ضمیر بھی عجب چیز ہے۔ کسی خاص سسٹم کے تحت جاگتا ہے اور اشارہ نہ ہو تو سویا رہتا ہے۔ اعلیٰ شخصیات، حکام اور افسران کا…
Browsing: ّعاصمہ شیرازی
ہم کہ وہ مسافر جو اُلٹے پاؤں سفر میں ہیں۔ انتخابات کے نام پر چُنتخابات اور عوام کے نام پر خواص کے فیصلے پچھتر برسوں کا…
میدان سج چُکا ہے، کھلاڑی کھیلنے کو تیار ہیں، کوئی ایک پلیئر ہمیشہ کی طرح میدان سے باہر ہے۔ امپائر کریز پر موجود جبکہ سیٹی بج…
یقین ہے کہ غیر یقینی کا خاتمہ آٹھ فروری کے بعد ہو جائے گا، بے یقینی ہے کہ یقین ہی نہیں ہونے دیتی۔ یقین ہے کہ…
ریشم کے دھاگے ببول میں اُلجھ جائیں تو سلجھ نہیں سکتے اور یہاں تو ایسے گُنجل ہیں کہ سلجھائے نہ سُلجھیں۔ دلدل گہری ہے اور ریاست…
ہم دیوار کے پیچھے کھڑے ہیں اور آسمان نظر میں لانے کی جستجو ہے۔ بند گلی میں ہیں مگر نگاہیں منزل پر جمانے کی کوشش، ہم…
اچانک کچھ نہیں ہوتا۔ زلزلہ آنے سے پہلے زمین کے نیچے بچھی لکیریں کروٹ لیتی ہیں، چٹانوں سے سرکتے پتھر کبھی یونہی نہیں جگہ چھوڑتے، یہ…
ہر گزرتا دن تاریخ بن رہا ہے۔ تاریخ بھلا کب رُکی ہے، کوئی کتنا ہی بدلنے کی کوشش کرے مگر کوئی ایک سچ ہزار جھوٹ کے…
تاریخ کی عدالت میں انصاف کٹہرے میں ہو تو منصف آزاد کیسے ہو سکتے ہیں۔ غلط فیصلوں کا بوجھ قوم اُٹھا رہی ہے مگر اب شاید…
کیا لکھیں وہ جو مقبول ہے یا وہ جو سچ ہے۔۔۔ سچ پر پروپیگنڈا کا غلبہ ہو تو لکھا ہوا مقبول ہوتا ہے مگر سچ نہیں…
