جان عزیز! آج بہت دنوں بعد تم سے روبرو بات ہوئی۔ تمہارا خوبرو چہرہ دیکھنے کو ملا اور کانوں میں تمہارے رس گھولتے الفاظ… دیکھا اکیسویں…
Browsing: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
کھوے سے کھوا چھل رہا ہو، بے ہنگم ٹریفک ہر طرف سے ابل رہی ہو، موٹر سائیکل سوار بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوں، چلتی گاڑیوں کی…
“ لڑکیوں کا بھلا کیا کام کہ باپ کی جائیداد کے حصے بخرے کریں اور بھائیوں کے منہ کو آئیں۔ ارے وہی تو ان کا میکہ…
ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ ہوا کے دوش پر کہیں بہت دور سے کسی بھولے بسرے گیت کے ٹوٹے پھوٹے بول ہم تک آ پہنچیں…
اپنی بیماری کی تشخیص تو ہم نے کر رکھی ہے اور اس کی تفصیل آپ کو بتانے سے بھلا کیا ہچکچاہٹ؟ لیکن یہ بھی تو ہو…
دیکھو فرض کیے لیتے ہیں کہ… ارے بھئی اب ایسا منہ نہ بناؤ، فرض تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے …ہاں کچھ بھی، جو بھی…
دن گزرتے جا رہے ہیں۔ بوسیدہ یادیں وقت کی دھول میں زندہ رہنے کے لئے مچل رہی ہیں۔ ماضی کے اجلے چہروں کے خطوط کبھی دھندلاتے…
پرائیویٹ پریکٹس ایک گورکھ دھندا ہے جو تین لوگوں کے مفاد کے گرد گھومتا ہے، ہسپتال، ڈاکٹر اور مریض۔ بدقسمتی سے مفاد کی ترتیب بھی یہی…
آج جی چاہتا ہے کہ آپ کا امتحان لیا جائے۔ ارے ارے گھبرائیے نہیں، نہ کوئی طویل پرچہ ہے اور نہ ہی کچھ اور، بس دو…
خدا جھوٹ نہ بلوائے، کم وبیش تیس برس ہو گئے ہسپتالوں میں زندگی بسر کرتے مگر رہے ہم وہی بدھو کے بدھو۔ ہسپتالوں کا قصہ کچھ…
