اگر یہ مان لیا جائے کہ کسی اچانک روحانی بیداری کے نتیجے میں عوام نے موجودہ ٹریفک قوانین پر سو فیصد عملدرآمد شروع کر دیا ہے، سگنل پر رکنا فخر بن گیا ہے، ہیلمٹ سر پر ایسے جما ہے جیسے شادی میں سہرا، لائسنس جیب میں ایسے سنبھال کر رکھا جاتا ہے جیسے شناختی کارڈ، تو پھر ایک نہایت سنجیدہ مسئلہ جنم لیتا ہے کہ ٹریفک پولیس آخر کرے گی کیا؟ آخر محکمے بھی تو بجٹ، کارکردگی اور فائلوں میں نمبرز مانگتے ہیں۔ چالان اگر ختم ہو جائیں تو سیٹی کی آواز کس کام آئے، رسیدی بلاک کس الماری میں دھول کھائے اور وہ مخصوص گھورنے والی نظر کس پر آزمائی جائے؟ چنانچہ اگلا منطقی قدم یہی ہوگا کہ قوانین کو ایک نئے، زیادہ تخلیقی اور قدرے فلسفیانہ مرحلے میں داخل کیا جائے۔
سب سے پہلے نشانہ بنے گا موٹر سائیکل سوار، کیونکہ یہ طبقہ تجربات کے لیے ہمیشہ دستیاب رہتا ہے۔ ہیلمٹ چونکہ اب عام ہو چکا ہے، اس لیے اگلی شرط یہ ہوگی کہ موٹر سائیکل چلاتے وقت گھٹنوں پر کرکٹ پیڈ پہننا لازم ہوگا۔ دلیل نہایت سائنسی دی جائے گی کہ حادثے کی صورت میں صرف سر ہی نہیں، گھٹنے بھی مستقبل کے منصوبوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ پیڈ نہ پہننے پر چالان، اور اگر پیڈ پہنے ہوں مگر قومی ٹیم کے لوگو کے بغیر ہوں تو بھی چالان، کیونکہ حب الوطنی میں کمی بھی ایک خطرہ ہے۔
اس کے بعد باری آئے گی بازوؤں کی۔ حکومت کی نئی تحقیق کے مطابق کہنیوں کا کردار ڈرائیونگ میں بنیادی ہے، لہٰذا دونوں بازوؤں پر سیف گارڈ پہننا لازم ہوگا۔ اگر ایک بازو محفوظ اور دوسرا غیر محفوظ پایا گیا تو آدھا چالان، اور اگر دونوں محفوظ ہوں مگر رنگ موٹر سائیکل سے میچ نہ کرے تو فیشن قوانین کی خلاف ورزی پر پورا چالان۔ آخر شہر کی خوبصورتی بھی تو کسی چیز کا نام ہے۔
پھر جوتوں کا باب کھلے گا۔ اب تک عوام یہ سمجھتے رہے کہ جوتا پہننا ذاتی پسند ہے، مگر نئے قوانین کے مطابق جوتا گیئر اور بریک کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ اگر گیئر لگاتے وقت جوتے سے آواز زیادہ آئے تو سمجھا جائے گا کہ جوتا غیر معیاری ہے۔ چپل پہننے والوں کے لیے خصوصی رعایت ہوگی کہ انہیں پہلے تنبیہ دی جائے گی، پھر تصویر لی جائے گی، اس کے بعد چالان ہوگا تاکہ وہ اس عمل کو یادگار بنا سکیں۔
ہیلمٹ چونکہ سر کو بچاتا ہے، اس لیے سوال اٹھے گا کہ گردن کا کیا قصور ہے۔ یوں ہیلمٹ کے ساتھ گردن کے لیے حفاظتی کالر لازمی قرار پائے گا، بالکل ویسا جیسا اسپتال میں مریضوں کو لگایا جاتا ہے۔ اگر کالر سفید نہ ہوا تو چالان، کیونکہ سفید رنگ حفاظت اور نیت کی صفائی کی علامت ہے۔ اگر کالر قمیص کے اندر چھپایا گیا تو اضافی جرمانہ، کہ حفاظتی سامان کی تذلیل کی گئی ہے۔
اب آتے ہیں خاندانی معاملات کی طرف۔ اگر موٹر سائیکل پر بیوی اور بچے بٹھائے گئے ہیں تو لائسنس کے ساتھ ساتھ ان کے شناختی کاغذات بھی لازم ہوں گے۔ وارڈن کو مکمل اختیار ہوگا کہ وہ شک کی بنیاد پر پوچھ سکے کہ یہ واقعی آپ کی بیوی ہے یا کسی اور کی، اور بچے کہیں ادھار کے تو نہیں۔ بچے کے لیے ب فارم، بیوی کے لیے شناختی کارڈ اور اگر ساس بھی ساتھ ہوں تو نکاح نامے کی فوٹو کاپی طلب کی جا سکتی ہے، تاکہ رشتوں کی قانونی حیثیت واضح رہے۔
اگر کوئی موٹر سائیکل سوار اکیلا جا رہا ہو تو بھی سکون کا سانس نہ لے۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اکیلے کیوں جا رہے ہیں؟ کہیں معاشرتی ذمہ داریوں سے فرار تو اختیار نہیں کر رہے؟ ایسی صورت میں ایک تحریری بیان لیا جائے گا کہ موصوف وقتی طور پر تنہائی پسند ہیں۔ بیان دینے سے انکار پر چالان ہوگا۔
سگنل پر رکنا اب کافی نہیں ہوگا، رکنے کا انداز بھی پرکھا جائے گا۔ اگر موٹر سائیکل ذرا سی بھی ترچھی کھڑی ہو تو یہ توازن کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی۔ پاؤں زمین پر رکھنے کا زاویہ اگر نوے ڈگری نہ ہوا تو جرمانہ، کیونکہ غیر متوازن پاؤں حادثے کی دعوت دیتے ہیں۔
ہارن بجانے کے بھی ضابطے آئیں گے۔ اگر ہارن کی آواز بہت زیادہ جذباتی ہوئی تو چالان، اور اگر بہت مدھم ہوئی تو بھی، کیونکہ اس سے دوسرے ڈرائیور کی توجہ متاثر ہو سکتی ہے۔ مخصوص سُر میں ہارن بجانا لازم ہوگا، جو ٹریفک پولیس کے تربیتی ادارے سے منظور شدہ ہوگا۔
رفتار کے بعد چہرے کے تاثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ رفتار درست مگر چہرے پر مسکراہٹ زیادہ ہوئی تو شبہ ہوگا کہ ڈرائیور ضرورت سے زیادہ پراعتماد ہے۔ اگر چہرہ بالکل سنجیدہ ہے تو چالان اس بنیاد پر کہ ڈرائیونگ سے لطف نہیں اٹھایا جا رہا، جو شہری کے بنیادی حق کے منافی ہے۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھنے والے کے لیے بھی اخلاقی اصول طے ہوں گے۔ اگر بچہ زیادہ اچھل رہا ہو تو والدین پر چالان ہوگا کہ بچے کو ٹریفک شعور نہیں دیا گیا۔ اگر بچہ بالکل خاموش ہو تو شک ہوگا کہ کہیں وہ اداس تو نہیں، اور اس اداسی کا ذمہ دار ڈرائیور ہے۔
یوں اگر عوام تمام موجودہ قوانین پر مکمل عملدرآمد بھی کر لیں تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ قوانین ہمیشہ ایک قدم آگے رہیں گے، چالان کا عمل کبھی رکے گا نہیں، کیونکہ چالان محض جرمانہ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، ایک روایت ہے، جسے زندہ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیٹی بجتی رہے گی، رسید کٹتی رہے گی، اور قانون اپنی پوری شان سے مسکراتا رہے گا۔
فیس بک کمینٹ

