر عباس کا تجزیہ : کیا بانی پی ٹی آئی ’مایوس‘ ہیں
Next Article سہیل وڑائچ کا کالم : گھمن گھیری!!
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام

اپریل 30, 2026

ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 30, 2026

پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا

اپریل 30, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام اپریل 30, 2026
  • ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 30, 2026
  • پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا اپریل 30, 2026
  • سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی اپریل 29, 2026
  • عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 29, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.