جنرل ضیاء الحق شیخ خاندان کے قریب سمجھے جاتے تھے، کیونکہ چیف آف آرمی اسٹاف مقرر ہونے سے کچھ عرصہ قبل وہ کور کمانڈر ملتان کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ وہ 2 جنوری کو مغیث شیخ کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے ملتان پہنچے تھے۔ مزدوروں کے مطابق یہ باتیں گردش کر رہی تھیں کہ دلہن کے جہیز کی مالیت اُن کے بونس سے دس گنا زیادہ تھی جس کا وہ مطالبہ کر رہے تھے۔
حسن گردیزی اور جمیل رشید اپنی کتاب Pakistan: The Roots of Dictatorship میں لکھتے ہیں کہ ہڑتال شروع ہونے کے بعد 29 دسمبر سے مزدوروں نے فیکٹری کے فلور پر قبضہ جما رکھا تھا، تاکہ مل انتظامیہ کی جانب سے لاک آؤٹ کو روکا جا سکے۔ اسلم خواجہ اپنی کتاب People’s Movement in Pakistan میں لکھتے ہیں کہ 2 جنوری، یعنی سانحے کے دن، دوپہر کی شفٹ کی تبدیلی کے وقت جب مزدور یونین اجلاس کے لیے گیٹ پر جمع ہوئے تو پولیس نے اُن سے “غیر قانونی” ہڑتال ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران شادی کی تقریب میں مبینہ طور پر جنرل ضیاء الحق کو بتایا گیا کہ مزدور اُن کی موجودگی کی خبر سن کر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو چکے ہیں اور تقریب کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ 48 برس گزرنے کے باوجود راز ہی ہے: بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہوئے، کیونکہ خبروں کے مطابق پولیس نے فائرنگ کر دی۔ ہڑتال میں شامل اور اس واقعے سے متاثرہ افراد پُرزور انداز میں یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق نے ہی مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔
ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک معمہ بنی رہی، جس کے اعداد و شمار میں شدید تضاد پایا جاتا ہے — سرکاری طور پر 14 اموات بتائی گئیں، جبکہ یونینوں کے دعوے 200 سے زائد تھے۔ محققین اور مزدور کارکنوں کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ قبول تعداد 133 ہے، جو مزدوُر ایکشن کمیٹی نے مرتب کی تھی۔ یہ کمیٹی اس قتلِ عام کے بعد مقامی مزدور تنظیموں نے قائم کی تھی۔
سیاسی کارکن اور بائیں بازو کے نظریاتی کارکن لال خان کے مطابق، فائرنگ سے بچنے کی کوشش میں بھاگتے ہوئے کئی لوگ بھگدڑ میں کچلے گئے۔ جب فائرنگ شروع ہوئی تو مل کی رہائشی کالونی میں رہنے والے مزدوروں کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے کے لیے باہر آئے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ فائرنگ تین گھنٹے تک جاری رہی؛ شام چھ بجے تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔
( مطبوعہ۔۔ سنڈے میگزین 18 جنوری ۔۔ 2026 )
فیس بک کمینٹ

