ڈاکٹر اشو لال سرائیکی شعر و ادب کا وہ معتبر حوالہ ہیں جنہوں نے نظم اور افسانے میں نئے اسالیب، تازہ موضوعات اور مقامیت کے منفرد ذائقوں کو یکجا کر کے سرائیکی شاعری کو ایک ہی جست میں عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ ان کی تخلیقی کائنات میں ایک جداگانہ ڈکشن اور مخصوص استعارتی نظام کارفرما ہے جس کے ذریعے وہ وادیٔ سندھ اور تھل کے صحرائی ماحول سے علامتیں، تشبیہیں، کنایے اور تلازمے اخذ کر کے سرائیکی شاعری کو عالمگیریت عطا کرتے ہیں۔ کروڑ ضلع لیہ میں پیدائش ۔۔ جہاں ایک جانب دریائے سندھ اور دوسری جانب تھل کا صحرا ہے—ان کی جمالیات اور فکری ساخت پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں دریا اور صحرا کی تہذیب و ثقافت کی پرچھائیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
اشو لال کے ہاں دریا محض پانی کی روانی نہیں بلکہ تاریخ، یادداشت اور زندگی کی مسلسل تجدید کی علامت ہے۔ دریائی منظرنامہ ان کے یہاں حرکت، نمو اور تسلسل کا استعارہ بنتا ہے۔ وہ دریا کو کبھی ماں کی طرح شفیق، کبھی استاد کی طرح حکیم اور کبھی وقت کی طرح بے رحم دکھاتے ہیں۔ اس طرح دریا ان کے ہاں صرف قدرتی عنصر نہیں رہتا بلکہ ایک فکری و تہذیبی قوت بن جاتا ہے جو فرد اور سماج دونوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں موجوں کی آوازیں، کناروں کی خاموشیاں اور پانی کی چمک انسانی تجربے کے مختلف پہلوؤں کی ترجمانی کرتی ہیں ۔۔۔جیسے امید، بے قراری، انتظار اور مکالمہ۔
اس کے برعکس صحرا اشو لال کے ہاں سکوت، وسعت اور آزمائش کی علامت ہے۔ تھل کی ریت میں چھپی کہانیاں ان کے تخیل کو وہ وسعت دیتی ہیں جس میں تنہائی بھی ہے اور صبر بھی۔ صحرا ان کے یہاں محض بنجر پن نہیں بلکہ ریاضت، خود احتسابی اور بقا کی جدوجہد کا استعارہ ہے۔ وہ ریت کے ذروں میں تاریخ کے نقوش اور انسانی عزم کی دھڑکن سناتے ہیں۔ ان کی نظموں میں صحرا کا پھیلاؤ انسانی وجود کے سوالات—میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟ کہاں جانا ہے؟—کو کائناتی سطح پر اٹھاتا ہے۔
ڈاکٹر اشو لال کی ایک بڑی فنی خصوصیت ان کا استعارتی نظام ہے جو مقامیت سے جڑ کر عالمگیریت کی طرف بڑھتا ہے۔ وہ مقامی اشیاء—کنویں، بیل گاڑیاں، کچے راستے، کھجور کے درخت، اور دریائی کشتیاں—کو ایسی علامتوں میں ڈھالتے ہیں جو عالمی قاری کے لیے بھی بامعنی ہو جاتی ہیں۔ یہی ان کی شاعری کی قوتِ نفوذ ہے کہ مقامی تجربہ آفاقی سچائی میں ڈھل جاتا ہے۔ ان کے ہاں کنایہ اور اشارہ صرف جمالیاتی آرائش نہیں بلکہ فکری جہت بھی رکھتے ہیں؛ ہر تصویر ایک سوال اٹھاتی ہے اور ہر استعارہ ایک مکالمہ شروع کرتا ہے۔
ان کی نظم نگاری میں ڈکشن کی تازگی اور صوتی آہنگ نمایاں ہے۔ سرائیکی زبان کی لوچ، مٹھاس اور داخلیت ان کے یہاں نئی توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ زبان کے مقامی ذخیرے کو جدید حسیت کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے ایک ایسا لہجہ بنتا ہے جو نہ صرف روایت سے رشتہ قائم رکھتا ہے بلکہ معاصر انسان کے اضطراب اور جستجو کو بھی آواز دیتا ہے۔ ان کے اشعار میں لَے اور ترنم کے ساتھ ساتھ فکری گہرائی بھی موجود ہے، جو قاری کو محض محظوظ نہیں کرتی بلکہ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔
اشو لال کی نظموں میں مقامی دانش—لوک حکمت، دیہی تجربہ اور صدیوں کی تہذیبی بصیرت—واضح طور پر جھلکتی ہے۔ وہ لوک روایت کو جدید شعری شعور میں جذب کر کے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو نہ تو محض ماضی پرست ہے اور نہ ہی جڑوں سے کٹا ہوا جدیدیت پسند۔ ان کے ہاں روایت اور تجدد کا یہ امتزاج سرائیکی شاعری کو ایک نئی شناخت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظم نگاری میں ایک طرف دھرتی کی خوشبو ہے اور دوسری طرف کائناتی وسعت۔
غرض یہ کہ ڈاکٹر اشو لال کے کلام میں دریائی اور صحرائی تہذیب کی عکاسی محض منظر نگاری نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی مکالمہ ہے۔ وہ لیہ کے جغرافیے کو اپنی شاعری کے وسیلے سے عالمی معنویت میں بدل دیتے ہیں۔ ان کی نظم نگاری مقامیت سے عالمگیریت کی طرف سفر کرتی ہے—جہاں دریا زندگی کی روانی بن جاتا ہے اور صحرا انسانی عزم کی علامت۔ یہی ان کی شاعری کی اصل قوت ہے اور یہی انہیں سرائیکی ادب کا ایک معتبر اور ممتاز حوالہ بناتی ہے۔
فیس بک کمینٹ

