ہماری گھڑیاں اُلٹی چلتی ہیں یا قدم پیچھے کی طرف اُٹھتے ہیں، زمانہ آگے یا ہم بے نشان منزلوں کے راہی؟ وقت رفتار سے دور، نبض…
Browsing: ّعاصمہ شیرازی
ہم جہاں کل کھڑے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ وقت بدلا حالات بدلے مگر ہم نہیں بدلے۔ خاص طور پر پاکستان میں میڈیا کے حالات…
سوال ہی سوال ہیں اور جواب نہ ملیں تو سوال الجھن بن جاتے ہیں، الجھن سلجھے نہ تو چبھن۔۔۔ اپریل 22 سے قبل جو کچھ ہوا…
جناب! میں ایک سیاسی رہنما ہوں جسے تبدیلی کے دور میں ایک صفحے کی حکومت کے لیے بنایا گیا۔ میرے خدوخال کو موقع پرستی سے سجایا…
ہواؤں کے مزاج سے آشنا بادبان رُخ موڑنے میں دیر کہاں لگاتے ہیں، نازک مزاج پرندے موسموں کی ادا کے ساتھ ہی پرواز کے لیے پر…
منظر، پس منظر اور پیش منظر کا عکاس ہے، پس دیوار اب نوشتہ دیوار بن رہا ہے اور عکس معکوس ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ نو…
بے نشان منزل کے مسافروں کی مسافت کہاں کم ہوتی ہے اور بے مکاں مکین کب سائبان رکھتے ہیں، مقام مقیم کے لیے اور زمان زمین…
پاکستان انتہائی دلچسپ دور سے حال ہی میں گُزرا ہے اور شاید اب بھی گُزر رہا ہے۔ ایسا دلچسپ دور کہ جسے تاریخ میں ’دور مزاحیہ‘…
دیوار پر لرزتے غیر واضح ہیولے تصور سے دور ہیں اور تصویر بنانے کی بجائے محض سائے بڑھا رہے ہیں۔ الجھنیں اور بے یقینی ابتری کو…
ریاست اندھی، گونگی، بہری نہیں ہوتی۔ ریاست آنکھوں سے دیکھ سکتی ہے اورآنکھیں نکال بھی سکتی ہے، کانوں سے سُن سکتی ہے اور کانوں میں سیسہ…
