Browsing: وجاہت مسعود

صاحبان ذی وقار کہتے ہیں کہ 2010 میں طے پانے والا قومی مالیاتی ایوارڈ نظرثانی کا محتاج ہے۔ یہ مالیاتی ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے بندھا ہے جس میں ریاست نے 1973 میں کیا گیا صوبائی خود مختاری کا وعدہ 37 برس کی تاخیر سے پورا کیا تھا۔ ساتویں قومی فنانس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 43 فیصد اور صوبوں کا حصہ 57 فیصد کر دیا گیا۔

پاکستان میں آئندہ کئی نسلوں تک اسی طبقے کی ذریات حکومت کریں گی جس نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر ایسے وسائل جمع کر لیے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم دلا سکتے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد پاکستان واپس نہیں آئے گی۔ جو تھوڑے بہت یہاں لوٹیں گے انہیں محمد شعیب، معین قریشی، شوکت عزیز اور باقر رضا جیسے موسمی پرندوں میں شمار کیجیے۔

پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی دنیا میں پانچویں اور معیشت 40 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ترقی میں پاکستان 193 ملکوں میں 168 ویں نمبر پر ہے۔ 1574 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان 145 ممالک میں 121 ویں نمبر پر ہے۔

مختار ریڈیو سے ٹیلی ویژن پر چلے آئے تھے مگر دل کی پرانی لگن بے طرح لاگو ہو رہی تھی۔ ٹیلی ویژن کے بابو لوگ از قسم ضیا جالندھری، مسعود نبی نور ریڈیائی تکنیک کے استاد مختار صدیقی کا ہنر کیسے سمجھتے۔

1914کے موسم بہار میں ویانا کا ایک نوجوان مصنف اسٹیفن زیوگ فرانس کے ایک تھیٹر گھر میں فلم دیکھ رہا تھا۔ اچانک کسی تکنیکی خرابی سے سکرین پر جرمنی کے شہنشاہ ولہلم دوم کی تصویر نمودار ہوئی۔ لمحوں میں تمام تماشائی عورتوں اور بچوں سمیت نفرت انگیز نعرے لگاتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اسٹیفن زیوگ خوفزدہ ہو گیا۔ اسے پہلی بار معلوم ہوا کہ جنگی جنون میں اچھے بھلے انسان کس پاگل پن پر اتر آتے ہیں۔

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ نے’ نظریہ پاکستان اور نصابی کتب ‘کے عنوان سے ایک تین روزہ سیمینار منعقد کیا جس میں پاکستان بھر سے اسلام پسند دانشور مدعو کیے گئے۔ اس مذاکرے میں صرف جسٹس حمود الرحمن، پروفیسر حمید احمد خان اور انتظار حسین کو سچ بولنے کی توفیق ہو سکی۔ پروفیسر وارث میر کی تقریر تو مذہبی منافرت کا شاہکار تھی۔

اپریل 2022 کے بعد آنے والی تبدیلیاں عمران خان کے سیاسی حیطہ خیال سے ماورا ہیں۔ عمران خان تو آج بھی مقتدرہ کے دریوزہ گر ہیں لیکن ان کے حامی نوجوانوں کی اکثریت اس تاریخی پس منظر سے واقف ہے اور نہ اس کے فکری پہلو سمجھتی ہے۔ ان کی نظر میں عمران خان کو مسیحا نہ سمجھنے والا ہر پاکستانی لبرل اور گردن زدنی ہے۔