Browsing: وجاہت مسعود

تین مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سرعام پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 23 مارچ 1978 کو کیمپ جیل لاہور کے باہر پھانسی کے تختے نصب ہوئے۔ شام ڈھلے تین مجرموں کو پھندے سے لٹکایا گیا تو یہ منظر دیکھنے کے لیے پانچ لاکھ افراد موجود تھے جن کے فلک شگاف نعروں سے لاہور گونج رہا تھا۔ مجرموں کی لاشیں لٹکتی رہیں اور اندھیرا ہونے کے بعد اتاری گئیں۔ یہ ناٹک قوم کو بھٹو صاحب کی پھانسی کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنے کا اہتمام تھا۔