Browsing: وجاہت مسعود

ہ برسوں ان کی ڈاکٹریٹ کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ اٹھارہ برس تک لیکچرر کے گریڈ میں رکھا گیا۔ ڈاکٹر مہدی کی تصانیف پڑھ کر امتحان پاس کرنے والے ان کے ممتحن قرار پاتے تھے۔ پاکستان کے تنخواہیہ طبقے میں ایسی کم ظرفی کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔

دنیا کی بہترین جمہوری ریاستوں میں بھی صحافت ایک نیم تاریک منطقہ ہے۔ خبر گھڑی جاتی ہے۔ خبر دبائی جاتی ہے۔ کہیں صحافی خبر بنتا ہے تو کہیں اخبار پہ دباؤ آتا ہے۔ اگلے روز برادر بزرگ نے کالم کی صنف پر خیال افزا نثر کا ایک ٹکڑا عطا کیا اور پھر اپنے مخصوص Understatement انداز میں بہت سی مثبت اور خوشگوار خبروں کی لین ڈوری باندھ دی۔

میٹرو، لارڈز، شیزان ، وائی ایم سی اے ، پاک ٹی ہاؤس ، ٹولنٹن اور ناصر باغ ….اور ہاتھ بھر کے فاصلے پر کرشن نگر کی گلیاں ۔ اس راستے کی کون سی اینٹ ہے جسے انتظار حسین کے سجل پاؤں نصیب نہیں ہوئے۔ خاک کا اتنا چمک جانا ذرا دشوار تھا…. یہاں کون سی عمارت ہے جسے انتظار حسین نے بیتے ہوئے لاہور کی تصویر بنا کے نہیں رکھ دیا۔ کوئی ٹھیلے والا ایسا نہیں ، یہاں کوئی پان فروش ایسا نہیں جسے انتظار حسین نے محبت کی آنکھ سے نہ دیکھا ہو اور اسے ایک گزر تے ہوئے عہد کا جیتا جاگتا کردار نہ بنا دیا ہو۔