ایک لطیف بات سے آج کے کالم کا آغاز کرتا ہوں۔ یہ سوشل میڈیا پر ہی کہیں پڑھا یا شاید یہ خود میرے ہی ذہن کی اختراع ہے کہ ساری دنیا اے آئی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر چل نکلی ہے، لیکن پاکستان ابھی تک آئی اے یعنی ان شاء اللہ پر ہی چل رہا ہے۔ یہ بات کہنے کے باوجود میں فلسفیانہ نقطۂ نظر سے اس سے متفق نہیں ہوں، کیونکہ میں اجتماعیت کا قائل ہوں اور دنیا کی اجتماعی ترقی میں پاکستان دنیا کا حصہ ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ نام نہاد ترقی یافتہ دنیا کی خام خیالی ہے کہ اپنی انفرادی ترقی سے وہ ہمیشہ 90 فیصد دنیا سے آگے رہیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب انسان آگے بڑھتا ہے تو سب آگے بڑھتے ہیں۔
محنت کشوں کے ابتر ترین حالات کے باوجود پاکستان اور دنیا بھر میں طبقاتی شعور بڑھ رہا ہے۔ یہ بات امریکہ اور یورپی ممالک جانتے ہیں اور یہ ان کے لیے خاصی پریشان کن ہے۔ اگلے سو برسوں کی منصوبہ بندی کر کے بیٹھنے والے جدید سائنس کی تیز رفتاری سے گھبرا رہے ہیں، کیونکہ اگلے ہی لمحے وہ ہو سکتا ہے جو کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو۔
نفسیات دان کہتے ہیں کہ مایوسی کے حالات میں ہمیں اپنے اردگرد کی لطافت اور خوبصورتی پر جان بوجھ کر نظر ڈالنی چاہیے۔ عام حالات میں ہم اپنے اردگرد موجود فطری حسن کو انجانے میں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کچھ دیر پہلے میں ایک جگہ ٹریفک جام میں پھنس گیا۔ اتنے میں دیکھا کہ ایک کیری ڈبے (پک اپ) کا انجن اسپیڈ بریکر پر بند ہو گیا۔ بیچارہ ڈرائیور اکیلا ہی دھکا لگانے کے لیے نکلا، لیکن اتنے میں چاروں طرف سے لوگ دوڑتے ہوئے اس کی مدد کو پہنچ گئے اور سب نے مل کر دھکا لگایا۔ پک اپ اسٹارٹ ہو گئی اور سب اپنے چہروں پر مسکراہٹیں لیے وہاں سے رخصت ہو گئے۔ ٹریفک جام کھل گیا۔ بس اتنی ہی دیر کی بات تھی۔
محنت کش فطری طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سرمایہ دار انہیں دھمکیوں کے ذریعے الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ وہ اجتماعی جدوجہد کر کے اپنے حالات نہ بدل سکیں۔ لیکن اس کے لیے بری خبر یہ ہے کہ محنت کشوں کا اتحاد بہت فطری ہے۔ اس کے پیچھے ہزاروں سال کی انسانی ہمدردی اور پرخلوص تعلقات کارفرما ہیں جن سے دو سو سال قبل جنم لینے والا خود غرض سرمایہ دار مکمل طور پر نابلد ہے۔
میں نے پچھلے کئی برسوں میں بہت سے کامریڈ بدلتے دیکھے ہیں۔ ان میں کراچی کے میرے ایک صحافی دوست بھی شامل ہیں، جن کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ میرے ساتھ ہونے والی ہر گفتگو میں مجھے حکامِ بالا سے ڈراتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھے میری بیروزگاری کے دن یاد دلاتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ مقتدر قوتیں مجھے دوبارہ بیروزگار کر سکتی ہیں، اس لیے میں کچھ بھی ایسا ویسا لکھنے یا بولنے سے اجتناب کروں۔
میں صرف واٹس ایپ استعمال کرتا ہوں اور انسٹاگرام پر اداکاراؤں کی تصاویر دیکھتا ہوں، لیکن وہ پھر بھی پریشان ہیں کہ میں کہیں کچھ ایسا نہ کہہ دوں جس سے ان کے اور ان کے محبوب حکمرانوں کے جذبات مجروح ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نظام پر عمومی بات کرنی چاہیے اور شخصیات کا ذکر نہیں کرنا چاہیے۔ میں یہ سوچنے لگا کہ کچھ ہی دیر پہلے انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی مجرم اور اسرائیل کو بحیثیت مجموعی امن پسند ریاست قرار دیا تھا، اور فرمایا تھا کہ نیتن یاہو کا انجام قریب ہے اور اسرائیلی عوام انہیں بہت جلد اقتدار سے محروم کر دیں گے۔
نظریاتی طور پر بدعنوان اور جھوٹے افراد خود اپنے بیانات کے تضادات سے پکڑے جاتے ہیں۔ میرے سابق کامریڈ نہیں چاہتے کہ میں موجودہ حکمران کے امریکہ کے ساتھ خوش آمدانہ تعلقات پر تنقید کروں بلکہ میں اسے ریاستِ پاکستان کی مجموعی حکمتِ عملی قرار دوں۔
آخر میں وینزویلا کی سیاسی رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کے نوبل انعام پر مختصر تبصرہ۔ ماریہ کورینا کا انعام، امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا تھا، کیونکہ پچھلے کئی ماہ سے وہ نوبل انعام کے حصول کے لیے کسی انتخابی مہم کی طرح کوششیں کر رہے تھے۔ لیکن ماریہ کورینا نے اپنا نوبل انعام ٹرمپ کے نام کر کے ان کی دلجوئی کر دی ہے اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اپنی برسوں پرانی وفاداری کی تجدید بھی کر دی ہے۔ یاد رہے کہ وہ وینزویلا میں بائیں بازو کی حکومت کو گرانے کی سازشوں میں امریکہ کے لیے ترپ کا پتا ہیں۔
ٹرمپ کا نوبل انعام سے محروم رہنا خود پاکستانی حکمرانوں کے لیے بھی مایوس کن ہے، کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے عین اس دن ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، جس دن امریکہ نے مبینہ طور پر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر فضائی حملہ کیا تھا۔
فیس بک کمینٹ

