کوئل کو کوے کی اور بکری کو شیر کی آواز نکالنے کو کہا جائے تو کیا ہو گا؟ ہاتھی کو بندر اور لومڑ کو گھوڑا بنا…
Browsing: ّعاصمہ شیرازی
انکشافات کے موسم میں روایات کسے یاد رہتی ہیں۔ غلام گردشوں میں پلنے والے سیاست کو بھی باندی ہی سمجھتے ہیں جبکہ خواہشات کے طلسمات اخلاقیات…
بہار رخصت ہوئی اور پھر خزاں ہے۔ موسموں کے اثرات بھی کیا رنگ دکھاتے ہیں۔ بے مہر شامیں، بے نور صبحیں اور بے رنگ موسم، عجب…
فلسطین میں قتل ہوتے بچوں، عورتوں، جوانوں، بزرگوں کی تصویریں اور بچ جانے والوں کی ملول آہیں عالمی ضمیر نامی چیز پر احساس کے کچوکے لگا…
نیرنگ خیال میں کوئی تو اچھوتی بات ہو! وہی پرانے مضامین، وہی پرانے اوراق تاریخ بدل بدل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ پرانے نعرے نئے لفظوں…
شرط ہار پر لگی ہو تو جیتنا آسان ہے مگر اس جیت کو فتح تصور کرنا ایک اور شکست۔۔۔ ہم مشروط زندگیاں جینا سیکھ گئے ہیں…
جنگ کا ایک اور بٹن آن ہو چکا ہے۔ طبلِ جنگ بج چکا ہے۔ کیا اب کی بار کسی آغاز کا انجام ہے یا کسی انجام…
سچ ڈھونڈا نہیں جاتا بلکہ سچ کا ادراک کیا جاتا ہے۔ کیا وطن عزیز میں سچ ڈھونڈنے کے لیے واقعتاً کسی کمیشن کی ضرورت ہے؟ پاکستان…
گزشتہ چند برسوں کی سیاست میں کچھ ہوا یا نہیں مگر لفظ ’بیانیے‘ اور ’ایک صفحے‘ کا سیاسی لغت میں اضافہ اور پھر بھرپور استعمال ضرور…
طاقت اور اختیار کے بیچ اصل امتحان ظرف کا ہے۔ اختیار ظرف کے تابع ہو تو طاقت سرنگوں رہتی ہے۔ نو مارچ 2007 کی خوشگوار دوپہر…
