تین مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 23 مارچ 1978 کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی کے تختے نصب ہوئے۔ شام ڈھلے تین مجرموں کو پھندے سے لٹکایا گیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے پانچ لاکھ افراد موجود تھے جن کے فلک شگاف نعروں سے لاہور گونج رہا تھا۔ مجرموں کی لاشیں لٹکتی رہیں اور اندھیرا ہونے کے بعد اتاری گئیں۔ یہ ناٹک قوم کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کا اہتمام تھا۔
Browsing: وجاہت مسعود
جمہوریت میں دائیں اور بائیں بازو کے دھارے اپنی مخصوص ترجیحات سے قطع نظر جائز سیاسی رجحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم مذہبی سیاست سے مراد…
2014 کا برس تھا۔ اپریل کی 22 تاریخ تھی۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوئے دو دن گزرے تھے۔ اسی ادارتی صفحے پر بے خبر صحافی…
استاد من، برادر بزرگ، پروفیسر امین صاحب مغل، عالم ہمہ داں، تفقہ فی العصر، تفقہ فی السان، تفقہ فی الادب، حضرت بعد ایک طویل مدت کے…
ہمارے برادر بزرگ ڈاکٹر فرید پراچہ کا مسئلہ وہی ہے جو ان کے بہت سے ہم صفیر صاحبان زہد و اتقا کا ہے۔ برادر بزرگ سے…
لاہور میں کل بسنت تھی ۔ گلی کوچوں میں خوشیوں کے رنگ بکھرے ۔ گھروں کی چھت پر لڑکے بالوں کی آواز میں مسرت اور جشن…
ؤدو روز پہلے، شام دبے پاﺅں بڑھی آتی تھی۔ سارے میں دھند اور بادلوں نے چھاﺅنی بچھائی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتیں…
کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کی رات بھڑکنے والی آگ میں اموات کی تعداد دو درجن سے زیادہ…
21 مئی 1947 کو رائٹرز کے نمائندے ڈون کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے جہاں عوام کی حاکمیت اعلیٰ کا اصول…
بٹوارے سے پہلے ہندوستان کے کچھ شہروں نے رنگ و رامش میں نام پایا تھا۔ انگریز حکومت کا صدر مقام کلکتہ صحافت کا پہلا مرکز تھا۔…
