Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
ہفتہ, دسمبر 6, 2025
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • صوبائی عصبیت قومی وحدت کے لیے خطرے کی گھنٹی : نوجوان مایوس کیوں ہیں ؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ
  • پاکستان اور افغان طالبان کے ایک دوسرے پرحملے کرنے کے الزامات
  • پیاس کے بحران سے دوچار ایران : وسعت اللہ خان کا کالم
  • نیا دور ، لفافہ صحافی اور چمچہ کوچوان : سہیل وڑائچ کا کالم
  • کیا مسلم لیگ ن اور نواز شریف ایک ہی ہیں؟ عطاء الحق قاسمی کا تجزیہ
  • فوج کسی ’ذہنی مریض‘ سے نہ گھبرائے : سید مجاہد علی کاتجزیہ
  • ذہنی مریض ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن گیا ہے : ترجمان پاک فوج
  • عشق آباد سے اشک آباد : ایک ناول جو لکھاریوں کو بھی پڑھنا چاہیے : باقر نجیب کا تبصرہ
  • سرائیکی وسیب کی جامعات اور فیکلٹی کی کمی : ایچ ای سی تاجروں کے ہتھے کیسے چڑھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تعلیمی کالم
  • امی جان اور ہجر کے 57 برس : دکھوں میں بھیگی ایک آواز کا احوال ۔۔ رضی الدین رضی کی جیون کہانی
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تازہ ترین»نصرت جاوید کا کالم : غیر محفوظ موبائل ڈیٹا کی قباحتیں
تازہ ترین

نصرت جاوید کا کالم : غیر محفوظ موبائل ڈیٹا کی قباحتیں

رضی الدین رضیفروری 27, 20258 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
nusrat javaid
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

امریکہ میں ٹرمپ کے وائٹ ہائوس لوٹ آنے کے بعد دنیا کسی بھی صورت ویسی نہیں رہے گی جس کے ہم کئی دہائیوں سے عادی ہوچکے ہیں۔ ’’نئی دنیا‘‘ کاآغاز کئی دانشوروں کی نگاہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد ہوا تھا۔ سرد جنگ ختم ہوئی تو دنیا نظر بظاہر سکڑ کر ’’عالمی گائوں‘‘ میں تبدیل ہوگئی اور پھر ہر جا پھیل گئے موبائل فون۔ ان میں فیس بک اور واٹس ایپ جیسی ایپس نصب ہوئیں تو گویا دور دراز شہروں اور قصبات میں مقیم ہرشخص ہمارا ’’ہمسایہ‘‘ بن گیا۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ ہمسائیگی انسانوں کے مابین روحانی فیصلوں کو ختم کرنے میں ناکام ہوئی۔ اس سوال پر غور کریں تو جواب نفی میں ملتا ہے۔ دنیا سکڑی تو بلکہ انسانوں کو ایک دوسرے کے بہت قریب آکر اپنی جداگانہ شناخت کا مزید احساس ہونا شروع ہوگیا۔ انسان کی اصل بیماری ہی اس کا احساسِ ’’انفرادیت‘‘ ہے۔ اسی باعث آپ کو پرانے دیہاتوں میں ایک دوسرے کے ’’خاندانی ویری‘‘ کثیرتعداد میں نظر آتے ہیں حالانکہ محدود قطعہ زمین پر نسلوں سے قریب رہنے کی وجہ سے ان میں الفت وقربت کے رشتے گہرے ہونا چاہئیںتھے۔ وائٹ ہائوس میں ٹرمپ کی آمد در حقیقت اس ’’نئی دنیا‘‘ کے خاتمے کا اعلان ہے جو سردجنگ کے اختتام پر نمودار ہوئی تھی۔ انفرادیت قوم پرستی میں بدل کر انسانوں کو ’’عالمی ذمہ داریوں‘‘ سے بیگانہ بنارہی ہے۔ عالمی ذمہ داریوں سے بے اعتنائی کے سبب ہی 2022ء کے اپریل سے روس کی یوکرین کے خلاف جنگ جاری ہے۔ ہزاروں لوگ اس کی وجہ سے مارے گئے۔ لاکھوں بے گھر ہوکر غیر ملکوں میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ بے تحاشہ تباہی کے باوجود جنگ بندی کے امکانات ابھرے تو ہیں مگر وہ بنیادی طورپر ’’جارح‘‘ کے حق میں جاتے نظر آرہے ہیں۔
اکتوبر2023ء سے غزہ کی پٹی بھی مستقل ظلم کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ وہاں نسلوں سے آباد فلسطینیوں کی مدد کوئی ملک کر نہیں پایا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہائوس پہنچ کر بھی جو ’’امن فارمولا‘‘ سوچا ہے وہ غزہ کو فلسطینیوں سے پاک کرنا چاہ رہا ہے۔ نہایت سفاکی سے یہ ’’نہ بانس رہے نہ بانسری‘‘ والا رویہ ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کو نکال کر ٹرمپ وہاں جدید ترین سہولتوں سے مالا مال ایک بستی بسانا چاہتا ہے جہاں دنیا کے امیر ترین لوگ ’’سمندر کے کنارے زندگی کا لطف اٹھائیں گے۔‘‘ اس کا فارمولا ابھی تک ظلم کا نشانہ بنے فلسطینیوں نے قبول نہیں کیا۔ وقتی طورپر جنگ اگرچہ تھم گئی ہے۔ دائمی امن کا حصول مگر ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔
یوکرین اور غزہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد قائم ہوئی ’’نئی دنیا‘‘ کی تباہی کا بدترین مظہر ہیں۔ انتشار ابتری مگر دنیا میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے۔ یورپ کئی صدیوں تک نئی ایجادات وخیالات کا مرکز رہا۔ ان دنوں بے بس ہوا قرون وسطی میں لوٹتا نظر آرہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی زندگی بہت اداس ہے۔ کئی آمرانہ حکومتیں بھگتنے کے باوجود ہمارے ہاں زندہ دل مزاحمت کے رحجانات بھی اپنی جگہ برقرار رہے۔ گزشتہ چند برسوں سے وہ رویہ بھی ختم ہونا شروع ہوگیاہے۔ حکمرانوں میں برداشت باقی نہیں رہی۔ اپوزیشن جماعتیں کثیر تعداد کی حمایت کے باوجود کوئی قابل عمل حکمت عملی بنانے میں ناکام ہیں۔ ابتری کے موجودہ ماحول کو میں اس کالم میں کسی ایک واقع پر توجہ دیتے ہوئے نام نہاد ’’بگ پکچر‘‘ کی جانب بڑھنا چاہتا ہوں۔ رات سونے سے قبل جو موضوع طے کررکھا ہوتا ہے صبح اٹھتے ہی غیر متعلقہ محسوس ہوتا ہے۔ آج بھی کسی اور موضوع پر لکھنا تھا مگر گھر کی خبر لینا ضروری سمجھتا ہوں۔
بدھ کی صبح چھپے کالم میں آپ نے مصطفیٰ نامی نوجوان کے قتل کا ذکر سنا ہوگا۔ مبینہ طورپر اسے ارمغان نامی نوجوان نے بے دردی سے قتل کیا۔ مصطفیٰ اور ارمغان قریبی دوست ہوا کرتے تھے۔ شنید ہے کہ 2024کی آخری رات ایک لڑکی کی وجہ سے ان کے مابین تلخی ہوئی۔ اس تلخی کے بعد ارمغان نے اسے اغواء کرلیا۔ اغواء کرنے کے بعد وہ ظالم شخص ’’ٹاس‘‘ کرکے یہ فیصلہ کرتا رہا کہ مصطفیٰ کو جان سے مارا جائے یا نہیں۔ بدقسمتی سے ٹاس مصطفیٰ کے خلاف آتا رہا۔ ارمغان نے ’’ٹاس‘‘ ہی کی وجہ سے شدید زخمی مگر زندہ مصطفیٰ کو کراچی سے حب لے جاکر نذرِ آتش کردیا۔ بات رقابت سے شروع ہوکر ایک ہولناک قتل تک پہنچی ہوتی تو میں اسے نظرانداز کردیتا۔ مذکورہ قتل کے بعد نمایاں ہوئے واقعات نے مگر حیران کررکھا ہے۔ 7جنوری 2025ء کو ’’لاپتہ‘‘ ہوا مصطفیٰ ’’مقتول‘‘ کی صورت برآمد ہوا تو اس کے مبینہ قاتل کی گرفتاری کے لئے کراچی پولیس۔ متحرک ہوئی۔ قاتل ایسے گھر میں مقیم تھا جہاں ’’کال سنٹر‘‘ بھی چلایا جاتا ہے۔ یہ کال سنٹر مگر ’’ڈبہ‘‘ تھا جس کا حقیقی مقصد امریکہ اور یورپ میں مقیم بوڑھوں کے کریڈٹ کارڈ اور بینک اکائونٹس کی تفصیلات جمع کرکے انہیں ہتھیانا تھا۔ ’’ڈبہ‘‘ کال سنٹرفقط کراچی تک ہی محدود نہیں ہیں۔ لاہور اور فیصل آباد کے اکثر ’’سنٹر‘‘ بھی ایسی وارداتوں میں شامل ہیں۔ موبائل فون کا حامل ہر پاکستانی بھی اب ان کے نشانے پر ہے۔
آپ میں سے اکثر کوایسے فون نمبروں سے کال آتی ہوگی جو آپ کے پاس محفوظ نہیں ہیں۔ آپ اٹھاکر ہیلو کہیں تو وہ آپ کو نام لے کر پکاریں گے۔ ان کا تعلق کسی نہ کسی دھندے سے ہوگا۔ وہ اسے ’’مارکیٹ‘‘ کرنا چاہ رہے ہوں گے۔ آپ اکثر غصے میں ایسی کالز سے جان چھڑالیتے ہیں۔ یہ مگر شاذہی سوچا ہوگا کہ آپ کو کسی دھندے میں پیسہ لگانے کی جانب راغب کرنے والے نے آپ کو نام لے کر کیوں پکار اہے۔ میں اکثر اس کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ موبائل کمپنیوں کے پاس اپنے صارفین کا جو ڈیٹا ہے وہ محفوظ نہیں۔ اسے چرانے کے بعد فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی باعث آپ کے فون پر جب اجنبی فون آتا ہے۔ آپ ہیلو کہتے ہیں تو دوسری طرف سے آپ کو ’’نصرت صاحب بات کررہے ہیں؟‘‘ کہا جاتا ہے۔آپ کے موبائل سے جمع شدہ معلومات کو Dataکہا جاتا ہے۔ اس پر اجارہ داری کی بدولت ’’ذہن سازی‘‘ ہوتی ہے۔اس ’’ذہن سازی‘‘ نے کئی ملکوں میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے۔خانہ جنگی کو ہوا دی۔’’ذہن سازی‘‘ کے ’’کارنامے‘‘ سامنے آئے تو امریکی کانگریس میں طویل تحقیقات ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں فیس بک کو اپنے ہاں پوسٹ ہوئے مواد پر نگاہ رکھنے کو ’’چوکیدار‘‘ بٹھانے پڑے۔ ٹرمپ کی آمد کے بعد مگر ان چوکیداروں کی ’’آزادی اظہار‘‘ کے نام پر فراغت ہوچکی ہے۔ جو کبھی ٹویٹر کہلاتا تھا ان دنوں ایلان مسک کی ملکیت ہے۔ وہ اس پلیٹ فارم کو انتہائی بے دردی سے اپنے خیالات کے فروغ کے لئے استعمال کررہا ہے۔ یورپی یونین نے چونکہ ابھی تک انٹرنیٹ کے متعدد پلیٹ فارموں پر ’’چوکیدار‘‘ بٹھارکھے ہیں۔ اسی باعث ایلان اور اس کا دوست ٹرمپ مل کر یورپی یونین کی تباہی کو ڈٹے ہوئے ہیں۔ اتنی بڑی لڑائی کے پس منظر میں ہمارے ہاں قائم ہوئے کال سنٹرز کے ذریعے جو رحجانات فروغ پارہے ہیں وہ ہمیں مصطفیٰ اور ارمغان جیسے نوجوان ہی عطا کریں گے۔ جبکہ ہمارے دانشور ہمیں سمجھاتے رہے کہ ہمارے ہاں کاBulge Youth پاکستان کو بدل کررکھ دے گا۔ جن سے خیر کی امید تھی وہ ٹاس کرکے دوستوں کو زندہ جلارہے ہیں۔
(بشکریہ:روزنامہ نوائے وقت)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

کالم گردوپیش نصرت جاوید
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleوزیر اعظم شہباز شریف کے پاکستان سے زیادہ اثاثے بیرون ملک ہیں: رپورٹ
Next Article سابق طالب علم رہنما اور دانش ور فاروق تسنیم لاہور میں انتقال کر گئے
رضی الدین رضی
  • Website

Related Posts

ماں کا جانا ۔۔ دو گھروں کا سانجھا غم، دو دلوں کا ایک سا نوحہ : شزاد عمران خان کا پرسہ

دسمبر 1, 2025

آؤٹ آف فیشن صحافت اور سہراب برکت کی گرفتاری : حامد میر کا کالم

دسمبر 1, 2025

میڈیا پر نظر انداز ہوئی آئی ایم ایف کی رپورٹ : نصرت جاوید کا کالم

نومبر 25, 2025

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • صوبائی عصبیت قومی وحدت کے لیے خطرے کی گھنٹی : نوجوان مایوس کیوں ہیں ؟ شہزاد عمران خان کا تجزیہ دسمبر 6, 2025
  • پاکستان اور افغان طالبان کے ایک دوسرے پرحملے کرنے کے الزامات دسمبر 6, 2025
  • پیاس کے بحران سے دوچار ایران : وسعت اللہ خان کا کالم دسمبر 6, 2025
  • نیا دور ، لفافہ صحافی اور چمچہ کوچوان : سہیل وڑائچ کا کالم دسمبر 6, 2025
  • کیا مسلم لیگ ن اور نواز شریف ایک ہی ہیں؟ عطاء الحق قاسمی کا تجزیہ دسمبر 6, 2025
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2025 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.