ملتان : ڈرامہ نگارخلیل الرحمان قمر کے بعد ہنی ٹریپ کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔جس میں ملتان کے سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر فیصل رضا قیصرانی امبر نامی خاتون کے جھانسے میں آگئے۔ڈاکٹر فیصل رضا قیصرانی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر امبر نامی خاتون کو نازیبا تصاویر ڈیلیٹ کرنے کے عوض 5 لاکھ روپے بھی ادا کیئے۔
تاہم خاتون کا کہنا تھا کہ میں 50 لاکھ روپے سے کم پر رضامند نہیں ہونگی۔باریش ڈاکٹر دوسری مرتبہ بھی خاتون سے ملے مگر انہیں کم از کم 20 لاکھ روپے ادا کرنے کا کہا گیا۔پولیس رپورٹ کے مطابق خاتون نے ملازمت کے بہانے سی ای او ہیلتھ سے ملاقات کی۔اور نازیبا حرکات بھی کیں۔جن کی تصاویر اور وڈیو بنا لی گئی۔
ڈاکٹر فیصل قیصرانی کے مطابق 20 جولائی کو خاتون کے ساتھ انکی ملاقات الفلاح مارکیٹ میں ہوئی تھی۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ خاتون نے نامعلوم ساتھیوں کے ہمراہ ڈاکٹر فیصل کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیا تھا۔انہیں بوتل پلائی گئی اور وہ بیہوش ہو گئے تھے۔3 گھنٹے کے بعد ہوش آیا تو وہ گاڑی سمیت حسن آباد گیٹ نمبر 1 پر تھے۔گاڑی میں 90 ہزار روپے نقد 40 ہزار روپے مالیت کی عینک،گھڑی اور شناختی کارڈ نہیں تھا۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر فیصل قیصرانی سے دوسری ملاقات میں 23 جولائی کو 5 لاکھ روپے وصول کیئے گئے تھے۔ملزمان میں پلوشہ المعورف امبر،محمد آصف اور دیگر شامل ہیں۔
فیس بک کمینٹ

