رضی الدین رضی اور وجاہت مسعود پاکستان کے پسماندہ اور بے ترتیب معاشرے میں دو سلجھے ہوئے اہلِ قلم ہیں۔ ملتان میں کئی سال گزارنے کے بعد مجھے رضی بھائی ہی واحد شخص ملے جن سے میں نے مستقل رہنمائی لی اور علم حاصل کیا۔ 2025 رضی بھائی کے لیے بہت سے نئے واقعات اور سانحات کا سال ثابت ہوا۔ اسی برس وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائر بھی ہوئے لیکن اس ریٹائرمنٹ سے انہیں کوئی خاص فرق نہ پڑا انہوں نے پبلشنگ کا دفتر قائم کیا ، بک کلب کو مزید فعال کیا اور اشاعتی سرگرمیوں اور ادھوری کتابوں کی تکمیل میں مصروف گئے ۔ نومبر میں ان کی والدہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ وہ ان دنوں اپنی والدہ کی رخصت کے ناقابلِ تلافی صدمے سے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ پچھلے پندرہ دنوں میں دو مرتبہ لاہور تشریف لائے اور میری خوش قسمتی ہے کہ انھوں نے دونوں مرتبہ مجھے لاہور آ کر ملاقات فون کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی ۔ یہ ملاقات اس وقت مزید خوبصورت ہو گئی جب مجھے لاہور میں ان کے علاوہ ممتاز دانشور، ادیب، استاد اور کالم نگار جناب وجاہت مسعود سے ملنے کا موقع بھی ملا۔ آج ان دونوں شخصیات کے ساتھ ایک طویل علمی نشست رہی جس میں ہم نے پاکستان کے صحافتی، ادبی، سیاسی اور تاریخی امور پر سیر حاصل گفتگو کی۔
اہلِ علم کے ساتھ ایک نشست کتاب پڑھنے کے برابر ہوتی ہے، اور مجھے لگا کہ آج میں نے کئی کتابوں کا مطالعہ کر لیا ہے۔ وجاہت بھائی نے پاکستان کے پیچیدہ معاشرتی ماحول اور اس کی پسماندگی کے اسباب پر بھرپور روشنی ڈالی۔ واپس آتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ اس مجلس کا لبِ لباب قارئین کے سامنے پیش کروں۔ اسے میں ایک کہانی کی صورت میں بیان کرنا چاہوں گا۔
چودہ اگست 1947 کو دو ہم شکل جڑواں بھائیوں کی شادی دو ہم شکل جڑواں بہنوں سے ہو گئی۔ شادی کرانے والے بڑوں نے سوچا کہ ایک بھائی چونکہ آزاد خیال، یعنی “لبرل”، ہے تو اس کی شادی آزاد خیال دلہن سے کر دی جائے، اور دوسرا بھائی چونکہ مذہبی ہے، اس کے لیے قدامت پسند دلہن مناسب رہے گی۔
بدقسمتی سے شادی کے بعد جوڑوں کے ہم شکل ہونے کی وجہ سے انتہائی احتیاط کے باوجود مغالطہ پیدا ہو گیا اور دلہنیں بدل گئیں۔ اس حادثے کا انکشاف شادی کے کچھ عرصے بعد ہوا۔ غلطی درست کر دی گئی اور دونوں دلہنوں کو اپنے اپنے اصل دلہوں کے پاس بھیج دیا گیا۔
اس واقعے پر آزاد خیال جوڑے کو تو کچھ خاص فرق نہ پڑا، لیکن مذہبی جوڑا پریشان ہو گیا کہ آیا یہ عرصہ ان دونوں نے گناہ میں گزارا ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے علما سے مشورہ کیا، جنھوں نے انھیں تسلی دی کہ چونکہ یہ سب لاعلمی میں ہوا ہے، اس لیے اس کا گناہ نہیں ہوا، لیکن پھر بھی احتیاطاً اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جائے اور مستقبل میں دوبارہ ایسا نہ ہونے کی کوشش کی جائے۔مولانا مقوی باہ نے انہیں اس حوالے سے ایک مجرب سوہنا حلوہ بھی دیا اور تحریری فتوی بھی عنایت کر دیا ۔
بدقسمتی سے دونوں دلہنیں اس دوران حاملہ بھی ہو گئیں، لیکن علما نے فتویٰ دیا کہ چونکہ یہ سب لاعلمی میں ہوا ہے، اس لیے بچے حلال پیدا ہوں گے۔ تاہم احتیاطاً توبہ کر لی جائے اور آئندہ ایسی صورتِ حال سے بچنے کی کوشش کی جائے۔
جب بچے پیدا ہوئے تو مذہبی بھائی نے اپنے گھر پیدا ہونے والے بچے کو اپنا نام دینا چاہا۔ اس پر لبرل بھائی نے احتجاج کیا کہ چونکہ بچے کا حیاتیاتی والد وہ ہے، اس لیے مذہبی جوڑا اس کا بچہ اسے دے اور اپنا بچہ اس کے گھر سے لے جائے۔ یہ جھگڑا بڑھتے بڑھتے عدالت تک پہنچ گیا۔
عدالت کے پاس ایسا مقدمہ پہلے کبھی نہیں آیا تھا، اس لیے وہ خود بھی شدید کنفیوژن کا شکار ہو گئی۔ مقدمہ چلتا رہا، دن گزرتے رہے، اور بچے کسی نہ کسی طرح پلتے رہے۔ اس غیر یقینی صورتِ حال نے بچوں کو بھی شدید تذبذب اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا۔
بچے بڑے ہو گئے، ان کی شادیاں ہو گئیں، لیکن کنفیوژن برقرار رہی۔ کون کس کا بچہ ہے؟ کسے وراثت میں کون سا نظریہ ملے گا؟ آیا وہ مذہبی ہوں گے یا لبرل؟ اسی کنفیوژن کے باعث ایک عرصے تک کوئی واضح لائحۂ عمل نہ بن سکا۔
مذہبی بھائی کا خاندان اگرچہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، لیکن اس کا اثر و رسوخ لبرل بھائی سے زیادہ تھا۔ اس کے باوجود جب بھی لبرل بھائی کے خاندان کو موقع ملتا، وہ فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کرتا۔ اسی کشمکش میں کئی نسلیں گزر گئیں، یہاں تک کہ ایک پوری کنفیوژن زدہ قوم تیار ہو گئی۔
کئی نسلیں گزر جانے کے بعد بالآخر قوم کچھ نتائج پر ضرور پہنچ گئی۔ یہ کہ وہ نہ مکمل طور پر مذہبی ہے اور نہ مکمل طور پر لبرل، بلکہ ایک ہائبرڈ قوم ہے۔ وہ مذہب اور آزاد خیالی دونوں سے حسبِ موقع فائدہ اٹھاتی ہے۔ جہاں ناچنا ہو گا، وہاں ناچے گی، اور جہاں عبادت یا مذہبی چہرہ دکھانا ہو گا، وہاں وہی چہرہ سامنے آئے گا۔
کنفیوژن پھر بھی قائم رہے گی، اور کبھی کبھی کھیل کے میدان میں باجماعت نماز اور سجدے بھی کرنے پڑیں گے۔ نیو ایئر نائٹ پر جس سے جتنی آزاد خیالی ہو سکے گی، وہ کرے گا، اور احساسِ گناہ ہونے پر علما کے دروازے ہمیشہ کھلے ملیں گے، جو سائل کی اور اپنی سہولت کے مطابق کوئی نہ کوئی قابلِ قبول حل پیش کر دیں گے۔
ان نتائج کے باوجود اس کنفیوژن زدہ قوم میں کچھ اقلیتی طبقات بھی پیدا ہو گئے۔ ایک مذہبی انتہا پسند طبقہ، جو دہشت گردی تک بھی جا سکتا ہے۔ دوسرا لبرل انتہا پسند طبقہ، جس کی زندگی مذہب دشمنی سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔
اسی معاشرے میں اکا دکا لوگ رضی الدین رضی اور وجاہت مسعود جیسے بھی ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ ہمیں آگے بڑھنے کے لیے اس کنفیوژن کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن شاید ایسا کرنا ان کے بس میں نہیں۔
ایک طبقہ، جو ہم سب سے زیادہ چالاک ہے یا خود کو چالاک سمجھتا ہے، وہ ہے جو اس کنفیوژن سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ یہ کنفیوژن اور اس کے باعث پیدا ہونے والے مسائل ہمیشہ قائم رہیں، تاکہ وہ تا قیامت طاقت اور اقتدار کے مزے لوٹتا رہے۔ اسے مختلف ممالک اور اداروں سے خصوصی امداد بھی دی جا رہی ہے تاکہ ان کی قوتِ مردم شناسی میں اضافہ ہو اور وہ قومی بیانیے کے استحکام میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔
فیس بک کمینٹ

