کیا جو کچھ ہو رہا ہے ایسا ہی ہونا تھا، اس ہونے سے پہلے بھی تو کچھ ہوا ہو گا؟ اور اس ہونے کے بعد نہ…
Browsing: ّعاصمہ شیرازی
صحافی کے قلم اور منصف کے فیصلے کی گواہی تاریخ دیتی ہے اور تاریخ کے کٹہرے میں احتساب بھی ہے اور انصاف بھی، جزا بھی ہے…
گزشتہ رات ایک اور طیارہ کراچی اُترا ہے، اس طیارے میں پاکستان کے ایک نامور جنرل کی میت تھی، جنرل بھی وہ جس نے پاکستان کے…
’کانٹے بوئے ببول کے تو آم کہاں سے کھائے۔‘ اب جب کانٹوں کی فصل تیار ہے تو ہاتھ کون لگائے۔ کانٹے بونے والے دامن بچا رہے…
ہاں، نہیں، کیوں، کیوں کر، کیسے اور پھر مگر۔۔۔ موجودہ حالات چونکہ چنانچہ کی لایعنی بحث میں اُلجھ گئے ہیں۔ بند گلی ہے، راستہ ہو تو…
دیومالائی کہانیوں کے غیر حقیقی کردار اس لیے تشکیل کئے جاتے تھے کہ اُنھیں کوئی چھو نہ سکے مگر اس قدر حقیقی رنگ ان میں بھر…
یہ احساس بھی عجب چیز ہے جو گوشت کے لوتھڑے کو دل اور بے حس کو صاحبِ دل بناتا ہے۔ احساس الفاظ میں ڈھلے تو تحریر…
سال کے کیلینڈر پر فقط تاریخ بدلتی ہے حالات نہیں، بارہ مہینوں پر مشتمل سالنامہ تاریخوں میں لپٹی خواہشات کب بتا سکتا ہے؟ موجود لمحے آنے…
گزرا سال بھی کیسا سال تھا، اُمید، نا اُمیدی، آس اور یاس، وصال اور ملال کے درمیان یہ سال بھی گزر ہی گیا۔ سیاست میں ہنگامہ…
ستارے کی آہٹ کے بغیر صحرا کا سفر منزل سے دور کر دیتا ہے، سحر کا ستارا کیا جانے تیرگی میں روشنی کے معنی کیا ہیں۔…
