Uncategorized

چمن میں طویل ترین دھرنے اور تین ہلاکتوں کے بعد دوسرے رو ز بھی ہنگامے

چمن : بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں دوسرے روز بھی صورتحال کشیدہ رہی جبکہ فائرنگ اور پتھراﺅ سے مزید دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔گذشتہ روز افغانستان سے متصل چمن میں سرحد کی بندش کے خلاف احتجاج کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون سمیت کم از کم تین افراد ہلاک اور 13 افراد زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ ان پر سکیورٹی فورسز نے براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے۔ جبکہ بلوچستان کے وزیر داخلہ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔چمن ہسپتال کے ایک سینئیر اہلکار نے بتایا کہ ’آج ہسپتال میں دس افراد کو لایا گیا جن میں سے پانچ افراد کو گولیاں لگی تھیں۔‘اہلکار کے مطابق جن پانچ افراد کو گولیاں لگیں ان میں سے چار افراد کو چمن میں طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
ہسپتال کے اہلکار کے مطابق پانچ افراد پتھر لگنے سے زخمی ہوئے تھے جن میں لیویز فورس کے اہلکار شامل تھے۔
افغان بارڈر کے قریب دھرنا
چمن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعے کی صبح کے وقت مظاہرین کی ایک بڑی تعداد جمع ہوئی اور پاکستان افغانستان بارڈر کے قریب دونوں ممالک کے درمیان شاہراہ پر دھرنا دیا۔اطلاعات کے مطابق اس دوران لیویز فورس کے اہلکاروں نے مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش کی جس کے دوران مظاہرین نے لیویز فورس کے اہلکاروں پر پھتراﺅ کرنے کے علاوہ ان کی ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کیا۔ پھتراﺅ سے لیویز فورس کے اہلکار زخمی ہوئے۔
مظاہرین نے قریب واقع قرنطینہ مرکز میں مزید توڑ پھوڑ بھی کی۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران مظاہرین پر فائرنگ سے پانچ مظاہرین زخمی ہوئے۔بعض ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گذشتہ شب دونوں ممالک کے سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا بھی تبادلہ ہوا تھا۔اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے لیکن تاحال پاکستانی حکام کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سرحد کی کشیدہ صورتحال کے جائزہ لینے کے لیے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو اور دیگر وزرا سرحدی شہر چمن کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔وہاں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس بھی ہوا جس میں سویلین اور فوجی حکام نے شرکت کی۔
مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
چمن سے سرحد کو کورونا کے باعث مارچ کے مہینے میں بند کیا گیا تھا۔
تاہم بعد میں اسے دوطرفہ تجارت، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو فورسز کی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا لیکن پیدل آمد و رفت پر پابندی کو برقرار رکھا گیا۔کورونا کے پیش نظر پابندی سے پہلے چمن سے ہزاروں تاجر اور مزدور روزانہ کی بنیاد پر کاروبار اور محنت مزدوری کی غرض سے افغانستان کے سرحدی علاقے میں جاتے اور آتے تھے۔پیدل آمد و رفت پر پابندی کو برقرار رکھنے کے خلاف چمن کے مقامی تاجروں اور مزدوروں نے یہاں کی تاریخ کا طویل ترین احتجاج شروع کیا جو کہ ڈھائی مہینے سے زائد کے عرصے سے جاری ہے۔سرکاری حکام کے مطابق عید پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستانی حکام نے سرحد کو دو دن کے لیے پیدل آمد و رفت کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ افغان شہری عید منانے کے لیے افغانستان جاسکیں اور وہاں سے پاکستانی شہری پاکستان آسکیں۔حسب معمول تاجر اور مزدوراحتجاج کی غرض سے سرحد کے قریب جمع ہوگئے تھے جس پر انھیں سیکورٹی فورسز نے بتایا کہ وہ وہاں سے دور ہوجائیں تاکہ سرحد کو افغانستان جانے والوں کے لیے کھول دیا جائے۔
تاہم جمعرات کو جب تاجروں اور مزدوروں نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کیا تو اس میں تاخیر ہوئی جس پر افغانستان جانے والے لوگ اشتعال میں آگئے اور سرحد پر لگی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker